اے پُتر ہٹاں تے نئیں وکدے

6 ستمبر 1965کو علی الصبح بھارتی فوجیوں کی بالترتیب لاہوراورسیالکوٹ بارڈر کی طرف پیش قدمی کے ساتھ ہی باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوگیا۔
ماڑی پوربیس، کراچی پر موجود پاک فضائیہ کے B-57بمبار طیاروں کے نمبر آٹھ سکواڈرن کو بھی دیگر سکواڈرنز کی طرح تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا تھا۔ سکواڈرن کے تمام افراد طے شدہ جنگی حکمت عملی کے تحت اپنی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے تیاریوں میں زوروشور سے جت گئے۔
سکواڈرن لیڈر شبیرعالم صدیقی نے اس دوران کچھ لمحوں کو غنیمت جانا تو بیس پر موجود اپنے گھر والوں کو مطلع کرنا مناسب سمجھا۔ سرکاری جیپ کو گھر کے باہر روکتے ہوئے انہوں نے ڈرائیور کوچند لمحے انتظار کرنے کا کہا۔

گھر پر موجود ان کی اکیس سالہ بیوی شہناز کو آج انہیں وقت سے پہلے گھر دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ تاہم جب شبیر عالم نے اسے جنگ اور بگڑتے ہوئے حالات سے متعلق آگاہ کیا، تو یہی خوشی پریشانی اور فکر میں تبدیل ہوگئی۔ اپنے دونوں بچوں، ایک سالہ عدنان اور محض پانچ ہفتے کے ثاقب کوگود میں اٹھا کراسکورڈن لیڈرشبیرعالم نے انہیں کچھ دیر اپنے سینے کے ساتھ لگایا اور پھر ان کی پیشانیوں کو چومتے ہوئے انہیں ماں کی گود میں دے دیا۔ جنگی حالات سے متعلق کچھ ضروری ہدایات شہناز کو دے کر، انہوں نے اس کو اپنا بہت سا خیال رکھنے کی تاکید کی۔ ایک لمحے کے لئے شہناز کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تاہم وقت کی نزاکت نے اسے زیادہ سوچنے کا موقع نہ دیا۔

کچھ پل میں ہی اپنا ضروری سامان اٹھاتے ہوئے سکواڈرن لیڈر شبیرعالم نے مزید توقف کے بغیر باہر کی راہ لی۔ جب تک شہناز دروازے میں آ کر انہیں الوداع کہتی دھول اڑاتی جیپ دور جا چکی تھی۔
سکواڈرن لیڈرشبیرعالم صدیقی کی پیدائش 1934 میں لکھن میں ہوئی تھی۔ بچپن سے لااُبالی شخصیت کے مالک شبیرعالم کی آنکھوں میں ایک خاص چمک رہتی تھی جو انہیں ہر لمحے نِت نئی مہمات سر کرنے کے لئے اکساتی تھی۔ پرواز کا شوق انہیں پاک فضائیہ تک لے آیا تھا اور پھر1954  میں اپنی پیشہ ورانہ تربیت مکمل کرنے کے بعد، مختلف جنگی جہازوں کا تجربہ حاصل کرتے وہ B-57 بمبار طیاروں پر تعینات ہوگئے۔
نمبر آٹھ سکواڈرن کے منصوبے کے مطابق جنگ کی صورت میں ان کا اولین ہدف بھارتی فضائیہ کا جام نگرہوائی اڈہ تھا۔جنگ کے ان ابتدائی لمحوں میں ہی بغیر کسی توقف کے ائیرہیڈ کوارٹر سے نمبرآٹھ سکواڈرن کو جام نگر پر حملے کا حکم موصول ہوگیا۔
سہ پہر لگ بھگ چھ بجے جو پہلے چھ جہازوں کی فارمیشن اس مشن کے لئے روانہ ہوئی، سکواڈرن لیڈر شبیرعالم بھی اس میں شامل تھے۔ جب شبیرعالم کے طیارے نے ٹیک آف کیا تو شہناز نے اس جہاز کو اپنی بالکونی سے فضا میں بلند ہوتے دیکھا۔
بھارتی فضائیہ اس حملے کے لئے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔ پاک فضائیہ کے بمبار طیاروں نے دشمن کی اس غفلت کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور تاک تاک کر اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ فارمیشن اپنا مشن کامیابی سے مکمل کر کے شام کے ڈھلتے سائے میں بحفاظت واپس ماڑی پور بیس پہنچ گئی۔
دشمن ابھی اپنے زخم چاٹ ہی رہا تھا کہ اس پر مزید کاری ضرب لگانے کا فیصلہ ہوا۔ اس دفعہ یہ مشن چونکہ زیادہ پرخطرتھا اس لئے فارمیشن کے بجائے اکیلے جہازوں کو وقفوں کے ساتھ بھیج کرحملے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سکواڈرن لیڈر شبیرعالم نے اس  پُر خطر مشن کے لئے بھی اپنی خدمات پیش کردیں۔ ان کے خیال میں پہلے کامیاب مشن کے بعد اب وہ نہ صرف جام نگر کے فضائی راستے، بلکہ دشمن کی پوزیشنز کے بارے میں بھی بہترعلم رکھتے تھے۔ رات گیارہ بجے روانہ ہونے والی یہ سٹرائیک بھارتی ریڈارسے بچتے ہوئے زمین کی سطح سے محض 200 فٹ بلندی پرساحل کی پٹی کے ساتھ ساتھ پرواز کرتی ہوئی ہندوستانی حدود میں داخل ہوئی۔ ہدف سے صرف ایک میل دورطیاروں نے اپنی ناک کا رخ آسمان کی طرف کھینچا اوراپنے چاروں ہزارپونڈ وزنی بم جام نگر ہوائی اڈے پر گرا دیئے۔ دشمن کی اینٹی ائیرکرافٹ گنز نے اپنے دہانے کھول دئیے تاہم اس آگ کے دریا کوکامیابی سے پار کرکے یہ مشن بھی بخیروعافیت واپس پاکستان کی حدود میں داخل ہوگیا۔
رات کے تین بجے ایک دفعہ پھردشمن کی طاقت کو مکمل زیر کرنے کے عزم سے ایک بار پھر جام نگر پر مزید بمبارطیارے بھیجنے کا حکم موصول ہوا۔ زخم پر زخم کھایا ہوا دشمن تلملایا ہوا بیٹھا تھا اور پاک فضائیہ کے کسی بھی حملے کے سدباب کے لئے اس نے اپنے تئیں مکمل انتظام کیا ہوا تھا۔ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی دھرتی کے اس بیٹے نے ایک بار پھر اپنے آپ کو اس مشن کے لئے رضاکارانہ طور پر پیش کردیا۔ ساتھیوں کے بارہا منع کرنے اور پچھلی صبح سے بغیر آرام کے لگاتار ڈیوٹی پرموجود ہونے کے باوجود، سکواڈرن لیڈر شبیرعالم جذبہ جہاد سے لیس اور اپنے وطن کے لئے کچھ کر دکھانے کے جذبے سے سرشار، اپنی ضد پر ڈٹے رہے اورپھرمحض نو گھنٹے کے اندر وہ اپنے ساتھی نیوی گیٹر سکواڈرن لیڈر اسلم قریشی کے ہمراہ تیسرے جنگی مشن کے لئے ٹیک آف کر گئے۔ یہ فضائی تاریخ کا ایک ناقابل یقین واقعہ اور بذات خود ایک امتیاز تھا کہ ایک پائلٹ ایک دن میں تیسری دفعہ سرحد کے پار حملے کے لئے روانہ ہورہا تھا۔ شبیرعالم کے ساتھی نیوی گیٹر سکواڈرن لیڈراسلم قریشی کا یہ دوسرا لگاتار مشن تھا۔
بلاشبہ ان مجاہدوںکے فولادی اعصاب اورحوصلہ تھا کہ ایک لمحے کے لئے بھی اپنے خاندان کی محبت یا کسی بھی دنیاوی کشش کو انہوں نے اپنے پائوں کی زنجیر نہیں بننے دیا ۔ چونکہ کچھ دیر میں روشنی ہونے کو تھی، اس لئے یہ نمبر آٹھ سکواڈرن کا اس رات کے لئے آخری مشن تھا۔

سکواڈرن لیڈر شبیرعالم کا جہاز جس کا نمبر941تھا، بادلوں کو چیرتا ہواعلی الصبح اپنے ٹارگٹ جام نگر اڈے پہنچا۔ جیسے ہی جہاز نے بادلوں سے باہر نکل کر جام نگر کے اوپر اپنے ٹارگٹ کو روشن کرنے کے لئے فلر فائر کئے، دشمن بوکھلا گیا۔ اس کا کامل اندازہ تو یہی تھا کہ اتنے تابڑ توڑ حملوں کے بعد کم از کم آج پاک فضائیہ مزید حملے نہیں کرے گی۔ لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ جذبۂ شہادت سے لیس یہ اللہ کے سپاہی کبھی بھی آرام کے متمنی نہیں رہے اور شبیرعالم کے تو سکواڈرن کا نعرہ ہی ایک اور ضرب ِحیدری تھا۔
فضائی حملے سے متنبہ کرنے والے سائرن جام نگر کی فضاؤں میں چلانے لگے، اینٹی ائیرکرافٹ گنزنے آسمان کا رخ کرکے لگاتار شعلے اگلنا شروع کر دیے۔ شبیرعالم کاB-57  طیارہ دشمن کے فائر سے بچتے ہوئے جام نگر پر قہر بن کر ٹوٹ پڑا اور وہ اپنے جہاز کے تمام بم انتہائی دلیری سے خالی کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ یہ عین وہ لمحہ تھا جب جام نگر میں ہی بھارتی بحریہ کے نمبر300 سکواڈرن کے چھ سی ہاک طیارے پاک فضائیہ کے بدین ریڈار کو تباہ کرنے کے ناپاک ارادے کے ساتھ ائیر فیلڈ پر اپنے انجن سٹارٹ کر رہے تھے۔ سکواڈرن لیڈر شبیرعالم کے اس حملے نے نہ صرف رن وے، بلکہ ٹاور کو بھی نقصان پہنچادیا اور خوفزدہ دشمن نے بدین پر فوری حملے کا ارادہ ترک کردیا۔
صبح کی روشنی ہوچلی تھی۔ ماڑی پورکا ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور جہاز نمبر 941 کے واپس لینڈ کرنے کا بے چینی سے انتظارکررہا تھا۔ ہر گزرتا لمحہ پریشانی اور تنائو میں اضافہ کررہا تھا۔ مگر اب بہت دیر ہوگئی تھی۔ یہاں تک کہ جہاز کے مشن کا دورانیہ اب اس کی زیادہ سے زیادہ اڑان کی قابلیت سے بھی تجاوز کرگیا تھا۔ بھاری دل کے ساتھ انتظامیہ کو خبر کر دی گئی کہ سکواڈرن لیڈرشبیر عالم صدیقی اور ان کے ساتھی سکواڈرن لیڈر اسلم قریشی بدقسمتی سے واپس نہیں پہنچ سکے تھے۔
کسی کو کچھ معلوم نہ ہوسکا کہ ان کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تھا۔ کیا طیارہ جام نگر پہنچ پایا تھا یا متواترجاگنے، تھکاوٹ اورموسم کی خرابی کے باعث پائلٹ اور نیوی گیٹر اپنی سمت کے تعین میں ناکام ہو کرکسی حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔اور اگر جہاز جام نگر پہنچ گیا تھا تو کیا وہ دشمن کی گنز کا نشانہ بن گیا تھا، یا پھر واپسی پرکسی ہنگامی حالت کا شکار ہو گیا تھا۔ یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ کیاسکوارڈن لیڈر شبیرعالم اور ان کے ساتھی نے جہاز سے چھلانگ لگا لی تھی اور پھر اگر وہ بحفاظت زمین پراترگئے تھے تو کیا وہ دشمن کی قید میں تھے؟ ان گنت سوالات تھے، مگر جنگ کی اس افراتفری اور غبار میں کسی کے پاس ان کا مکمل اطمینان بخش جواب نہ تھا۔
شہناز تمام رات جاگتی رہی تھی اور اپنے شوہر کی بخیریت واپسی کے لئے دعائیں کرتی رہی تھی۔ انتظار کی سولی پر چڑھی صبح جب باہر کسی گاڑی کی آواز سنائی دی تو وہ بھاگتے ہوئے دروازے پر پہنچی۔ بے چینی سے دروازہ کھولا تو پڑوس میں کسی گھر کے سامنے کھڑی جیپ، کسی دوسرے آفیسر کو ڈیوٹی کے لئے اٹھانے آئی تھی۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اس کے دل کی دھڑکن تیز ہورہی تھی۔ اور پھر آخر دروازے پر دستک ہوئی۔ شہناز نے لپک کر دروازہ کھولا تو سامنے شبیرعالم کے سکواڈرن کمانڈر سکواڈرن لیڈر رئیس رفیع اور ان کی بیوی کو کھڑے پایا۔ پل میں لاکھوں وسوسے اس کی نظروں کے سامنے سے گزر گئے۔ دونوں میاں بیوی خاموش تھے۔
کیا ہوا بھائی؟ بھائی بتائیں کیا ہوا؟ شبیرعالم کہاں ہیں؟ آپ لوگ کچھ بولتے کیوں نہیں؟ شہناز ہذیانی حالت میں چلائی۔
مگر ان کے پاس بولنے کو کچھ تھا بھی کہاں۔سکواڈرن لیڈر رفیع کی بیوی نے شہناز کو گلے سے لگا لیا اوراپنے ساتھ اندر لے آئی۔ اس خبرنے شہناز پر قیامت توڑ دی کہ شبیرعالم کے واپس نہ آنے اور کوئی بھی اطلاع موصول نہ ہونے کی وجہ سے ان کو مسنگ ان ایکشن قرار دے دیا گیا تھا ۔
ایک ہنستی کھیلتی، رنگوں اورحسین خوابوں میں گندھی زندگی پل میں ختم ہوگئی۔ ایک گہرا دکھ اس کی رگ رگ میں سرایت کرگیا۔ تمام لوگ شہناز کو حوصلہ دے رہے تھے مگر شائد ان کے اپنے الفاظ بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ تاہم اب بھی امید کی ایک ہلکی سی کرن زندہ تھی کہ شاید شبیرعالم واپس آجائیں۔
زندگی اب پہلی سی بالکل نہ رہی تھی۔ اس کم عمری میں دو بچوں کی ذمہ داری اور شوہر کا ساتھ چھوٹ جانا، اپنے ساتھ بے شمار ان دیکھے امتحانات لے کر آیا تھا۔ زندگی کا حقیقی روپ بغیر کسی سہارے کے بہت دردناک تھا اس مشکل وقت میں تاہم شبیرعالم کے دوست سکواڈرن لیڈر نجیب خان اور ان کی اہلیہ ثریا اس کا سہارا بنے رہے اور حوصلہ بڑھاتے رہے۔
تقریبا پانچ مہینے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا۔ فضائیہ کے بھی کچھ افراد گھروں کوواپس لوٹے۔ شہنازنے پچھلے پانچ ماہ کا طویل عرصہ اس ایک لمحہ کے انتظار میں گن گن کر کاٹا تھا۔ اپنی بچی کھچی امید لئے وہ بھی ان لوگوں میں اپنے شوہر کا چہرہ تلاش کرنے لگی۔ تاہم ان گھر وں کو لوٹنے والوں کے پاس بھی شہناز کے لئے کوئی خبرنہ تھی اورپھرایک دن ان کو پاک فضائیہ کی انتظامیہ کی طرف سے بھارت سے موصول ہونے والاسکواڈرن لیڈر شبیرعالم کا کچھ سامان حوالے کیا گیا۔ یہ سامان بھی کیا تھا، شبیرعالم کا ایک آدھا جلا ہوا ماسک اور بٹوہ ،جس میں کچھ مختصر چیزوں کے علاوہ ان دونوں کی ایک اکٹھے اتاری گئی تصویر موجود تھی۔ اس کے علاوہ مزید کوئی تفصیل نہ ہی پاک فضائیہ حاصل کرسکی اور نہ ہی بھارت نے دی۔ صرف یہ اشیاء تھیں جو ایک ادھوری داستان بیان کررہی تھیں، تاہم شہناز اس کہانی پر یقین کرنے کو تیار نہ تھی۔ امید کا دیا بظاہر بجھ رہا تھا، مگروہ اس کو روشن رکھنا چاہ رہی تھی ۔
حکومت پاکستان نے انہی دنوں جنگ میں شجاعت کا مظاہرہ اور دیگر کارہائے نمایاں انجام دینے والے تمام شہداء اورغازیوں کے لئے فوجی اعزازات  کا اعلان کیا۔ تاہم، بہادری کے اس ناقابل بیان مظاہرے کے باجود سکواڈرن لیڈرشبیرعالم اورسکواڈرن لیڈراسلم قریشی کے لئے اسی بے یقینی کی وجہ سے کسی بھی جنگی اعزاز کا اعلان نہ ہوسکا۔ جہاں یہ تمغے اوراسناد بلاشبہ کسی کی خدمات کا خوبصورت اعتراف ہوتے ہیں، وہاں شاید انہیں بہادری اورجذبہ حب الوطنی کو ناپنے کا حتمی معیار نہیں سمجھنا چاہئے۔
وقت گزرتا گیا اورآہستہ آہستہ لوگ اپنے روزمرہ کے معمولات میں جت گئے۔ پاک فضائیہ اور شبیرعالم کے ساتھیوں نے شہناز کو تنہا نہ چھوڑا، مگریہ گھائو بہت گہرے تھے۔ یہ وہ جنگ تھی جو آخرکارشہناز نے اکیلے لڑنی تھی۔ دھیرے دھیرے مشکلات میں اضافہ ہورہا تھا۔ اس چھوٹی عمرمیں معاشرتی دشواریاں ، بچوں کی پرورش اور کتنی ہی مزید پریشانیاں منہ کھولے کھڑی تھیں۔ وہ ان سے تن تنہا پانچ سال لڑتی رہی، اور حوصلے کو ٹوٹنے نہ دیا۔ مگر اس کے والدین اب اپنی ڈھلتی عمر کے ساتھ کمزور پڑ رہے تھے۔ وہ کب سے بضد تھے کہ شہناز کو اب اس حقیقت کو قبول کرکے آگے بڑھنا چاہئے۔مگر نہ وہ یہ یقین کرنا چاہتی تھی کہ شبیرعالم شہید ہو چکے ہیں اور نہ ہی ان کا مقام کسی اور کو دے سکتی تھی۔ تاہم آخرکار والدین کے متواتر اصرار کے سامنے مجبور ہو کر شہناز نے شادی کا فیصلہ قبول کر لیا۔
شادی کے پہلے ہی دن البتہ شہناز نے اپنے شوہر سے ایک وعدہ لیا کہ اگر شبیرعالم لوٹ آئے تو وہ اسے آزاد کرکے شبیرعالم کے پاس جانے دیں گے۔ یہ عجیب خواہش تھی، تاہم اس کے شوہراس کی ذہنی حالت کو سمجھتے ہوئے اس پرراضی ہوگئے اور اس سے وعدہ کرلیا۔ شہناز اب دو کشتیوں کی مسافر تھی۔ اس کے گھر میں شبیرعالم کی تصویریں اب بھی آویزاں تھیں اوروہ ان کی یادوں کو زندہ رکھے ہوئے تھی ۔
شہناز کے شوہر نے اس بندھن کو انہی شرائط پرقبول کر کے اس حقیقت کے ساتھ جینا سیکھ لیا۔ انہوں نے آنے والے وقتوں میں نہ صرف شہناز کا بے حد  خیال رکھا بلکہ دونوں بچوں کو بھی باپ کی کمی نہ محسوس ہونے دی۔ یہ رفاقت کم و بیش تیس سال قائم رہی اورپھر 2001 میں وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
بظاہر تو اس کہانی کا یہاں انجام ہو جانا تھا، لیکن شہناز کے اندر شبیرعالم اب بھی کہیں سانس لے رہے تھے۔ اس کا اب بھی یہی وہم تھا کہ شائد وہ کہیں زندہ ہوں۔ کیا معلوم دشمن کی کسی اندھی جیل میں قید، کسی ہسپتال میں، کسی بحالی کے ادارے میں یا کسی ان دیکھے شہرمیں بے نامی کی زندگی گزار رہے ہوں۔ وہ ان سوالوں کی بوچھاڑ پچھلے چالیس سال سے شبیرعالم کے دوست نجیب خان سے بھی کرتی رہی تھی۔
پھرکچھ یوں ہوا کہ بھارت اورپاکستان کے ہردم بدلتے بے یقینی کے تعلقات میں کچھ گرم جوشی کے دن آئے۔ کھیلوں کی ٹیموں اور ثقافتی وادبی وفود کے تبادلے بھی ہوئے۔ اس دوران شہناز بھی شبیرعالم کے دوست نجیب سے جو اب ریٹائرڈ ائیرکموڈورتھے، رابطے میں رہی۔ آخرکار اس کی متواتر ضد سے مجبور ہوکر نجیب نے 2006 میں بھارتی ائیرچیف کو ایک خط لکھا جن میں ان سے سکواڈرن لیڈر شبیر عالم اورسکواڈرن لیڈر اسلم قریشی کے اس آخری مشن کے بارے میں تفصیلات کے حصول کی درخواست تھی۔ بھارتی ائیرچیف سے نجیب نے جو بنیادی سوالات کئے وہ یہ تھے کہ چھ اور سات ستمبر کی درمیانی رات کیا ہوا تھا، کیا شبیرعالم زندہ بچ سکے تھے، اگر وہ شہید ہوگئے تھے تو کیا ان کی کوئی قبر موجود ہے اور اگر شہناز جام نگر خود آنا چاہے تو کیا وہ ویزے کے حصول میں مدد کرسکتے ہیں۔
بھارتی ایئرچیف ایئرمارشل ششندرا پال تیاگی نے جب یہ خط پڑھا تو اس کے باوجود کہ یہ خط ایک دشمن فوج کے خاندان کی طرف سے بھیجا گیا تھا، وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے۔ انہوں نے نجیب اور شہناز کے بھارت آنے کے انتظامات مکمل کروائے اورساتھ ہی جام نگراڈے کو سکواڈرن لیڈرشبیر عالم سے متعلق تمام حقائق کا ازسرنو کھوج لگانے کا حکم دیا۔
اور پھر وہ دن آگیا کہ شہناز، نجیب اوران کی اہلیہ گجرات میں واقع بھارتی فضائیہ کے جام نگر اڈے پہنچے۔ وہ بھارتی فضائیہ کے ہی مہمان تھے۔ سٹیشن کمانڈر نے ان کا استقبال کیا۔ کچھ دیر میں دو نوجوان آفیسرز کی رفاقت میں انہیں فوجی جیپوں میں سوار کر دیا گیا۔ یہ گاڑیاں انہیں جام نگر اڈے سے باہر نکل کر ملحقہ کچے راستوں پر لگ بھگ دو کلومیٹر دور ایک علاقے میں لے آئیں جہاں حد نظر تک سرسبز کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ شہناز کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ چالیس سال سے دل میں چھپائے کتنے ہی سوالات کا آج جواب ملنے کو تھا۔ ایک مخصوص مقام پر جیپ روک کر وہ لوگ نیچے اتر آئے۔ قریب ہی کچھ دیہاتی چارپائیاں بچھائے بیٹھے تھے جن میں کچھ ادھیڑ عمر لوگ بھی موجود تھے۔ ان کے میزبان فلائیٹ لیفٹیننٹ منیش سنگھون نے ایک لمحے کا توقف کیا اور پھر زمین پر ایک جگہ اشارہ کرتے ہوئے، الفاظ کو ترتیب دیتے ہوئے،شہناز سے گویا ہوا، میڈم، یہ وہ مقام ہے جہاں سکواڈرن لیڈر شبیرعالم کا جلتا ہوا جہاز نیچے گرا تھا۔ شہناز کے سینے میں چھن سے کوئی چیز ٹوٹی۔ اسے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔
اس نے بے صبری سے اگلا سوال کیا، تو کیا شبیرعالم نے بیل آئوٹ کیا؟
نہیں، بدقسمتی سے دونوں پائلٹ جہازکے ساتھ ہی شہید ہوگئے۔ یا تو انہوں نے خود ہی اپنے جہاز کو نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا، یا پھر وہ آخری وقت تک اسے بچانے کی کوشش میں لگے رہے۔
یہ سنتے ہی شہناز اپنے آپ پر مزید قابو نہ پاسکی اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ چالیس سال سے اس کے اندرزندہ سانس لیتے شبیرعالم آج اس کو تنہا چھوڑ کر اچانک چلے گئے تھے۔
مزید تفصیل بتاتے ہوئے منیش بولا، سکواڈرن لیڈرشبیرعالم اپنے پہلے حملے میں جام نگر پر دو بم گرا کر محفوظ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے، تاہم اتنے شدید خطرات کے باوجود جب وہ بقایا بم گرانے کے لئے لوٹ کر دوبارہ حملہ آور ہوئے، تو بھارتی اینٹی ائیرکرافٹ گنز کے فائر کا نشانہ بن گئے۔ عینی شاہدوں کے مطابق جہاز میں آگ لگ گئی اورجلتا ہوا جہاز جام نگراڈے سے محض دو کلومیڑ دور یہاں کھیتوں میں آن گرا اورگرتے ہی دھماکے سے پھٹ گیا۔ بلاشبہ وہ ایک بہت بہادر سپاہی تھے اورانہوں نے آخری دم تک جوانمردی سے لڑتے ہوئے اپنی جان دی تھی۔
تو کیا شبیرعالم کی لاش جہاز سے نکالی گئی، کوئی قبر؟ کوئی مرقد؟، غم سے نڈھال شہناز نے پوچھا۔


شہناز تمام رات جاگتی رہی تھی اور اپنے شوہر کی بخیریت واپسی کے لئے دعائیں کرتی رہی تھی۔ انتظار کی سولی پر چڑھی صبح جب باہر کسی گاڑی کی آواز سنائی دی تو وہ بھاگتے ہوئے دروازے پر پہنچی۔ بے چینی سے دروازہ کھولا تو پڑوس میں کسی گھر کے سامنے کھڑی جیپ، کسی دوسرے آفیسر کو ڈیوٹی کے لئے اٹھانے آئی تھی۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اس کے دل کی دھڑکن تیز ہورہی تھی۔ اور پھر آخر دروازے پر دستک ہوئی۔ شہناز نے لپک کر دروازہ کھولا تو سامنے شبیرعالم کے سکواڈرن کمانڈر سکواڈرن لیڈر رئیس رفیع اور ان کی بیوی کو کھڑے پایا۔ پل میں لاکھوں وسوسے اس کی نظروں کے سامنے سے گزر گئے۔ دونوں میاں بیوی خاموش تھے۔


نہیں افسوس کچھ بھی نہیں بچا تھا، بھارتی آفیسر نے نفی میں سر ہلایا۔
اب یہی کھیت جہاں وہ کھڑے تھے۔ شبیرعالم کی لحد اوران کی آخری آرام گاہ تھے۔ آج چالیس سالوںکے بعد پہلی دفعہ سکواڈرن لیڈرشبیرعالم اور سکواڈرن لیڈراسلم قریشی کے لئے ان کے جائے شہادت پر فاتحہ خوانی کی گئی۔ ہر آنکھ اشک بار تھیں۔
ان لوگوں نے پھر کچھ دیر کے لئے شہناز کو اکیلا چھوڑ دیا، کہ وہ واپس لوٹنے سے پہلے شبیرعالم سے تنہائی میں آخری باتیں کرسکے اور نہ جانے کب سے اپنے سینے میں چھپائی یادوں اور دکھوں کو بیان کر سکے۔
آنسوں میں ڈوبی گم سم شہناز نے کچھ دیرکے بعد اس کھیت کی مٹھی بھر مٹی اپنے شوہر کی آخری نشانی کے طور پر ایک لفافے میں ڈالی ۔
اور پھر بھاری قدموں سے سر جھکائے واپس گاڑی کی طرف چل پڑی۔۔۔۔ |

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com