حذیفہ اشرف عاصمی کی متاثر کن کاوش سوچ کا سفر

حمّاد حُسین قُریشی

”نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی”
اپنی گفتگو کا آغاز شاعرِ مشرق کے اس شعر سے اس لئے کیا کہ جس نوجوان کے بارے میں آج بات کرنے جارہا ہوں وہ ڈاکٹر اقبال کا حقیقی شاہین ہے. وہ نوجوان نعت گو شاعر بھی ہے، کالمنگار بھی ہے موٹیویشنل سپیکر بھی ہے، قانون کا طالبعلم بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک کتاب سوچ کا سفر کا مصنف بھی ہے میری مراد صاحبزادہ حذیفہ اشرف عاصمی ہے.
ملکی حالات مدِ نظر رکھتے ہوئے اور معاشرے کو دیکھتے ہوئے میرا یہ کہنا غلط نا ہوگا کہ آج نوجوان نسل جتنی تیزی کے ساتھ غلط اور غیر شرعی کاموں میں مشغول ہو رہی ہے انھیں حالات میں حذیفہ اشرف عاصمی نے کتاب سوچ کا سفر لکھ کر بہت سے نوجوانوں کو متاثر کیا ان نوجوانوں میں ایک جوان میں بندہِ ناچیز ہوں۔جس وقت یہ کتاب میرے ہاتھ میں آئی اسوقت میں بہت سے کاموں میں گھرا ہوا تھا لیکن جتنی شدّت سے مجھے اس کتاب کا انتظار تھا میں نے کچھ ہی وقت میں یہ کتاب ختم کر ڈالی اور تبصرہ کرنا چاہا. اس کتاب کا ہر ایک لفظ دل میں پیوست ہوکر رہ گیا ہے۔کتاب کے حوالے سے بات کروں تو ایک لمبی رپورٹ تیار ہو سکتی ہے.
حذیفہ سے میری پہلی ملاقات ایکسل اکیڈمی میں محفلِ نور کے دوران ہوئی اسوقت میں انہیں جانتا تک نہیں تھا بعد از محفل کچھ گفتگو ہوئی تو معلوم ہوا موصوف فنِ شاعری میں دلچسپی رکھتے ہیں اور شعر کہنے کا فن بھی بخوبی نبھاتے ہیں. لیکن یہ ملاقات وقتی ملاقات تھی.
میں شاعری میں دلچسپی رکھتا تھا اور شعر کہنے کی کوشش بھی کرتا تھا لیکن اصلاح کے لئے کوئی نہیں تھا اسوقت حذیفہ کو میسج کیا اور اپنے اشعار دیکھائے شاعروں کے بارے میں ایک بات جان رکھی تھی کہ یہ نقطہ چینی بہت کرتے ہیں مگر حذیفہ نے مجھے سراہا شائد اگر اسوقت حذیفہ مجھ میں غلطیاں نکالتا تو میرا دل شاعری سے اٹھ جاتا مگر اسکے حوصلے نے مجھ میں شعر کہنے کا ہنر پیدا کیا.
کتاب سوچ کا سفر پڑھنا شروع کی تو دنگ رہ گیا کہ ایک نوجوان اتنی چھوٹی عمر میں کیسے اس قدر گہری باتیں کر لیتا ہے حذیفہ ادبی دنیا میں ایک ستارے کی طرح نمودار ہوا جس نے چھوٹی عمر میں اپنے فن کے ذریعے خود کو ثابت کیا. اس کتاب میں حذیفہ نے حضورﷺ کے ساتھ اپنے عشق کو ظاہر کیا اور وہیں ماں باپ کی شان بھی بیان کی.
انسان کی اندرونی صلاحیتوں سے لے کر زندگی میں کامیاب کس طرح ہوا جاتا ہے ایسے کئی موضوعات پر بات کی. آج معاشرہ جن مسائل کا سامنا کر رہا ہے حذیفہ نے وہ سب دیکھتے ہوئے ان مسائل پر بات کی جن کے بارے میں آج کا نوجوان بیخبر ہے. حصہ شاعری میں اللّہ اور اسکے رسولﷺ کی حمد و ثناء بیان کرکے اپنے عشق کا اظہار کیا اور وہیں شانِ سردارِ جنّت بیان کی. دانش کدہ عشق افسانہ جسے میں نے سب سے زیادہ پسند کیا اسکی وجہ انسان کا اپنے رب سے تعلق کس طرح بن سکتا ہے؟ اللّہ کی رضا و خوشنودی کیسے حاصل کی جاتی ہے؟ ایسے موضوعات ملحوظِ خاطر رکھے. اور آخر میں سو لفظوں کی دلچسپ کہانیاں پڑھنے کو ملیں.
حذیفہ نے اسوقت قلم اٹھایا جس عمر میں بچے گلی محلوں میں آوارہ گردی کرکے اپنا وقت برباد کر رہے ہوتے ہیں نا صرف قلم اٹھایا بلکہ اپنے الفاظوں کے ذریعے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا. جن موضوعات پر حذیفہ نے بات کی کوئی عام انسان نہیں کر سکتا. ڈاکٹر اقبال ہمیشہ خودی پر بات کیا کرتے تھے اور اس خودی کو جس نوجوان نے سمجھا وہ حذیفہ اشرف عاصمی ہے. یہ نوجوان اپنی باتوں سے لوگوں میں امید کی کرن پیدا کر رہا ہے. لوگ اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کو پہچاننے کی کوشش کر رہے ہیں. یہ کتاب پڑھنے اور اس نوجوان کو دیکھنے کے بعد میرا ادب سے تعلق اور مضبوط ہوگیا ہے اس نوجوان نے مجھے بہت متاثر کیا ہے اور میں نے بھی کتاب لکھنے کا ارادہ کیا ہے انشائاللّہ ایسے رفیقین کے ہوتے ہو? بہت جلد اپنا کتابی مجموعہ پیش کروں گا. حذیفہ کانٹوں کے درمیان نوجوان نسل کے لئے گلاب بن کے کھلا ہے اللّہ پاک اس پھول کو ہمیشہ تروتازہ رکھے امین
اور آخر میں یہ کہوں گا سوچ کا سفر کبھی نا ختم ہونے والا سفر ہے
”وہ اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا”
سوچ کے اس سفر میں ہم سب حذیفہ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اللّہ زور قلم کرے اور زیادہ ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اللّہ آپکو مزید عزتوں، محبّتوں اور کامیابیوں سے نوازے. امین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com