ریسکیو کیڈٹ کارپس موبائل ایپ کا آغاز

مِس دیبا شہناز اختر
خدمت انسانیت کا بے لوث جذبہ رکھنے والے انسان جب کوئی کام اپنے معاشرے کی فلاح وبہبود کیلئے بغیر کسی لالچ و معاوضے کے فقط اللہ کی رضا کیلئے سرانجام دیتے ہیں تو اس کام کرنے والے کو رضاکار اور اس کام کورضاکارانہ خدمت کہا جاتا ہے۔1985؁ ء سے ہرسال 5دسمبر رضاکاروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جسکا مقصد رضاکاروں کے بے لوث جذبے اور خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔تاکہ رضاکارانہ خدمت کے جذبے کو فروغ ملے۔عالمی سطح پر اس سال رضاکاروں کے عالمی دن کے منانے کا مقصد اجتماعی رضاکارانہ خدمات سے اپنی کمیونٹی اور مقامی علاقے کی بہتری کیلئے کام کرنا ہے۔
پاکستان میں والنٹیئرز مختلف قومی اور عالمی تنظیموں کی زیرنگرانی کام کر رہے ہیں جن میں ریسکیو 1122،ریڈ کریسنٹ،بوائے سکاؤٹس،گرل گائیڈز،اقوام متحدہ والنٹیرزاور والنٹری سروس آرگنائزیشن پاکستان شامل ہیں۔تمام رضکاروں کو سلام جو قدرتی آفات اور روز مرہ کے حادثات کی روک تھام اور اپنے علاقے و ملک کی بہتری کیلئے فی سبیل اللہ فلاح و بہبود کے کاموں سے منسلک رہتے ہیں۔پنجاب میں ڈاکٹررضوان نصیر ڈی جی ریسکیو سروسز پنجاب نے والنٹیئرز کو متحرک کرنے کیلئے کمیونٹی سیفٹی پروگرم شروع کروایا اور اب والنٹیئرز کا ریسکیو سروس کے ساتھ ایک خوبصورت تعلق ہرسال نیشنل کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمز /والنٹیئرز چیلنج کی صورت دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ والنٹیئرز کودیرتک بلامعاوضہ اپنے ساتھ منسلک رکھنا بہت مشکل کام ہے لیکن ریسکیو سروس میں ہرسال والنٹیئرز کے قومی سطح پر اس چیلنج کا انعقاد درحقیقت عوام الناس میں ریسکیو سروس اور والنٹیئرز کے مابین پْراعتماد تعلق کا عکاس ہے۔ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں ہرسال کی طرح اس سال بھی 2سے 4دسمبر تک جاری رہنے والے نیشنل کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمز /والنٹیئرز چیلنج میں ملک بھر سے 41 ٹیموں نے حصہ لیا۔پنجاب میں یونین کونسل کی سطح پر مقابلوں میں بہتر کارکردگی کی حامل کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمز/والنٹیئرز ٹیم کو ضلع کی نمائندہ ٹیم کے طور پر نیشنل کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمز /والنٹیئرز چیلنج میں بھیجا گیا۔دوران چیلنج والنٹیئرز کی مقامی سطح پر ڈزاسٹرریسپانس کی مہارتوں کا اکیڈمی کے افسران پر مشتمل ٹیم نے جائزہ لیا اور بہترین کارکردگی کی حامل کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیم کو آج کے دن انعامات اور تعریفی اسناد دی جارہی ہیں۔والنٹیئری سروسز اورسیز پاکستان کے تعاون سے رضاکاروں کا عالمی دن منایا گیا۔
نیشنل کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمز /والنٹیئرز چیلنج والنٹیر ٹیمزکیلئے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے والنٹیرز کی ڈزاسٹر ریسپانس کرنے کی مہارتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور ملک بھر سے شرکاء ٹیمز کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔پنجاب میں ریسکیو سروس سے منسلک تمام والنٹیرزکوانٹرنیشنل کورس کمیونٹی ایکشن فار ڈزاسٹر رسپانس CADRE کروایا جاتا ہے جس میں سانحے پر ریسپانس کرنا،انسیڈنٹ پر کمانڈ کرنا،زخمیوں دیکھ بھال،پانی و آگ کے حادثات وغیرہ سے نمٹنے کی تمام عملی مہارتیں شامل ہیں۔
ریسکیوسروس نے پنجاب ایمرجنسی سروسزایکٹ 2006کے تحت کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے ذریعے حادثات کی بہتر انتظام کاری اور سیفٹی کو فروغ دینے کیلئے والنٹیئرز کی 5ہزار سے زائد ٹیمیں یونین کونسل کی سطح پر تشکیل دیں۔مزید برآں دس لاکھ لوگوں کو فرسٹ ایڈ کی آگاہی بھی فراہم کی۔پنجاب ایمرجنسی سروس کی کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیم کا ہر ممبر ریسکیوسکاؤٹ کہلاتا ہے اورہر ایک CERTٹیم کم از کم 12ریسکیوسکاؤٹس مشتمل ہوتی ہے۔ ہرسال ریسکیو ہیڈ کواٹرز سے مقامی سطح پر والنٹیئرز کی خدمات کے اہداف اضلاع کو دئے جاتے ہیں۔ضلعی ایمرجنسی افسران کی زیرنگرانی ریسکیو سیفٹی افسران اپنے ضلعوں کی یونین کونسل کی ٹیموں کو رجسٹر کرکے تربیت فراہم کرتے ہیں اور سالانہ قومی سطح کے مقابلے کے لیے تیار کرتے ہیں۔حالیہ کرونا وبا کے دوران بھی ریسکیو سکاؤٹس نے ریسکیورز کے ہمراہ ناصرف اس آفت سے بچنے کیلئے آگاہی مہم میں حصہ لیا بلکہ لاک ڈاؤن کے دوران 50ہزارمستحق افراد میں راشن کی تقسیم کیلئے بھی اپنی خدمات پیش کیں۔گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور صاحب صدر بوائے سکاؤٹس اور بیگم گورنر پروین سرور صدر گرل گائڈ ایسوسی ایشن نے دونوں والنٹیراداروں کو نئے سرے سے فعال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ریسکیو سروس سے ان کیلئے بہت سے تربیتی سیشنز کا نعقاد کروایا۔اگر والنٹیئرز کے تمام ادارے مشترکہ اہداف پر والنٹیئرز کی خدمات لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک بہتری کی طرف گامزن نہ ہو۔
آج کے دن میں تمام والنٹیئرز کو سلام پیش کرتی ہوں بالخصوص ان ولنٹیئر ٹیموں کو جنہوں نے نیشنل کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمز/والنٹیئرز چیلنج میں حصہ لیااور خصوصی مبارکباد ان ٹیموں کو جنہوں نے اول،دوم اور سوم پوزیشن حاصل کی۔جو والنٹیئرز ٹیمیں پوزیشن حاصل نہیں کر سکیں ہرگز نا سوچیں کہ انکی خدمات رائیگاں گئی ہیں۔یاد رکھئے اللہ کی رضا کیلئے کیا جانے والا کوئی بھی کام رائیگاں نہیں جاتا۔مقابلہ جات تو رضاکاروں کی حوصلہ افزائی اور انکو فعال رکھنے کا ایک بہانہ ہے۔والنٹیئرز کی خدمات مختلف علاقوں کے رہنے والوں کے مابین باہمی ہم آہنگی پیدا کرکے فاصلوں کو سمیٹتی ہیں۔تمام رضاکاروں کو خراج تحسین جو راہ حق میں اپنے علاقے کی بہتری کیلئے کسی نہ کسی ادارے کے ساتھ منسلک ہیں تمام اداروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے منسلک افراد کو اپنا کچھ وقت والنٹیئرکرنا چاہئیے۔ٹیچرز،ڈاکٹرز، انجینئرز،ججزو وکلاء ہم سب رضاکارانہ خدمت سے پاکستان کوسرسبز وشاداب اور محفوظ بنا سکتے ہیں۔
والنٹیئرز زندہ باد۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان پائندہ باد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com