کپاس کے مستقبل بارے چند تجاویز

A woman is reading inside a huge Bible at night under the stars.

کپاس کے مستقبل بارے چند تجاویز
ساجد محمود
تجارتی لحاظ سے دنیا میں چار قسم کی کپاس کاشت کی جاتی ہیں جن میں امریکن کپاس، مصری کپاس،دیسی کپاس اور افریقن کپاس شامل ہیں۔ دنیا کی مجموعی پیداوار کا90فیصد امریکن کپاس سے حاصل ہوتا ہے اسی طرح مصری کپاس 8فیصدجبکہ 2فیصد دیسی کپاس اور افریقن کپاس بھی تقریبا ً2فیصد رقبہ پر کاشت کی جاتی ہیں۔اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو ہمارے ہاں تقریبا ً 98فیصد رقبے پر امریکن کپاس اگائی جا رہی ہے جبکہ تقریبا ً 2فیصد رقبہ پردیسی کپاس کاشت کی جاتی ہے۔ اس وقت ہماری کپاس کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے جن میں موسمیاتی و ماحولیاتی تغیرات، درجہ حرارت میں اضافہ،پانی کی کمی،غیرمعیاری ور ناخالص بیج،ملاوٹ شدہ کھادیں،جعلی زرعی زہریں، زرعی مداخل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ،مناسب سپورٹ پرائس کا نہ ہونا،کیڑے مکوڑوں خاص کر سفید مکھی اور گلابی سنڈی کے حملہ سے فصل کا نقصان، بجلی و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور دیگر کچھ عوامل ایسے ہیں جن کی بدولت کپاس کی فصل منافع بخش نہ ہونے کے باعث ہمارا کاشتکار کپاس کو چھوڑ کر دیگر فصلات یعنی کماد،دھان اور مکئی کی فصلات پر منتقل ہورہا ہے۔ مذکورہ مسائل
تقریبا ً ہرفورم پر ڈسکس کئے جاتے ہیں۔ اگر یہاں ایک ایک ایشو پر بات کی جائے تو مضمون کی طوالت کا ڈر ہے اسی لئے چند ایک اہم ترین بنیادی مسائل کو ہی زیر بحث لایا گیا ہے کہ جن میں بہتری لا کر ہم کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں ریکارڈ اضافہ کر سکتے ہیں۔
سب سے پہلا مرحلہ تو کپاس کے تحقیقاتی اداروں کی تشکیل نو اور تنظیمی ڈھانچے میں ازسرنو تبدیلیاں لانا ہیں۔ اس وقت کپاس کے مرکزی تحقیقاتی ادارے کومالی اور انتظامی طور پر بدترین مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن کا فوری حل ڈھونڈنابہت ہی ضروری ہے۔ کپاس کے تحقیقاتی اداروں اور کپاس کے محققین پر جب تک سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی انہیں مالی مشکلات کی دلدل سے نہیں نکالا جائے گا تو اس وقت تک تحقیق کے مثبت نتائج کی امید لگانا غلط
ہوگا۔اس وقت فوری طور پر کپاس کے زرعی ماہرین کے لئے گزشتہ کئی سالوں سے محروم ا یڈہاک ریلف اور ریسرچ الاؤنسز کی بحالی وفراہمی بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کپاس کے سائنسدانوں کے لئے سروس اسٹرکچر کی تشکیل،کے پی آئی کا ضابطہ کار اور سالہا سال سے ترقیوں سے محروم کاٹن ایکسپرٹس کے معاملات ترجیحی بنیادوں پرحل کرنا ہوں گے۔تحقیقاتی اداروں میں ایک دہائی سے زائد موجو د درپیش انتظامی مسائل جن میں کلیدی پوسٹوں پر آفیسران کی عارضی تقرریوں کی مستقل تعیناتی اور افرادی قوت کی کمی پورا کرنے کے لئے سینکڑوں خالی آسامیوں کی فی الفور بھرتی کا عمل شروع کیا جانا اہم ہے۔ یاد رہے تحقیق ایک طویل المدتی عمل کا نام ہے جس کے فوری ثمرات نظر نہیں آتے۔ چولہے پر رکھا ہوا گرم سرخ توا پانی کے چھینٹوں سے اس وقت تک ٹھنڈا نہیں ہوگا جب تک چولہے کے نیچے جلتی آگ کو نہ بجھایا جائے۔ اسی طرح آپ کپاس کے مسائل کے جتنے بھی حل ڈھونڈتے رہیں یہ اس وقت تک با آور ثابت نہ ہوں
گے جب تک کپاس کے تحقیقی اداروں اور ان میں کام کرنے والے محققین کے بنیادی مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جاتا۔
کپاس کی پیداوار میں اضافے کا دوسرا اہم مسئلہ سیڈ ٹیکنالوجی کا ہے۔کپاس کے سب سے بڑے تحقیقاتی ادارے پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے پاس کپاس کا سب سے بہترین بریڈنگ میٹیریل موجود توہے لیکن ہمیں پرانی ٹیکنالوجی چھوڑ کر فوری طور پر نئے جین فراہم کرنے والی بین الاقوامی کمپنیوں سے بیج کی جدید ٹیکنالوجی لینا ہوگی تاکہ ہم اس ٹیکنالوجی کو اپنی مقامی کپاس کی اقسام کے ساتھ استعمال میں لاکر کپاس کے کیڑے مکوڑوں خاص کر سفید مکھی اور گلابی سنڈی کے تدارک،گلائفوسیٹ رزسٹینس، کھادوں کے کم سے کم استعمال اورزیادہ درجہ حرارت اور کم پانی میں کامیاب کپاس کی اقسام اپنے کاشتکاروں کو دے
سکیں۔کپاس کی نئی سیڈ ٹیکنالوجی سے نہ صرف کپاس کی فی ایکڑ پیداور میں اضافہ ممکن ہو سکے گا بلکہ کاشتکاروں کے لئے فصل بھی منافع بخش ثابت ہوگی۔نئی
سیڈ ٹیکنالوجی کی بدولت کپاس کی فصل کے اخراجات میں نمایاں کمی آنے اور فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ سے کاشتکار کپاس کی فصل کی طرف دوبارہ
بخوشی لوٹ آئیں گے۔
کپاس کی پیداوار بڑھانے میں تیسرا بڑامسئلہ کراپ زوننگ قوانین پر پوری طرح عملدرآمدکا نہ ہونا ہے۔ کپاس کی تباہی کی اصل وجہ کاٹن زون میں مقرر کردہ رقبہ سے زائد پرگنے،دھان اور مکئی کی فصلات کی کاشتکاری ہے۔ کاٹن زون میں ملٹی کراپنگ سسٹم نے کپاس کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔کچھ طاقتور اور با اثر خاندانوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر کراپ زوننگ قوانین کی عملداری کو مفلوج بنا کر کاٹن زون میں غیر قانونی طور پر نئی شوگر ملوں کے قیام سے اپنی دولت کے انبار جمع کئے اور ملکی خزانے کو کافی نقصان پہنچایا۔کپاس کے مرکزی اضلاع میں شوگر ملوں کے قیام سے نہ صرف کپاس کے زیرکاشت رقبہ میں نمایاں کمی آئی بلکہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث مرکزی علاقہ جات میں پیدا ہونی والی کپاس کی کوالٹی بھی کافی متاثر ہوئی۔یاد رہے کپاس کی اچھی پیداوار کے لئے زرخیز اور میرا بھربھری نرم زمین بہت اہم ہے لیکن جب ایسی زرخیز زمینوں میں کپاس کی بجائے گنے کی فصل کاشت کی جائے گی تو اس سے نہ صرف زیر زمین پانی کی سطح اوپر آنے سے زمین کی زرخیزی میں کمی آئے گی بلکہ پانی کا بھی کافی ضیاع ہوگا۔ گنے کی فصل کو کپاس کی فصل کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ پانی
کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہمیں پہلے ہی پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ اس لئے کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئے کراپ زوننگ قوانین پر عملدرآمد بہت ضروری
ہے۔
کپاس کے زیر کاشت رقبہ کو بڑھانے کیلئے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے بعض اضلاع پر بھی ہمیں فوکس کرنا ہوگا جوموسمیاتی اعتبار سے کپاس کی فصل کے
لئے کافی موزوں ہیں۔ان علاقہ جات میں کپاس کی کاشت اور جننگ فیکٹریوں کے قیام سے کپاس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح ہمیں موسم کی غیر یقینی صورتحال،غیر متوقع بارشوں، سیلاب اوردرجہ حررات میں اضافہ سے متعلق محکمہ موسمیات کو جدید آلات سے لیس کرنا ہوگا تاکہ کپاس کے کاشتکارموسمیاتی پیش گوئیوں کو سامنے رکھ کر پنی فصل کی مناسب حکمت عملی اپنا سکیں جبکہ کپاس کے تحقیقاتی اداروں کے ماہرین کوکپاس کے کیڑے مکوڑوں اور مختلف بیماریوں کے حملوں سے کاشتکاروں کوبروقت خبردار کرنے اور مناسب تدابیر اختیار کے لئے جدید پیشگی اطلاعی ماڈلز پر بھی اپنی تحقیقات کو
استوار کرنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com