اقبال ؒ کے افکار ونظریات آج بھی سرچشمہ وجدان ہی

 

حسیب اعجاز عاشرؔ
ایک ہوں مسلم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
علامہ اقبال نے اپنے کلام سے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں میں جذبہ آزادی کو بیدار کیا بلکہ اُمت مسلمہ کو اتحاد کا درس بھی دیااِن خیالات کا اظہار منتظم اعلیٰ معروف سماجی و سیاسی شخصیت پرنس اقبال گورایا نے سینیٹر ولید اقبال کی زیرصدارت علامہ محمد اقبالؒ کی 143ویں یومِ ولادت کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں آج پھر نسل نو میں اقبال کے افکار کو تازہ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ حصول پاکستان کے حقیقی مقصد سے آشنا ہو کروطن عزیز کی ترقی و خوشحالی میں احساسِ ذمہ داری کے ساتھ بڑھ چڑھ کو حصہ لے سکیں۔
نامورکاروبای،سماجی و سیاسی شخصیت اشرف خان نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے تمام مہمانانِ گرامی کو خوش آمدید کہااُنہوں نے کہا اہل دانش و فکر کو یہاں مدوح کرنے کا مقصد فقط یہ نہیں کہ جیسے تمام اقبال ڈے کو روایتی انداز میں منارہے ہیں ہم بھی اُس کا حصہ بنیں بلکہ ہمیں یہاں بڑی سنجیدگی سے ایک دوسرے کی مشاوارت سے اِس نقطہ پر پہنچنا ہے کہ اقبال کی تعلیمات کو معاشرے میں اُجاگر کرنے کیلئے ہم اپنے حصے کی ذمہ داریاں کس اندازمیں ادا کرسکتے ہیں؟ اُنہوں نے مزید کہا کہ اقبال ؒ کے افکار ونظریات کل کی طرح عصرحاضر میں بھی سرچشمہ وجدان ہیں بس تھوڑی غوروفکر درکار ہے۔
اقبال کی 143 ویں یوم ولادت کی مناسبت سے بدست ولید اقبال کیک کٹائی کی رسم بھی ادا کی گئی۔ شرکاء کی فرمائش پر ولیداقبال نے کلامِ اقبال بھی سماعتوں کی نذر کیااور خوب داد وتحسین سمیٹی۔اُنہوں نے کہا کہ بلاشبہ علامہ اقبال کے کلام سے عشقِ رسولﷺ کی جھلک او راتحاد امت کی تڑپ خوب عیاں ہوتی ہے۔ ہمیں اقبال کی تعلیمات سے صرف چاشنی کو ہی کشید نہیں کرنا بلکہ اِن کی تعلیمات میں مخفی اصل پیغام کو سمجھنا ہے، اُس پر عمل کرنا اور آگے بھی بڑھانا ہے۔شرکاء کا کہنا تھا کہ مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے پاکستان کو اسلام کا مرکز اور قلعہ بنانے کا جو فلسفہ دیا تھا،بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج سب مل کرا قبال کے افکار و نظریات کے سانچے میں ڈھالیں تاکہ ایک طرف تو پاکستان ہر لحاظ واعتبار سے ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں شامل ہوسکے اوردوسری طرف عالم اسلام کا قلعہ بھی بن سکے۔
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
تقریب کے دوسرے حصہ میں پاکستان کے نوجوانوں کی چھپی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کیلئے ایک نیا پلیٹ فورم متعارف کرنے کے حوالے سے مشاوارت کی گئی مختلف آراء کے بعد پروفیسر وسیم چوہدری کی جانب سے تجویز کردہ نام”کاروانِ فکر“اکثریتی رائے میں حتمی قرار دے دیا گیا ولید اقبال کی سرپرستی میں اِس تنظیم کا بنیادی مقصد ادب کے فروغ و ترویج کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ہنرمندیوں کو بروئے کار لانے کیلئے ہرطرح کی سپورٹ فراہم کرنا ہے،تنظیم کی مکمل باڈی اور طے شدہ اغراض ومقاصد کا جلد باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔
تقریب میں صدر ڈسکوری ٹی وی ڈاکٹر ذوالفقار کاظمی،برگیڈئیرٹیپو کریم، شاعرہ و ماہرِ تعلیم محترمہ فاخرہ انجم،پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج لاہور پروفیسر وسیم چوہدری،دبئی کی معروف سماجی و سیاسی شخصیت امجد اقبال، چئیرمین اعلان ڈاٹ کام میاں الیاس،صحافی و اینکر پرسن ساجد بھٹو، انیکر مس عمائلہ سلطان،برطانیہ سے تشریف لائے ٹرینر عابد حسین بھٹہ، شاعر و ادیب اقبال سکھیرا،میگزین ایڈیٹرروزنامہ آفتاب حسیب اعجاز عاشرسمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی کیلئے خصوصی دعاکا اہتمام بھی کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com