حزن و ملال کا شاعر صائم جی

ارم ہاشمی
شاعری ذات سے کائنات تک کا طویل سفر ہے۔ شاعر اپنے عہد کی پیداوار ہوتا ہے۔
اس لیے اس کے تخلیق کردہ ادب میں ایک سماجی کرب پنہاں ہوتا ہے۔ معاشرے کے دکھ درد کا بیان اس کی قوتِ متخیلہ کا حصہ ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ خوشی انسان کے پست جذبات کو متحرک کرتی ہے جبکہ غم بلند ترین حسیات کو بیدار کرتا ہے۔اس لئے حزنیہ افکار کم و بیش ہر شاعر کے شعری شعور کا حصہ ہوتے ہیں۔
غم و الم سے عبارت کلام ہر عہد اور ہر رت میں ہر دلعزیز اور مقبول رہتا ہے۔حزن و ملال سے منسوب شاعری تا دیر زندہ رہتی ہے۔
صائم جی کی شاعری میں اس درد کی جھلک سرسری نہیں بلکہ گہرائی لئے ہوئے ہے گو کہ ان کا مزاج رومان پرور ہے مگر ہجر و وصال کی شدتیں پورے احساس کے ساتھ موجود ہیں۔دیکھئے یہ شعر۔
یادوں سے بچ نکلنے کا رستہ نہیں ملا
مسجد سے لے کے حُسن کے بازار تک چلے
صائم جی کی شاعری میں حالات کے کرب کے بیان کے ساتھ حسن و عشق کے روایتی موضوعات بھی فنکاری کے ساتھ ملتے ہیں۔ اور اس بیان میں شاعر کا اسلوب عاشقانہ ماحول پیدا کر دیتا ہے۔
صائم جی کہتے ہیں۔
چھوڑو ناصح یہ بہانے ہیں انہیں رہنے دے
جس کو آنا ہو وہ دن رات کہاں دیکھتا ہے
صائم جی نے زندگی کا وہ سلیقہ پیدا کیا ہے جو ساری عمر ناکامیوں سے کام لینے سے پیدا ہوتا ہے۔ان کے یہاں جو سوزِ اُلفت ہے وہ لازمہ ئحیات ہے۔ان کاغم روایت نہیں زندگی کی حکایت ہے۔یہی غم و الم ان کے شعری شعور کو مزید تحریک دیتا ہے۔ یہ شعر ملاحظہ کیجئے۔
اُس سے نسبت ہی کچھ ایسی تھی مجھے لگتا ہے
اُس کے جاتے ہی مجھے میرا خدا چھوڑ گیا
صائم جیسا شخص لہجوں،آوازوں اور شور و غل سے بے وجہ بیزار نہیں ہو سکتا۔ وہ خول میں بند ہو نے والا انسان ہے ہی نہیں۔ اسے آدمیت میں گھلنا ملنا پسند ہے یہ اس کے مزاج کا حصہ ہے لیکن اسے مجبور کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذات میں محصور ہو کے رہے۔
کون رُکتا ہے بجز ایک خدا کے صائم
جب تری بزم سے مے خوار چلے جاتے ہیں
صائم جی کی مخصوص لفظیات انھیں صاحبِ طرز شاعر بناتی ہیں۔ شاعر نے زندگی کے نشیب و فراز دیکھے ہیں اور اس کا اثر محسوس کیا ہے تب ہی تو زندگی کا بیان ان کی شاعری پر چھایا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ملاحظہ ہو ”بہر کیف“ سے صائم جی کا یہ شعر۔
ذرا لختِ جگر کو خوش کیا تو
ضرورت بیچنی مجھ کو پڑی ہے
مجموعی طور پر صائم جی کا یہ شعری مجموعہ غزل کے شائقین کے لئے بیش قیمت ادبی سرمایے سے کم نہیں۔ کلام میں روانی اور الفاظ کا بر محل اور مناسب استعمال شاعر کے کمال کا غماز ہے۔ اس شعری مجموعے میں شاعری کی دیگر اصناف نظم۔ رباعی وغیرہ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک سلیقہ ہے کہ مجموعہ صرف غزلوں پر مشتمل ہو۔ ”بہر کیف“ کی اشاعت پر میں صائم جی کو مبارک باد پیش کرتی ہوں۔ اور امید کرتی ہوں کہ اچھی شاعری کے چاہنے والے اس مجموعہ غزل کا خیر مقدم کریں گے۔ اور یہ بھی امید ہے کہ صائم جی کی شاعری کا سفر یوں ہی جاری رہے گا اور وہ اپنی غزل کائنات سے اردو شاعری کا دامن وسیع کرتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com