شاہ ہست حسین

شاہ ہست حسین
مبارک علی شمسی
حاصل پور کی دھرتی شروع سے ہی شعر و ادب کے لحاظ سے بہت ہی زرخیز ہے اور قرب و جوار کے دیگر شہروں کی نسبت اس کا طرہْ امتیاز یہ ہے کہ جہاں حاصل پور میں بلند پایہ اور کہنہ مشق شاعر نقاد محقق اور ادیب لوگ موجود ہیں وہاں پر یہاں بیشمار ادیب نواز شخصیات بھی آباد ہیں۔ اور یہاں پر ادبی ذوق اور شوق رکھنے والے لوگوںکی بھی کمی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں منعقد ہونے والی ادبی محفلیں اور تقریبیں پروقار اور شاندار ہونے کیساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح کی حامل بھی ہوتی ہیں جن کی گونج کرہْ ارض کے کونے کونے میں سنائی دیتی ہے۔
نواب حاصل خان عباسی کے نام پر آباد ہونیوالے اس شہر سے جنم لینے والی علمی و ادبی، سیاسی و سماجی، صحافتی اور روحانی شخصیات نے اپنی شبانہ روز محنتوں اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت دنیا میں اپنے اپنے نام کا لوہا منوایا ہے اور علم و ادب کے فروغ کیلئے اپنے اپنے نام کی شمع جلائی ہے۔ بلکہ ملک بھر میں جگہ جگہ منعقدہونے والے مشاعروںمیں شرکت کر کے اپنی دھرتی ماں یعنی حاصل پور کی نمائندگی کی ہے۔
عزیزان من! میری خوش قسمتی ہے کہ میں بھی اسی شہر کے علاقہ قائم پور کا باسی ہوں اور آج جس شخصیت کی کتاب کی تقریب رونمائی میں مجھے اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا ہے اس کے خالق کا تعلق بھی حاصل پور سے ہی ہے۔ میری مراد صدارتی قومی سیرت ایوارڈ یافتہ شاعر محترم امین ساجد سعیدی ہیں۔ ان کی اس کتاب شاہ ہست حسین ؑ پہ لکھنا میرا ادبی فرض بھی ہے اور مجھ پر قرض بھی ہے۔ فرض اس لیئے کہ امین ساجد ؔسعیدی نے” شاہ ہست حسین ” ؑکی صورت محمدؐ و آلؐ محمدؐ کی شان اقدس میں مدح سرائی کر کے جنت کے ٹکٹ ہولڈرز کی فہرست میں اپنا نام درج کروا لیا ہے جس پر وہ خصوصی مبارک باد کے مستحق ہیں اور ان کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے وہ کم ہے۔ اور قرض اس لیئے کہ گزشتہ سال 11 اکتوبر کو جب میں نے اپنی ادبی تنظیم ” بزم شمسی” پاکستان کے زیر اہتمام محترم امین ساجد ؔسعیدی کے اسی مجموعہْ منقبت کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا تھا تو میزبان ہونے کے ناطے مصروف رہا اور اسی مصروفیت کے باعث امین ساجد ؔسعیدی کی شخصیت ،ان کے فن اور مجموعہ ھٰذا کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار نہ کرسکا۔ اور اسی شرمندگی کی وجہ سے میں امین ساجدؔ سعیدی سے نظریں چراتا رہا اور موقع کی تلاش میں رہا۔ لہٰذا اب صاحب صدر کی اجازت سے اپنا یہی قرض چکانے کی اور اپنا ادبی فرض نبھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اور امید کرتا ہوں کہ صاحب کتاب محترم امین ساجدؔ سعیدی میری ان چند سطور کو قبول فرمائیں گے۔
امین ساجدؔ سعیدی کا شمار گنتی کے ان چند شعراء کرام میں ہوتا ہے جو غزل گوئی کو خیرباد کہہ کر نعت گوئی کی جانب آئے ہیں اور پھر اپنے آپ کو فخر موجوداتؐ، رحمتہ للعالمینؐ، احمدمرسلؐ، وجہ تخلیق کائناتؐ، حضرت محمد ﷺاور ان کی آل اطہارؐ کی مدحت کیلئے وقف کردیا۔
امین ساجدؔ سعیدی کا مجموعہ” شاہ ہست حسینؑ ” سلام و منقبت پر مبنی ہے اور اسے علامہ فضل حق پبلیکیشنز داتا دربار لاہور نے شائع کیا ہے۔ اور یہ 128 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا سرورق امام عالی مقام حضرت حسینؑ کے روضہْ اقدس کی تصویر سے مزین ہے۔ اس کا انتساب موصوف نے دختر رسولؐ، شہزادیْ کونینؐ، سیدۃ النساء العالمین ؐ، ملکہْ بہشت بریںؐ، جناب فاطمۃ الزہراؑ کے نام منسوب کیا ہے۔ یہ وہ بی بیؑ ہیں جن کی تعظیم میں فخر رسلؐ احتراماً کھڑے ہو جاتے تھے۔ جناب فاطمۃ الزہراؐ کی شان بیان کرتے ہوئے امین ساجدؔ سعیدی یوں گویا ہوتے ہیں کہ
دختر مصطفٰیؐ زوجہْ مرتضٰی ؑ سیدۃ النساء حضرت فاطمہ ؑ
دو جہاں میں تیرا مرتبہ ہے بڑا سیدۃ النساء حضرت فاطمہ ؑ
تیرے سجدوں سے پر نور ہر رات ہے تیری کیا بات  ہے نوری برسات ہے
طیبہ ؑ، طاہرہ ؑ، عابدہ ؑ، زاہدہ ؑ، سیدۃ النساء حضرت فاطمہ ؑ
تو حبیبؐ خدا کی ہے لخت جگر تجھ سے آباد ہے کربلا کا نگر
تو ہے حسنین ؑ کی والدہؑ ماجدہ ؑ سیدۃ النساء حضرت فاطمہ ؑ
امین ساجدؔ سعیدی نے ” شاہ ہست حسین ؑ ” کا ہدیہْ عقیدت سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے نام منسوب کیا ہے یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے حضرت امام حسین ؑکی ذات اقدس کے بارے میں کیا خوب فرمایا ہے کہ
شاہ است حسین ؑ بادشاہ است حسین ؑ
دین است حسین ؑ دین پناہ است حسین ؑ
سرداد نہ داددست در دست یزید
حقا کہ بناء لا الہ است حسین ؑ
سلطان الہند کی اس لازوال رباعی کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں انہوں نے جس مصرعہ میں لفظ حسین ؑ کو بیان فرمایا ہے اس میں یزید کا تذکرہ نہیں کیا اور جہاں لفظ یزید لگایا ہے وہاں لفظ حسین ؑ کو استعمال نہیں فرمایا۔ گویا سلطان الہند نے اپنی اس رباعی کے ذریعے واضح کر دیا کہ حسینیت ؑ اور یزیدیت دو الگ الگ راستے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی یہ رباعی ہر زبان زد عام ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے امر ہو چکی ہے۔ میرے خیال کیمطابق امین ساجد ؔسعیدی نے سلطان الہند سرکار کی اس لازوال رباعی سے متاثر ہو کر اپنے سلام و منقبت کے مجموعہ کا نام” شاہ ہست حسین ؑ ” رکھ دیا ہے۔ جس سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امین ساجدؔ سعیدی نے سلطان الہند کے کلام اور ان کی سیرت و کرامات کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور یہی بات انہیں اپنے دیگر ہمعصر شاعروں میں ممتاز کرتی ہے۔
” شاہ ہست حسین ؑ ” کے صفحہ نمبر 10 پر قبلہ سید حامد سعید کاظمی کا لکھا مضمون پڑھنے کو ملا جس میں اختتامیہ سطور میں وہ امین ساجد سعیدی کے بارے میں کچھ یوں رقمطراز ہوتے ہیں کہ
“میں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ جس سادگی اور بے ساختگی سے امین ساجد سعیدی نے قلبی کیفیات کا ذکر کیا ہے وہ بارگاہ حسینیت ؑ میں قبولیت کی سند کے بغیر ممکن نہیں۔”
امین ساجدؔ سعیدی کے بارے میں صفدر حمید سعیدی کا لکھا تعارف بھی اپنی مثال آپ ہے جس میں انہوں نے موصوف کے حلقہْ احباب سمیت ان کے قریبی دوستوں کا تذکرہ بھی کیا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ اپنے اس تعارفی مضمون میں انہوں نے ملک کی چند علمی و ادبی سیاسی و سماجی اور صحافتی و روحانی شخصیات کے نام بھی درج کیئے ہیں جس سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امین ساجد ؔسعیدی کا حلقہْ احباب بہت وسیع ہے۔ جبکہ پروفیسر ریاض احمد قادری، پروفیسر ریاض احمد شیخ، ڈاکٹر ریاض مجید ،سید ریاض حسین زیدی اور ریاض ندیم نیازی کی خوبصورت آرائیں بھی امین ساجدؔ سعیدی کے اس مجموعہْ منقبت کا حصہ ہیں۔
تمام تعریفیں رب کائنات کیلئے ہیں جو روز جزا کا مالک ہے جو پتھر میں کیڑوں کو رزق دیتا ہے۔ اس کا نام سنتے ہی تمام بلائیں دفع دور ہو جاتی ہیں اور مصیبتیں ٹل جاتی ہیں۔ امین ساجدؔ سعیدی ایک رب توکلی انسان ہیں وہ حمدباری تعالیٰ بیان کرتے ہوئے کچھ یوں گویا ہوتے ہیں کہ
ہر سو ہے ترا نور تجلٰی میرے اللہ
کتنا ہے حسیں عرش معلی میرے اللہ
ڈھل جاتا ہے سر سے میرے پھر سایہ غموںکا
کہتا ہوں توکلت علی اللہ میرے اللہ
ہوتی ہے مرے دل کو بھی تسکین ہمیشہ
ہے ورد زباں پر مرے اللہ، مرے اللہ
امین ساجدؔ سعیدی کی نعتوں میں لفظ جشن کا استعمال بارہا مرتبہ کیا گیا ہے جسے انہوں نے استعارہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ان کے کلام کا مطالعہ کر کے میں اس نہج پر پہنچا ہوں کہ موصوف جب بھی نعت رسولؐ مقبول کہتے ہیں تو ان کے دل و دماغ میں خوشیاں پھیل جاتی ہیں اور ان کی ذہنی کیفیات اک جشن کا روپ دھار لیتی ہیں۔ اور اس عالم میں آقائے دو عالمؐ کی محبت میں ان کا دل جھومنے لگتا ہے۔ اس ضمن میں ان کے چند اشعار دیکھیئے۔
جشن میلاد ہیں جو لوگ منانے والے
ہیں وہی خلد میں گھر اپنے بنانے والے
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور قربانی سے شروع ہوتا ہے اور ہمیں عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس کے احترام میں کفار سے جنگ کرنا منع کیا گیا ہے اور اسی ماہ محرم میں نواسہْ رسول ؑ جگر گوشہْ بتول ؑ نے کرب وبلا کے تپتے ہوئے صحرا میں اپنا گھر بار لٹا دیا اور اپنے اہل و عیال اور اپنے رفقاء کو ایک ایک کر کے دین پر قربان کر کے دین محمدیؐ کی لاج رکھ لی۔ یہی وجہ ہے کہ 61 ہجری کے بعد محرم الحرام کربلا والوں کے نام سے منسوب ہو گیا۔ محرم الحرام کا چاند ہمیں امام حسین ؑ کی شہادت کی یاد دلاتا ہے اور رہتی دنیا تک ہمیں ماہ محرم اس ذبح عظیم کی یاد دلاتا رہے گا اور دنیا بھر میں محمدؐ و آلؐ محمدؐ سے محبت رکھنے والے لوگ سوگ مناتے رہیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں واحد واقعہ ،واقعہْ کربلا ہے جس پر انسان ہی نہیں بلکہ ملائکہ کی آنکھیں بھی اشکبار ہیں اور وہ بھی ماتم کناں ہیں مگر امین ساجد ؔسعیدی کیمطابق ظاہری آنسووْں کی بجائے انسان کے دل کا رونا ازحد ضروری ہے تب جا کر محمدؐ و آلؐ محمدؐ سے محبت اور عقیدت کا حق ادا ہوتا ہے۔ یاد محرم کے حوالہ سے امین ساجدؔ سعیدی کے یہ اشعار آپ سب کی سماعتوں کی نذر کرنا چاہتا ہوں جس میں انہوں نے اپنی دلی کیفیات کا تذکرہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ
جب تصور میں محرم کا مہینہ آیا
دل کو پھر اشک بہانے کا قرینہ آیا
آسماں رویا ملائک سے بھی دیکھا نہ گیا
لے کے تلوار جو گردن پہ کمینہ آیا
امین ساجد ؔسعیدی کے چند اور اشعار بھی دیکھیئے جن میں انہوں نے محمدؐ وآلؐ محمدؐ کے مصائب بیان کر کے کربلا کی پوری تاریخ رقم کر دی ہے جسے پڑھ کر انسانی وہم و گمان شعور کے پروں پر سوار ہو کر خیالات کی ہواوْں میں سفر کرتا ہوا کرب و بلا تک جا پہنچتا ہے۔
جس گھڑی دیکھی زمیں کرب و بلا کی تپتی
یاد شبیر ؑ کو نانے کا مدینہ آیا
گرم موسم کا بیاں لفظوں میں کیسے ہو گا
جس سے کربل کی زمیں کو تھا پسینہ آیا
مشک میں تیر لگے اور کٹے بازو جب
غازی عباس ؑ کو پھر خیال سکینہ ؑ آیا
امین ساجدؔ سعیدی امام عالی مقام کو اپنے منفرد انداز میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
ہر لب پہ تذکرہ ہے امام حسین ؑ کا
کیا شان مرتبہ ہے امام حسین ؑ کا
باطل ترے غرور کو ہو گی شکست فاش
میدان کربلا ہے امام حسین ؑکا
لیتا ہوں جب بھی آپ کا میں نام یا حسین ؑ
ہوتا ہے خود بخود ہی مرا کام یا حسین ؑ
آنکھیں ہیں اشک بار زباں پہ یہ ورد ہے
ہر صبح یا حسین ؑ تو ہر شام یا حسین ؑ
دل روح جسم اور مری جان یا حسین ؑ
قدموں میں آپ کے سبھی قربان یا حسین ؑ
نانا نبیؐ بتول ؑ ہے ماں باپ ہے علی ؑ
کونین میں ہے اونچی تری شان یا حسین ؑ
میرانیس ،ؔمرزادبیرؔ اور محسنؔ نقوی کی طرح امین ساجدؔ سعیدی نے بھی اپنے اس مجموعہ کے بیشتر اشعار میں کربلا کو استعارہ کے طور پر استعمال کیا ہے اس ضمن میں ان کے یہ اشعار دیکھیں
لب خوں سے رنگیں ہے نوا خون سے تر ہے
یوں تذکرہْ کرب و بلا خون سے تر ہے
کرب و بلا کی خاک پہ بہتا ہوا لہو
تاریخ جراْتوں کی نئی لکھ گیا لہو
کربل میں دیا سر کو کٹا سبط نبیؐ نے
یوں حق کا علم اونچا کیا سبط نبیؐ نے
صرف یہی نہیں بلکہ امین ساجدؔ سعیدی نے نجف و کوفہ و شام، مشکیزہ و پیاس، نہر فراْت ،نیزہ و تلوار، خیمہ اور نوک سناں جیسے استعاروں کو بھی اپنے کلام کا حصہ بنایا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیئے۔
زینب ؑ کے جہاں خطبوں نے ہلچل ہے مچا دی
وہ شام کا بازار ہے کوفہ کی گلی ہے
علی ؑ اکبر ؑ علی ؑ اصغر ؑ وہ پیاسے یاد آتے ہیں
کسی پیاسے مسافر کو میں جب پانی پلاتا ہوں
حیراں ہیں لوگ دیکھ کے نوک سناں پہ سر
قرآن پڑھ رہا ہے نواسا ؑ رسولؐ کا
رونے لگا ہے پانی بھی نہر فراْت کا
مشکیزہ اور بازوئے عباس ؑ دیکھ کر
افلاک ہیں نمدیدہ اور عرش ہے لرزیدہ
جس وقت لعینوں نے خیموں کو جلایا ہے
میرانیسؔ، مرزا سلامت، علی دبیرؔ کو خدائے سخن کہا جاتا ہے مگر مسدس میں حالیؔ نے خوب نام کمایا ہے اور اسے نئی جہتیں عطا کی ہیں۔ امین ساجدؔ سعیدی نے شاعری کی دیگر اصناف کے ساتھ ساتھ مسدس میں بھی بھرپور طبع آزمائی کی ہے۔ ان کی مسدس کا ایک بند آپ سب کی نذر۔
حسین ؑ حق کا اصول ٹھہرا
حسین ؑ خون ِرسولؐ ٹھہرا
حسین ؑ جگر بتول ؑ ٹھہرا
حسین ؑجنت کا پھول ٹھہرا
حسین ؑ نے کربلا بسائی
حسین ؑ کی ہے یہی کمائی
امین ساجدؔ سعیدی کا کلام پڑھ کر قاری پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ ایک سنجیدہ اور پختہ شاعر ہیں۔ ان کی شاعری ہر لحاظ سے ایمانی و روحانی جذبات کی عکاس ہے اور ان کے ہاں یہ سب کچھ محمدؐ و آلؐ محمدؐ سے عقیدت اور محبت کی بدولت ہے۔ ان کے سلام کے دو اشعار
شہزادہْ رسولؐ کو میرا سلام ہو
جان دل بتول ؑ کو میرا سلام ہو
سر دے دیا یزید کی بیعت نہ کی قبول
شبیر ؑ با اصول کو میرا سلام ہو
امین ساجدؔ سعیدی کے اس مجموعہ” شاہ ہست حسین ؑ ” میں موجود کلام ایک مرقع اور مرسع کلام ہے۔ امین ساجد ؔسعیدی کی اک رباعی پیش خدمت ہے۔آئیں ان کی رباعی کا لطف لیں۔
ثواب ہو گا تمہیں یقیناً کہ اپنی قسمت پہ ناز کرنا
ستمگروں کے جہاں میں جس وقت ظلم سہنا حسین ؑ کہنا
ہماری مانو تو باندھ لینا یہ بات پلے امین ساجدؔ
جہان ظلم و ستم میں جب تک بھی جیتے رہنا حسین ؑ کہنا
امین ساجدؔ سعیدی نے میرے جد امجد کی شان میں ثناء خوانی کا جو شرف حاصل کیا ہے اس پر میں ان کا تہہ دل سے مشکور ہوں اور شاہ ہست حسین کی کامیاب اشاعت پر ان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ بحق محمدؐ و آلؐ محمدؐ ان کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا کرے اور ان کے لکھے لفظوں کو معتبر کرے۔ آمین
امین ساجدؔ سعیدی کے سوال کیساتھ اجازت چاہوں گا۔
نیزے پہ قرآں کس نے سنایا سوال ہے
کس نے لہو سے دین بچایا سوال ہے
معصوم چھے مہینے کے اس شیر خوار پر
حرمل نے کیسے تیر چلایا سوال ہے
پوچھو ضمیر سے کبھی ظالم کے سامنے
سر کس لئے نہ کس نے جھکایا سوال ہے
پہرہ لگا ہے غازی ؑ نے مشکیزہ بھر لیا
پانی ابھی تلک وہ نہ لایا سوال ہے
زر اور بال بچوں کی پرواہ نہ کیجیئے
دیں کے لئے ہے کس نے اٹھایا سوال ہے
سن سن کے کربل کی یہ خوں ریز داستاں
آنکھوں سے اشک کس نے بہایا سوال ہے
غازی ؑ رہے نہ پیاس سکینہ ؑ کی بجھ سکی
کس نے ادھر چراغ بجھایا سوال ہے
نہ مال و زر نہ جاہ و حشم کی طلب رہی
شبیر ؑ کربلا میں جو آیا سوال ہے
افوج اشقیاء کو وہ کس کی تلاش تھی
خیموں کو پھر انہوں نے جلایا سوال ہے
رنج و الم کے تیر ہیں ساجد ؔلگے ہوئے
کیسا ہے درد تو نے بتایا سوال ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com