سوشل میڈیااور ہم

سوشل میڈیااور ہم
نوریہ مدثر
سوشل میڈیا اس زمانے کے بدلتے اندازوں میں نت نئے سازوں کے بیچوں بیچ ایسا راگ ہے جو اس وقت اوج کمال پہ ہے۔تقریبا ہر بالغ و نابالغ انسان اس سے اچھی طرح واقف ہے۔آج ہر گھر میں ایسے سوشل افراد موجود ہیں جن کے لئے ان کے فون سے اہم کچھ نہیں۔ مائیں زچ ہو کہ کہتی ہیں کہ”آگ لگے اس فون کو“…”اللہ کرے یہ ٹوٹ جائے“…”کبھی تو اسے چھوڑ دیا کرو“…”یہ نرا فساد ہے فساد“…پر مجال ہے موصوف یا موصوفہ فون چھوڑ کے یہ سوچیں کہ نہ فون ہوتا نہ خواریاں ہوتیں،آخرسوچیں بھی کیوں؟ ان ”سوشل“افراد کے لئے ہر دن فیس بک، انسٹاگرام پہ نت نئی سٹوریز اپ لوڈ کرنا، سنیپ چیٹ کے نت نئے فلٹرز استعمال کرنا،واٹس ایپ کا سٹیٹس،ٹویٹر پہ ری ٹویٹ کرنا اتنا ضروری ہے جیسے انسان کے زندہ رہنے کے لئے سانس لینا۔
سوشل میڈیا ایسی شیطان کی آنت ہے جس پہ کئی گھنٹوں تک وقت صرف کر کے بھی انسان اسے چند منٹ ہی گردانتا ہے۔کچھ لوگوں کے نزدیک سوشل ہونا اس لئے ضروری ہے کہ یہ اکیسویں صدی ہے جہاں دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے۔بجا فرمایا پر یہ بھی یاد رکھئے کہ مرغ پہلے بھی حلال تھا اور آج بھی حلال ہی ہے۔آج سے پہلے بھی سچ ہی صحیح تھا اور جھوٹ ہی غلط تھا۔جھوٹ صرف گھڑنے کی حد تک نہیں ہوتا بلکہ کسی خبر کے تصدیق کئے بنا اسے آگے پہنچانا بھی ہوتا ہے۔بنا تصدیق کئے کسی خبر کو آگے پہنچانا ایسا عمل ہے جو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ناپسند کیا ہے مگر آج ہم جذبہ ایمانی سے سرفراز ہوتے ہوئے بھی سوشل میڈیا پہ کتنی ہی خبریں آگے پھیلاتے ہیں۔ستم تو یہ ہے کہ وہ خبریں سچائی سے بھی کوسوں دور ہوتی ہیں۔جھوٹ پھیلانا ہرگز ہرگز بہتر عمل نہیں۔آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے ہزاروں سال قبل ہی آگاہ کردیا تھا کہ جھوٹ جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور آج مزید غور کریں تو سمجھیں گے کہ سوشل میڈیا پہ نمود و نمائش نے جہاں احساس کمتری کو ہوا دی ہے وہیں جرائم کی طرف جانے کا راستہ مزید آسان بھی کیا ہے۔مثلاً فلاں دوست نے آج اپنی فلاں چیز کی تصویریں لگائی ہیں، فلاں کے پاس یہ ہے، فلاں، فلاں جگہ گیا ہے، فلاں کپل کتنا اچھا ہے، فلاں بھائی کتنے اچھے میسج کرتے ہیں۔ہائے آگ لگے ان سب فلاں فلاں کو۔جن سے متاثر ہو کر اپنے حقیقی رشتوں میں دڑاڑیں پڑنے لگیں ہیں۔اپنوں سے زیادہ اعتبار پر غیروں پہ ہونے لگا ہے۔اس فریب کاری نے اپنے پاس موجود نعمتوں کو بے مایہ کر دیا ہے۔اس چکا چوند کو دیکھا دیکھی خود وہ سب پانے کی خواہش نے جرائم کو آسان کر دیا ہے۔
مزید برآں کہ اس سوشل میڈیا کے چکر میں پڑھائی کا حرج اچھا خاصا ہوا ہے۔وہ ہاتھ جنہیں چاند ستارے چھونے تھے،اپنے تخیل میں رنگ بھرنے تھے، مستقبل کے خواب سجانے تھے، وہ کچے ذہن وقت سے پہلے بالغ ہو کے اپنے اخلاقیات کھو بیٹھے ہیں۔فیک آئی ڈیز کا چکر اغوا،خود کشی جیسے اقدامات تک لے جا چکا ہے۔ ایسے واقعات کسی سے مخفی نہیں۔یہ کتنا عجیب ہے نا کہ کہنے کو یہ ”سوشل“افراد ہیں پر خود اپنے پاس بیٹھے شخص کی ذہنی و دلی کیفیت سے بے خبر ہیں۔اُن غیروں کی پریشانی، دکھ کو اپنے گلے سے لگانا اور اپنوں کے لئے دو حرف تسلی کے بھی نہ ہونا کیسا گورکھ دھندہ ہے۔
چونکہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔تو سوشل میڈیا کے کئی مثبت رخ بھی ہیں جن میں سب سے بہتر معلومات کی فراہمی ہے۔ کسی شخص کو کچھ معلوم کرنا ہو یاسیاسی،ملکی، سماجی حالات سے متعلق معلومات فوری درکار ہوں تو صرف ایک کلک پر دستیاب ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ Power of media can make hero a zero and zero a hero راشد خان چائے والے کی مثال سامنے ہی ہے گزشتہ سال پھل سستے کرو مہم بھی سامنے کی بات ہے۔ حتی کہ گزشتہ صدی میں ملک مقدم کے وزیر و مشیر تک کی تبدیلی و استعفے بھی اسی سوشل میڈیا کے ہاتھوں انجام پائے ہیں۔سوشل میڈیا پہ سیاسی بحث و مباحثے،ہر حکومت کی کارکردگی جیسے آج پیش کی جاتی ہے، جیسا سیاسی شعور اس نے بیدار کیا ہے ویسا پہلے کم ہی تھا۔سوشل میڈیا کا سب سے اہم اور مثبت پہلو ادبی رحجان کو پروان چڑھانا ہے۔ قاری کو لکھاری بنانے میں سوشل میڈیا کا بڑا ہاتھ ہے۔یہاں مختلف تنظیمیں، پلیٹ فارم،شخصیات میسر ہیں جو تحریری صلاحیت کو ابھارنے و نکھارنے میں تعاون کر رہے ہیں۔ جو اردو زبان کی ترویج کرنے میں پیش پیش ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج کتاب دوستی عام کرنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بیش بہا ایسی علم دوست شخصیات موجود ہیں جو نو آموذلکھاریوں کو نکھارنے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں ان میں سر فہرست محمود ظفر اقبال ہاشمی،حافظ عثمان علی معاویہ اور عبدالرو?ف عدم کو اس جذبہ خدمت خلق سے لبریز پایا۔ان کے علاوہ ”پاسبان بزم قلم“ تمام ادبی تنظیموں میں سے منفرد اور منظم پلیٹ فارم ہے یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں قاری سے لکھاری ہونے تک کا سفر مکمل رہنمائی سے طے کروایا جارہا ہے۔ بنا کسی مفاد کے اپنی مادری زبان اردو اوراردوادب کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔
یہ سوشل میڈیا کے وہ مثبت پہلو ہیں جو ہر آنکھ پہ عیاں ہیں۔بات فقط اتنی ہے کہ اللہ نے خیر و شر دونوں راستے ہمارے سامنے رکھے ہیں۔اب خود کو خیر کی سمت لے جانا نہ جانا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔کیونکہ روز آخرت اپنے غلط عمل کی جوابدہی پہ ہم یہ نہیں کہیں گے کہ”سب ایسے کر رہے تھے اسی لئے ہم نے بھی ایسا کیا“یاد رکھئے یہ جواز ہرگز ہرگز ہمارا حساب آسان نہیں کرے گا۔دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے والا بنا دے اور ہمیں اغیار کے شر سے محفوظ رکھے۔آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com