تاجدار ختم نبوتﷺسے بے وفائی ناقابل معافی

تاجدار ختم نبوتﷺسے بے وفائی ناقابل معافی
شاہد ندیم احمد
پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا، اس میں صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کا نظام ہی رائج ہوسکتا ہے، وہ کونسی طاقت ہے جو چند ماہ گزرنے کے بعد پھر اپنا اثر دکھانے کے لیے دارالحکومت سے نمودار ہوجاتی ہے، جس کا ہمیشہ ہدف مسلمانوں کا عقیدہ ختم نبوت ہوتا ہے، اس بلا کا سر کچلنا ہوگا۔ قادیانی کافر ہیں ان کی سہولت کاری کے مرتکب اور اسلام دشمن عناصر کو بے نقاب کرکے ان کا محاسبہ کرنا ضروری ہوچکا ہے۔ قادیانی مذہب یا فرقہ نہیں،بلکہ آئین پاکستان کی روسے فتنہ ہے، اس فتنے کو پرموٹ نہیں، بلکہ سرکوبی ہونی چاہئے، قیام پاکستان سے ہی قادیانی آئین پا کستان کی اسلامی دفعات کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔قادیانی خود کوسازش کے تحت کافر ہوتے ہوئے بھی مسلم قرار دیتے ہیں اور اقلیت نہیں مانتے،اس کے باوجود انہیں اقلیتی کمیشن میں شامل کر نے کی کوشش غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل ہے، قومی اقلیتی کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے قادیانیوں کی شمولیت نے قومی خصوصاً مذہبی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی تھی۔ اگرچہ پہلی سمری واپس لے کر نئی سمری کی منظوری سے معاملہ کی پیچیدگی کم ہو گئی ہے، تاہم یہ تاثر موجود ہے کہ وزیر مذہبی امور غلط بیانی سے کام لیتے رہے، ورنہ بار بار سمریاں تبدیل کرنے کی ضرورت نہ پڑتی،بات کھل کر سامنے آگئی تو سمری تبدیل کردی گئی۔حیرت ہوتی ہے کہ ہر دو چار ماہ بعد حل شدہ قادیانی مسئلے کو متنازعہ بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے‘ حالانکہ آئین پاکستان میں انہیں متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے،اس کے باوجود ان کی نمائندگی اور حقوق کی بات کرنا ناقابل فہم ہے۔ یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے وزراء کی صفوں کا جائزہ لیں اور جو وزراء یا حکومتی حلقے قادیانیوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں ان پر کڑی نظر رکھیں، کیونکہ یہی وہ سازشی عناصر ہے جو گڑے مردے اکھیڑ کر مذہبی انتشار پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا فوری تدارک ضروری ہے،کیو نکہ تاجدار ختم نبوتﷺسے بے وفائی ناقابل معافی جرم ہے۔
یہ امرواضح ہے کہ ہر دور حکومت میں قادیانیت نے سازشوں کے جال بچھائے،جنہیں ختم نبوت کے متوالوں نے ناکام بنایا ہے، قادیانی اسلام ہی نہیں، بلکہ آئین پاکستان کے بھی منکر ہیں، ملکی سلامتی کے اداروں کو قادیانیوں کے بارے بھی SOPs جاری کرنے کی اشد ضرورت ہے۔حکومت کو مدینے کی اسلامی ریاست کے نعرے کی لاج رکھتے ہوئے ختم نبوت قانون کے تحفظ اور اسلامی آئین کی حفاظت کرنا ہوگی۔حکومت کوقادیانیوں کی سازشوں میں آنے کے بجائے ملک کو حقیقی طور پر مدینہ کی اسلامی ریاست بنائیں، تاکہ مسائل ومشکلات اور پریشانیوں سے نجات مل سکے۔ آئین کی اسلامی دفعات کوتبدیل کرنے کے بجائے اس پر عمل درآمد یقینی بنائیں،ملک میں اسلام کا قانون ہوگا تو مسائل سے نجات ملے گی۔ قیام پاکستان سے ہی قادیانی آئین پا کستان کی اسلامی دفعات کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ بدقسمتی سے موجودہ حکومت انکی سازشوں کا دانستہ یا غیر دانستہ شامل ہوکر قومی مجرم بن رہی ہے جو خطرناک ہے۔
یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ قومی اقلیتی کمشن کی تشکیل کے لئے ایک سمری تیار ہوئی‘ وفاقی کابینہ کے ارکان کو مطالعہ‘ مشورے اور تجاویز کے لئے بھیجی گئی‘ وزارت انسانی حقوق نے کمشن میں قادیانیوں کی نمائندگی اور کمشن کا سربراہ کسی اقلیتی نمائندے کو مقرر کرنے کی تجویز پیش ہوئی‘ جو منظورکر لی گئی اور دونوں تجاویز حتمی سمری کا حصہ بھی بن گئیں،بعدازاں حقائق سامنے آنے پر وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے ایسی کسی سمری اور کابینہ کی منظوری سے انکار کر دیااور اب نئی سمری کی منظوری سے معاملہ کی پیچیدگی کم کرنے کی کوشش کئی جارہی ہے۔یہ اس حکومت کا ہی نہیں ہر دور حکومت کا المحہ رہا ہے کہ بیرونی آقاؤں کی خوشنودی میں ہر دو چار ماہ بعد قادیانیوں کی محبت غالب آنے لگتی ہے اور مسئلہ ختم نبوت پر مسلمانوں کے جذبات کی شدت و حساسیت جانچنے کی شعوری یا غیر شعوری کوشش کی جاتی ہے۔
اس بار قومی اقلیتی کمشن میں رکنیت حاصل کرنے کی شعوری سازش میں بھی یہی کوشش کار فرمارہی ہے۔اس قومی اقلیتی کمشن کی ہئیت ترکیبی دیکھیں تو عجیب ہے کہ اقلیتوں کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے قائم ہونے والے کمشن میں دو مسلمان نمائندوں مولانا عبدالخبیر آزاد اور مولانا گلزار احمد نعیمی کی رکنیت ہے،یہ دونوں علماء کس گروہ کی نمائندگی کرتے ہیں،جبکہ اقلیتی کمشن میں مسلمانوں کی نمائندگی کی ضرورت نہیں ہے ،ان علماء کی شرکت کی وجہ سے ہی قادیانیوں کی نمائندگی پر سوال اٹھا، لیکن تحریک انصاف اور عمران خان کے بعض اندھے پیروکاروں نے بے سوچے سمجھے وزارت انسانی حقوق کے موقف کی حمایت شروع کر دی اور قادیانیوں کی نمائندگی کا جواز یہ پیش کیا کہ ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر انہیں اپنے حقوق کے تحفظ اور قومی ادارے میں نمائندگی کا حق حاصل ہے اور جب قادیانی رکن قومی اقلیتی کمشن میں شامل ہو گا تو یہ ایک لحاظ سے قادیانیوں کی طرف سے اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرنے کے مترادف ہے جو موجودہ حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے‘ ان خوش فہموں کے خیال میں موجودہ حکومت نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی کہ قادیانیوں کو اقلیتی کمشن میں نمائندگی دے کر غیر مسلم اقلیت کی حیثیت تسلیم کروا لی اور امریکہ یورپ کو بھی باور کرا دیا کہ پاکستان میں قادیانیوں کو جملہ حقوق حاصل ہیں۔
یہ بات اتنی سادہ ہے نہیں،جتنی سادہ دکھائی دیتی ہے،قادیانیت مسیحیت اور یہودیت کی طرح الگ مذہب ہے، نہ قادیانی‘ ہندوؤں‘ سکھوں‘ پارسیوں اور مسیحیوں کی طرح کسی ایسے مذہب کے پیرو کار ہیں جن کے مذہبی عقائد اور شعائر واضح ہوں‘ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو کار اپنے آپ کو حقیقی مسلمان سمجھتے‘ مسلمانوں کی طرح عبادت کرتے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو رسول‘ نبی‘ پیغمبر‘ مسیح موجود یا مہدی نہ ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔یہ دراصل مسلمانو ں کے استین کے سانپ ہیں جو مسلسل ڈنسے جارہے ہیں،یہ ایک ایسا مذہبی گروہ جو ختم نبوت کے بنیادی اسلامی عقیدے پر کاربند نہ پاکستان کے آئین کو تسلیم کرتا ہے اور نہ اپنی غیر مسلم شناخت پر راضی‘اُسے قومی اقلیتی کمشن میں شامل کرناقابل تشویش ہے۔ ریاست اور حکومت کی فراخدلی قابل دید، مگر مذکورہ گروہ بھی تو اپنی اقلیتی حیثیت تسلیم کر ے اور اپنا نمائندہ بھیجنے پر راضی ہو‘ یہ امکان موجود تھا کہ کوئی قادیانی اقلیتی کمشن میں نمائندگی حاصل کر لے اور دو مسلم نمائندوں کی موجودگی میں یہ دعویٰ کرے کہ اُسے مسیحی یا ہندو کی طرح اقلیتی کوٹے پر نہیں، بلکہ مولانا عبدالخبیر اور مولانا گلزار نعیمی کے مانند مسلمان نمائندے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
در حقیقت قادیانی کافر قرار دیئے جانے کے باوجود خود کو کافر نہیں،بلکہ مسلمانوں کوکا فر سمجھتے ہیں اور ہمارے حکمران طبقہ اغیار کی خوشنودی میں انہیں انسانی حقوق کی آڑ میں اقلیتی کمیش کی نمائندگی دینے پر تلا ہے،افسوس موجودہ حکومت پر جو گزشتہ دو سال کے دوران دوسری بار غلطی کی مرتکب ہوتے ہوئے بھی اس تاثر کوپختہ کیا کہ اسے ختم نبوت کے معاملے پر ملک کی پچانوے فیصد مسلم اکثریت کے جذبات و احساسات کا علم ہے نہ قادیانی ٹولے اور ان کے ہمنوا اور سرپرست لبرلز سیکولرز کی گھاتوں اور وارداتوں سے شناسائی ہے کہ وہ کس طرح پے در پے عقیدہ ختم نبوت پر وار کررہے ہیں اوراقلیتی نائندگی کے پس پردہ خود کو منوانے کے ایجنڈے پر کار فرماہیں۔ہماراعقیدہ ختم نبوت دین کی بنیاد ہے،اگرہم نے اس کے تحفظ میں کسی قسم کی کوتاہی کرنے کی کوشش کی تو دنیا و آخرت میں رسوائی مقدر ہو گی۔سرکار مدینہ تاجدار ختم نبوتﷺسے بے وفائی کا مرتکب کوئی شخص ملک و حکومت کا وفادار نہیں ہو سکتا،ہر دور حکو مت میں کابینہ میں موجود قادیانیوں کے خیر خواہ اور وکیل اقتدار کی کشتی کا بوجھ رہے اور اسی بوجھ تلے حکمران ڈوبے اور آئندہ بھی ڈ وبتے ر ہیں گے،اس لیے وزیر اعظم عمران خان جتنا جلد ہو سکے اس بوجھ سے خود کو آزاد کروالیں،ورنہ انہیں ڈوبنے سے کوئی نہیں بچاسکے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com