ناموس رسالتﷺ پر جان بھی قربان

عباس قادری
فن لینڈ کے وزیر خارجہ فرانسی صدر میکرون کے بیان پر تبصرہ کچھ یوں ہے جب ہم یہودیوں کا مزاق اڑاتے ہیں تو اسے سیمیٹزم کہا جاتا ہے۔ جب عورتوں کی تضحیک کرتے ہیں تو اسے جنس پرستی کہا جاتا ہے۔ جب سیاہ فام لوگوں کا مزاق اڑتا ہے تو اسے نسل پرستی کہتے ہیں لیکن جب مسلمانوں کا مزاق اڑتا ہے تو اسے آزادی اظہار کہا جاتا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ریسرچ سنٹر انسٹی ٹیوٹ دی مونٹ عرب پیرس میں ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں تمام مسلم دنیا کے سکالرز آتے ہیں فرانس کے لوگ (حکومت لوگ نہیں) کلچر لی بہت مضبوط ہیں یہ دل آزاری کے طور پر کسی کو غور سے نہیں دیکھتے ریسٹورنٹ ہال میں کسی سے گلاس ٹوٹ جائے تو کوئی کسی کی طرف نہیں دیکھتا کسی ریسٹورنٹ کا کھانا پسند نہ آئے تو بھی یہ بہت تعریف کریں گے ویٹر کوٹپ دیتے ہیں مگر دوبارہ اس ریسٹورنٹ میں نہیں لیکن پھر بھی فرانس انسانی آزادیوں کے حوالے سے ایک حساس ریاست ہے۔ مغربی ممالک اور فرانس میں لباس ایک پابندی کی شکل میں ہے۔ ایسے سماج میں حجاب پردے اور مکمل ستر پوشی کو غیر مہذب اور معاشرے کیلئے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
کو سینٹ ہونورینا Saint Honorina ایک کیتھولک نن اور کنواری تھی۔ اس کا تعلق فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تھا۔ جس وقت نارمنڈی کے علاقے میں کیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی قتل کر کے اس کی لاش دریائے سیسن میں پھینک دی گئی یہ لاش پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہتی ہوئی کون فلوینس Confluence پہنچ گئی کون فلوینس ایک چھوٹا سا گاؤں ہو جو کہ فرانس سے تقریباً 22 کلو میٹر کے فاصلہ پر تھا۔ کیتھولک کے ماننے والوں نے لاش نکالی اور قریب ہی تدفین کر دی۔ سینٹ ہونورینا کی قبر کیساتھ چرچ بن گیا اور یہ گاؤں کون فلوینس سے سینٹ ہونورینا ہو گیا۔
یہ ٹاؤن پیرس کے مضافات میں ہے اور اس کی آبادی تقریباً 42 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اس ٹاؤن کے زیادہ تر لوگ کیتھولک ہیں۔ 16 اکتوبر 2020 کو کون فلووینس ہونورینا میں انتہائی افسوسناک واقع پیش آیا۔ ٹاؤن کے سرکاری سکول میں سیموئیل پیٹی کے نام کا ایک استاد جو کہ بچوں کو تاریخ پڑھاتا تھا۔سیموئیل نے 16 اکتوبر کو کلاس میں موجود تمام مسلمان بچوں کو کلاس سے نکال دیا اور کلاس میں موجود عیسائی طالب علموں کو چار لی ہیبڈو میں چھپنے والے خاکے دکھائے۔ کلاس سے باہر کئے گئے بچوں میں ایک بچہ عبداللہ تزوروف بھی تھا عبداللہ نے اس کے بعد اپنے کلاس فیلوز سے پوچھا کہ استاد نے انہیں کیا دکھایا ہے تو اس کی کلاس کے دوسرے طالب علموں نے عبداللہ کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ پروفیسر سیموئیل نے اس سے پہلے بھی مسلمان بچوں کیساتھ ایسا ہی کیا تھا جس پر مسلمان بچوں کے والدین کے پولیس کو درخواست بھی دی تھی لیکن اس درخواست پر کوئی کارروائی نہ ہوئی جس کی وجہ سے مسلمان بچوں میں پروفیسر سیموئیل کے لئے شدید غصہ پایا جاتا تھا۔ عبداللہ بھی ان بچوں میں شامل تھا۔ چنانچہ عبداللہ سکول سے نکلا جنجر اپنے ساتھ لیا اور سکول کے راستے میں چھپ گیا اور پروفیسر کا انتظار کرنے لگا۔ پروفیسر چھٹی کے بعد سکول سے نکلا تو عبداللہ نے اس پر حملہ کر دیا اور پروفیسر سیموئیل کا سر تن سے الگ کر دیا۔ موقع پر فوری پولیس آئی پولیس نے عبداللہ کو گولی مار دی۔
اس واقع کے بعد فرانس میں پروفیسر کے حق میں مظاہرے شروع ہو گئے۔ 18 اکتوبر کو فرانس میں ایک بڑی تعداد میں پروفیسرز نے بھی احتجاج کیا فرانسیسی صدر کی پارٹی لاری پبلک این مارش حکومت میں ہے اور اس کی سب سے بڑی مخالف فرانسیسی پارٹی نیشنل ریلی پارٹی ہے اور اس کی مخالف پارٹی مسلمانوں اور غیر ملک پناہ گزینوں کیخلاف ہے۔ مخالف پارٹی نے یہ ایشو اٹھایا۔ صدر میکروں دباؤ میں آ گئے انہوں نے 21 اکتوبر کو پروفیسر سیموئیل کو قومی ہیرو قرار دے دیا اور صدر میکرون اور اس کی حکومت گستاخی میں بہت آگے نکل گئے انہوں نے فرانس کے شہر طلوس اور ماؤنٹ ہیلیئر میں گستاخانہ خاکے کے پولیس کی نگرانی میں شام کے وقت بڑی سکرینوں پر دکھانا شروع کر دیئے۔ اس کے بعد صڈر میکرون نے سرکاری دفتروں میں بھی گستاخانہ خاکے دکھانا شروع کردیئے جو کہ دنیا میں پہلی بار سرکاری طور پر گستاخانہ مواد دکھایا گیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ ایک غریب چچن عبداللہ نے پروفیسر سیموئیل کو قتل کیوں کیا اس کا جواب بالکل واضح ہے مسلمان بے ایمان ہو سکتا ہے چور، ڈاکوں، شرابی، زانی ہو سکتا ہے۔ جس رسولﷺ کی ذات پر انگلی اٹھتی ہے تو ظہیر حسن ہو یا عبداللہ مسلمان اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں اور دنیا کو یہ بات سمجھنی ہو گی ہم میں سے برے سے برامسلمان بھی رسول ﷺ کی ذات پر کمپرومائز نہیں کرتا۔ اب آپ کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ اگر یورپ میں اپنا معاشرہ بچانا ہے اور معاشرے میں توازن قائم کرنے کیلئے چار لی، ہیبڈ اور پروفیسر سیموئیل چیسے کرداروں کو روکنا ہو گا پوپ کو ان کے خلاف سخت قانون سازی کرنا ہوگی۔
صدر میکرون کے اس فیصلے کی وجہ سے پورے عالم اسلام شدید غصہ میں ہے۔ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک نے اس پر شدید تنقید کررہے ہیں فرانس آزادی رائے کی آڑ میں جو کھیل کھیل رہا ہے اس سے یقیناً تمام دنیا میں امن و امان کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ اس اقدامات کی نفی خالی مذمت کرنے سے نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے اور عملی اقدامات یہ نہیں کہ ہم فرانس پر حملہ کر دیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود جدید ٹیکنالوجی میں آگے آئیں اور کم از کم تمام اسلامی ممالک ایک پیج پر آئیں اور او آئی سی کا اجلاس بلا کر فرانس کے خلاف سخت اقدام کرنے کی سفارش کی جائے اگر ایسا ممکن نہیں تو ہمیں ڈائیلاگ کرنے ہوں گے اور اس ڈائیلاگ میں امام کعبہ، آیت اللہ، پوپ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بٹھانا ہو گا اور یہ بیٹھ کر عیسائیوں کے لئے قانون سازی کریں جس کی باداش میں سخت سے سخت سزا ہو ورنہ چھوٹے چھوٹے واقعات ہی بڑے حادثوں کا سبب بنتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com