شہباز شریف کی کرپشن

شہباز شریف کی کرپشن
تحریر انور علی
آج کل ہر طرف شہباز شریف کی کرپشن کے چرچے ہیں کوئی اخبار دیکھ لیں ٹی وی ہیڈ لائنز دیکھ لیں کرنٹ افئیرز کے پروگرامز دیکھ لیں ہر طرف سے شریف خاندان پہ یلغار ہو رہی ہے مختلف اینکرپرسنز مزے لے لے کے نیب میں ہوئے سوالات و جوابات دہرا رہے ہیں جبکہ حکومتی لوگ پریس کانفرنسز کے ذریعے دباؤ بڑھا رہے ہیں وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر صاحب اب تک پچیس کے قریب پریس کانفرنسیں کر کے شہباز شریف کی کرپشن کا پردہ چاک کر چکے ہیں ہر پریس کانفرنس میں ٹرانزیکشن کا ریکارڈ لہرا کے دکھا رہے ہوتے ہیں کہ یہ دیکھیں کرپشن کے ثبوت- یہ دیکھیں منی لانڈرنگ کے ثبوت کہ کس طرح شریف خاندان نے اس ملک کو لوٹا- میڈیا پہ ہیجان برپا کرکے عوام کو کنفیوز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جوابی ردعمل کے طور پر جب وضاحت ہوتی ہے تو اس کا میڈیا بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے گھنٹوں لائیو چلنے والے الزامات کا جواب دینے کے لیے اپوزیشن کو چند منٹ کی کوریج سے ٹرخا دیا جاتا ہے تاکہ میڈیا کی آزادی اور حکومت کی نیب کے معاملات میں غیر جانبداری کا چورن بیچا جا سکے
ڈیلی میل اخبار میں شہزاد اکبر کے سورس کے حوالے سے ایک آرٹیکل شائع ہوا جس میں شہباز شریف پہ الزامات لگائے گئے کہ انہوں نے زلزلہ زدگان کے پیسے کھائے- اکاؤنٹس کی تفصیلات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ کس طرح غریبوں کے پیسوں کو ہڑپ کیا گیا پاکستان میں اس پہ درجنوں کالمز لکھے گئے جس میں ڈیلی میل اسٹوری کا سہارا لے کر خوب دل کی بھڑاس نکالی گئی حکومتی عہدیداروں کی طرف سے بار بار اس رپورٹ کو برطانیہ کی عدالتوں میں چیلنج کرنے کا چیلنج دیا گیا جبکہ شہباز شریف اس آرٹیکل کے پبلش ہونے کے فورا بعد برطانیہ کی ایک لا فرم سے رابطہ کر چکے تھے جس کے متعلق بہت سے سینئر تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ وہ لا فرم ہارنے والے مقدمات کا مقدمہ لینے کا کبھی بھی رسک نہیں لیتی- برطانیہ کا نظام انصاف پاکستان سے بالکل الگ ہے جس پہ نہ صرف پوری دنیا اعتماد کرتی ہے بلکہ اس کی مثالیں بھی دی جاتی ہیں وہاں پہلے وکلاء مقدمہ قبول کرنے کے لیے پورے کیس کا جائزہ لینے کے لئے وقت مانگتے ہیں پھر ایک درخواست کے ذریعے دونوں فریقین کو وقت دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے جوابات جمع کروائیں اس کے بعد باقاعدہ طور پر مقدمے کا اندراج ہوتا ہے اس سارے پروسیجر کے دوران شہباز شریف کو خوب رگیدا گیا کبھی کہا گیا کہ ان کا مقدمہ کوئی لینے کو تیار نہیں یہ اوپن اینڈ شرٹ کیس ہے شہبازشریف کے خلاف اور کبھی کہا گیا کہ مقدمہ درج نہیں ہوا یہ تو شریف خاندان کی طرف سے ڈیلی میل کو صرف نوٹس دیا گیا ہے جس میں ان سے کیس کے بارے میں وضاحت مانگی گئی ہے یہ کوئی مقدمہ نہیں گو مقدمہ درج کروانے کے لیے پروسیجرل ڈیلیز کو بھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور کرپشن ثابت کرنے کے لئے استعمال کیا گیا- اب مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور دونوں طرف سے اس معاملے پر خاموشی ہے ڈیلی میل کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ بات کی جاسکتی ہے کہ اسے اس معاملے میں بھی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری کمپین سے کیا حاصل ہوا وقتی سیاسی فائدے کے لیے کیوں پاکستان کوبدنام کیا گیا کیوں پاکستان کو امداد دینے والے ممالک کی نظر میں پاکستان کو مشکوک بنایا گیا
موجودہ حکومت نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے دوست ممالک کی دوستی تک کو بھی داؤ پر لگا دیا چین کے اشتراک سے پاکستان میں شروع کیے گئے منصوبوں کو کرپشن کا گڑھ قرار دیا گیا اور حکومت میں آنے کے بعد ان پروجیکٹس کو فریز کر کے تحقیقات کا اعلان کیا گیا جس کا نہ صرف چین نے برا منایا بلکہ احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا اس بلینڈر کا احساس ہونے کے بعد وزیراعظم اور آرمی چیف کو چائنا کا ہنگامی دورہ بھی کرنا پڑا- وزیر مواصلات مراد سعید کی حیدرآباد موٹروے پروجیکٹ پر کرپشن الزامات پر مبنی پریس کانفرنس پہ بھی چائنا کے پاکستان میں سفیر کو وضاحت کرنا پڑی ملتان میٹرو بس پراجیکٹ کو بھی کرپشن بیانیے کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوئی موجودہ حکومت کو آئے دو سال ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک سابقہ حکومت کے میگا پروجیکٹس موٹرویز سے لے کر میٹرو بس اور بجلی کے منصوبوں تک کسی بھی پروجیکٹ میں کرپشن کے ثبوت نہیں نکال سکی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کب تک سیاست اور ملک کو بد نام کرتے رہیں گے کب تک ہم اپنے مسائل کی آڑ میں لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے رہیں گے کبھی ڈیم اور پانی کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا کے سیاست پر تبرا بازی کی جاتی ہے اور پھر ”خاص” وقت گزرنے کے بعد اس کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے کبھی کرپشن کا شور تھم سا جاتا ہے اور کبھی ”مخصوص” لوگوں کے خلاف دھڑادھڑ مقدمات بننا شروع ہو جاتے ہیں ”کوئی تو ہے جو نظام سیاست چلا رہا ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com