سید البشرصلی اللہ علیہ وسلم

سید البشرصلی اللہ علیہ وسلم
مجیداحمد جائی
کتاب ترقی کی چابی ہے ۔اچھی کتاب جو سکھاتی ہے وہ الگ بات ہے بُری کتاب بھی آپ کو اچھے بُرے کا فرق سکھا کے جاتی ہے ۔دُنیا کے تمام ترعلوم کتاب کے ذریعے ہی اگلی نسلوں تک پہنچے ہیں اور آگے بھی پہنچتے رہیں گے ۔مذہب اور اخلاقیات بھی کتابوں کے ذریعے ہی ہم تک آئے ،محفوظ رہے اور ابھی تک حیات ہیں ۔ترقی کا پہلا اور اس کے بعد ہر زینہ کتاب کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے ۔یہ الفاظ شمائلہ حسین کے ہیں ۔میں کہتا ہوں کتاب ہی زندگی ہے ۔کتاب کی موت انسانیت کی موت ہے ۔کتاب زندگی کے طور طریقے بتاتی ہے ۔کتاب انسان کو شعورکی بلندیوں تک پہنچاتی ہے ۔کتاب روح کی تازگی ہے بس کتاب ہی زندگی ہے ۔
کتابوں کا ذکر چل نکلا ہے تو مجیداحمد جائی ادبی لائبریری کیلئے ملک کے کونے کونے سے دوست احباب بہترین اور اعلیٰ اعلیٰ کتب ارسال کرتے رہتے ہیں ۔ممتاز احمد غزنی ،علامہ عبدالستار عاصم جیسے بہت سے کتاب دوست ،کتاب دوستی کے فروغ کے لیے ہمہ تن کوشاں ہیں ۔انہی دوستوں میں ایک نام مدثر کلیم سبحانی بھی ہیں ۔حیرانگی ہوتی ہے جب کچھ لبرل دانشور کہتے ہیں کہ کتاب سے محبت کی یہ آخری صدی ہے ۔ارے میرے بھائی ۔کتاب آج بھی بکتی ہے ،شائع ہوتی ہے ۔کتاب سے محبت کرنے والے ہر دور میں رہے ہیں اور رہیں گے ۔یقین نہ آئے تو میرے پاس تشریف لائیے ۔میں ایسی شخصیت سے ملواتا ہوں ۔
مدثر کلیم سبحانی سے پہلی ملاقات اکیس دسمبر کو فیصل آباد میں ایک تقریب میں ہوئی ۔ہنس مکھ اور نوجوان شخصیت کے مالک ہیں ۔اُنہوں نے ’’علم و آگہی ‘‘کا شمارہ عنایت کیا اور ہر ماہ روانہ کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ۔’’علم وآگہی ‘‘کا میں پرانا قاری ہوں ۔لیکن کچھ عرصہ قبل یہ آنا بند ہو گیا ۔
مدثر کلیم سبحانی نے نہایت محبت سے جنوری سے یہ سلسلہ پھر سے بحال کروادیا ہے ۔یہی نہیں بلکہ پہلی گھیپ کے ساتھ بہترین کتاب ’’سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘بھی ارسال کی ۔کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد مدثر کلیم سبحانی کے لیے دل بھی دعائیں دیتا ہے ۔’’سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘جیسا کہ نام سے بھی ظاہر ہے ۔سیرت طبیہ اور پیغام سیرت کی دل آویز جھلک مختصر سے انداز میں دِکھاتی ہے ۔قاضی محمد سیلمان سلمان منصورپوری نے لکھی ہے ۔یہ خوبصورت کتاب فروری 2019ء میں شائع ہوئی ہے ۔اس کی تزئین مدثر کلیم سبحانی نے کی ہے ۔
’’سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کی انوکھی اور منفرد خوبی یہ بھی ہے کہ اس کے ہر صفحے پر الگ تکون ،مثلث،دائرہ اور ٹکڑوں کی صورت میں اہم مقام ،شخصیت اور واقعہ کا پس منظر بیان کیا گیا ہے ۔مثلا’’دارارقم ،عورت،طائف ،بدر،اُحد،سفر ہجرت،اہل بدر،وغیرہ وغیرہ ۔اس کتاب کے ہر صفحے کے نیچے ایک حدیث بھی دی گئی ہے ۔ان احادیث کو پڑھ کر دل منور ہوتا ہے ۔ہم ان پر عمل کریں تو ہماری زندگی کے شب وروز بدل سکتے ہیں ۔معاشرے کا رنگ دھنگ بدل جائے گا۔امیراور غریب کا فرق نہیں رہے گا ۔قتل وغارت،خون ریزی ،نفرت ،فساد ،غیبت،جھوٹ جیسی بیماریوں سے نجات مل جائے گی ۔امن اور محبت کے ساتھ زندگی کے شب و روز بسر ہو ں گے ۔لیکن افسوس !صد افسوس۔ہم احادیث پڑھ تو لیتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے ۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم ذلیل وخوارہورہے ہیں اور ذلت والی زندگی جی رہے ہیں ۔امن و سکون کے لیے ترس رہے ہیں ۔جسمانی اور روحانی ہزاروں بیماریوں نے ہمیں جکڑ رکھا ہے ۔زنا کاری ،شراب نوشی ،آبروریزی جیسے جرائم میں گِر چکے ہیں ۔ہم اسلام کے نام پر جیتے تو ہیں لیکن اسلامی طرز زندگی اپنانے سے گریزاں ہیں ۔اللہ !ہمارے دل بدل دے ۔آمین !
’’سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کتاب ہزاروں مہکتی کلیوں کا مجموعہ ہے ۔سادہ اور سلیس زبان استعمال کی گئی ہے ۔کم پڑھے لکھے سے لے کر اعلی تعلیم یافتہ کے ذوق اورذہنی استطاعت کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے ۔اس کا آغاز علامہ محمد اقبال کے اس شعر سے کیا گیا ہے ۔
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
اگلے صفحے پر ’’دُنیا و آخرت کی بھلائیوں کا نسخہ دیا گیا ہے ۔یادگار تحفہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان اور گھرانے کے بارے معلومات دی گئی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے لے کر پردہ فرمانے تک جامع اور عمدگی سے ہر پہلو پر احادیث کے حوالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔انگریزی کتب اور انگریز مصنفوں کے حوالے بھی دئیے گئے ہیں ۔یہ اقتباس پڑھئے’’Apolpgy for Mohammad and the Quranغیر متعصب انگریز سکالر نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری عقیدت میں لکھی جو پہلی بار 1882ء میں شائع ہوئی ۔سر سید احمد خان نے انگلینڈجا کر اپنے ذاتی خرچ پر یہ کتاب شائع کرکے انگریزوں میں تقسیم کی تاکہ انہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور پیغام سے آشنا کیا جائے ۔اُنہوں نے اپنے بیٹے کو خط لکھا کہ گھر کا سامان اور مکان بیچ کر مجھے پیسے بھیج دو ،جب قیامت میں کہا جائے گا لائو اور حاضر کرو اس فقیر،مسکین سید احمد کو جو میرے نام پر گھر بار لٹا بیٹھا تو میرے لیے یہی اعزاز بہت ہے ۔‘‘
اسلام اور تلوار کے عنوان سے بہترین اقتباس پڑھیے ۔اسلام پر بہت بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلنے والا مذہب ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں جنگوں اور غزوات کی تعداد تقریباً82ہے جس میں کل جانی نقصان 1018افراد پر مشتمل ہے اور حیران کب بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ایک انسان کا قتل ہونا بھی ثابت نہیں ۔دوسری طرف اعتراض کرنے والوں کی کارکردگی پر نظر ڈالیے دورقریب کی جنگ عظیم اول میں 75لاکھ جبکہ جنگ عظیم دوم میں ساڑھے چار کروڑ انسانوں کی موت کے گھاٹ اتارا گیا ۔’’سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ہر حوالے سے معیاری اور فکر پیدا کرتی کتاب ہے ۔اس کا مطالعہ ہر ذی شعور کو ضرور کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com