کورونا سے لڑنا نہیں توبہ استغفار کرنا ہے

کورونا سے لڑنا نہیں توبہ استغفار کرنا ہے!
شاہد ندیم احمد
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ پوری دنیا کے قریب دو ارب مسلمانوں کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے، یہ مہینہ اجتماعی عبادات، دن کے روزے، رات کی دعوتوں، سماجی ہم آہنگی اور میل جول کے ساتھ زبردست سخاوت اور خیر خیرات کا مہینہ ہے، کیونکہ مسلمان اس مبارک مہینے میں اپنے ایمان کو تازہ کرتا ہے۔ماہ رمضان المبارک کا ایک بار پھر ہماری زندگیوں میں آنا اللہ کا خاص فضل وکرم اور انعام ہے۔ اس ماہ مبارکہ میں اللہ کریم اپنے بندو کو خوب نوازتے ہیں، نیکیوں کا اجر و ثواب اور رحمتوں کا نزول اپنی شان کریمی کے مطابق بڑھا دیتے ہیں۔ اس بار رمضان المبارک ایسے حالات میں آرہا ہے جب پوری دنیا کورونا کے کہرام میں مبتلا ہے۔ دنیا بھرمیں کورونا کی وجہ سے مساجد بند ہیں،لیکن پاکستان میں حکومت اور علماء کرام کے درمیان مساجد کھولنے پر اتفاق نیک شگون اور لائق تحسین فیصلہ ہے۔
کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال میں کچھ نام نہاد لبرل لوگ واویلا کررہے تھے کہ ہر کاروبار بند ہوسکتا ہے تو مساجد کیوں کھلی ہیں، عقل کے ان اندھوں کو کیسے سمجھایاجائے کہ مسجد اللہ کا گھر ہے، کوئی دکان نہیں، دین سے غافل ایسے لوگوں کو مرنا یاد نہ آخرت کی کوئی فکر ہے، اللہ نے ان کے دلوں اورکانوں پرمہر لگا دی اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے،اسی لیے کورونا جیسی آفت پر توبہ استغفار کرنے کی بجائے ڈرنا نہیں لڑنا ہے،جیسے سلوگن استعمال کرکے اپنے دل کو تسلیاں دینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی قیادت میں تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام نے باہمی مشاورت سے رمضان المبارک میں مساجد کھلی رکھنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے، اس تاریخ ساز فیصلے سے ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، اگر کہیں مایوسی نظر آرہی ہے تو اول الذکر طبقے میں نظر آرہی ہے، اس طبقے سے تعلق رکھنے والوں کو کبھی نماز کے لیے مسجد آنے کی توفیق تو ہوئی نہیں، لیکن مساجد میں تالے لگانے کے لیے مچلے جارہے تھے۔
یہ امرواضح ہے کہ لا دینی طبقائے فکر جتنا مرضی اسلامی تعلیمات کے خلاف سازشیں کرلیں،انہیں مذہب کے متوالے کبھی کا میاب نہیں ہو نے دیں گے۔ کورونا وبا کے زیر اثر بدلتی دنیا سب کے سامنے ہے،ہر طرف بے چینی، اندیشے، خوف طاری ہے۔ ایک جانب اس وبا کے علاج اور ویکسین کی تیاری کی باتیں کی جارہی ہیں تو دوسری جانب ایسی خبریں گردش میں ہیں کہ یہ وائرس دراصل بائیو لوجیکل ہتھیار کے طور پر تیار کیے گئے ہیں اور اس کا اصل ہدف بین الاقوامی طاقت اور معیشت کے توازن کو اپنے حق میں کرنا ہے۔ یہ بین الاقوامی قوتوں کی جانب سے نیو ورلڈ آرڈر کا تسلسل ہے، بالفرض اس کو درست مان بھی لیا جائے تو دراصل یہ سب انسانیت کے مجرم اور انتہائی سفاک لوگ ہیں،ان کی زندگی کا مقصدہی دنیا اور مادیت پرستی ہے، اس کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، ایسے انتہائی خود غرض، ظالم قوتوں کے ہاں اللہ کے حضور جواب دہی، سزا و جزااور عادلانہ نظام زندگی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مادہ پرست اور اللہ سے بے نیاز دنیا میں اس وبائی ماحول کے نفسیاتی اثرات انتہائی بھیانک ہیں،عالمی طاقتیں خدائی آفت کے سامنے بے بسی کی تصویر بنی نظر آتی ہیں،اس صورت حال میں اب انسانیت اللہ تعالیٰ کے احسان و کرم کی متلاشی ہے۔ یورپ میں مساجد کے میناروں سے اللہ اکبر کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ اس آزمائش کی گھڑی میں جب پوری دنیابے بسی تصویر بنی ہوئی ہے، انسان فطرت کے انہی اصولوں کی جانب لوٹ رہا ہے جس کا سبق آج سے چودہ سو سال پہلے نبی مہربانؐ دے چکے ہیں،فرق صرف یہ ہے کہ دنیا کی زندگی کے دھوکے میں انسان اس قدر مگن ہوگیا کہ وہ بھول گیا کہ اللہ ہی ہر چیز پر قادر ہے، آج اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک مرتبہ پھر یہ موقع دیا ہے کہ ہم اس کی جانب پلٹ جائیں، اس ربّ کبیر کے آگے اپنی عاجزی کا اظہار کریں، اس سے اپنے گناہوں، کوتاہیوں اور اپنی انفرادی و اجتماعی بداعمالیوں کی معافی کے طلبگار ہوں۔
اس وقت ماہ رمضان المبارک گناہ گاروں کو موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ خود احتسابی کے عمل سے گزرکر اپنے اللہ تعالی کو راضی کر لیں،اگر اُمت مسلمہ نے یہ سنہری موقع بھی ضائع کردیا تو تباہی و بر بادی مقدر بن جائے گی۔ یہ وقت انتشار کا نہیں،باہمی اتحاد و یک جہتی کا ہے،ملک کے تمام مکاتب فکر کو متحد ہو کر باہمی مشاورت سے نا گہانی مشکل سے نبرد آزما ہو نا پڑے گا۔حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو اپنے رویوں میں تبدیلی لاتے ہوئے سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے اجتناب کرنا ہو گا۔کرونا آسمانی آفت کے سامنے دنیا کی بڑی طاقتیں بڑے وسائل کے ساتھ بے بس ہیں،جبکہ ہمارے پاس تووسائل کی بے انتہا کمی ہے،اس لیے ہمیں احتیاطی تدابیر اپنانے کے ساتھ جذبہ ہمدردی سے سر شار ہو کر ایک دوسرے کی مدد کر نا ہو گی۔کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے،مگر اس کی آڑ میں مذہبی فرائض کی ادئیگی پر قد غن لگانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔مساجد بند کرنا آسمانی آفات کے تدارک کا حل نہیں،بلکہ مذہبی مقامات کھلے رکھتے ہوئے اللہ کی خشنودی میں ہی مومن کی عافیت ہے،ہمیں دنیاوی وسائل سے زیادہ رضا الٰہی پر بھروسہ کرنے کی ضررت ہے۔ معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے درست کہا ہے کہ اللہ نے چھوٹے سے وائرس سے دنیا کو ہلا کر رکھ دیاہے، ہمیں اللہ تعالیٰ کے آگے جھک کر توبہ کرنی چاہئے، قوم جھوٹ و بددیانتی‘ خیانت اور بے حیائی چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ ہم پر فضل کرے گا۔ ہمیں کرونا سے ڈرنا نہیں، لڑنا ہے کے الفاظ کا استعمال بند کرناچاہئے،کیو نکہ آسمانی آفات سے مقابلہ انسان کی بس کی بات نہیں، کرونا وائرس ایک آسمانی آفت ہے،ہم آسمانی آفت سے لڑ نہیں سکتے،توبہ استغفار کرکے اللہ تعالی کو عاجزی سے مناسکتے ہیں،اگر اللہ تعالی ہماری عاجزی قبول کرتے ہوئے راضی ہو گئے تو ہماری تمام مشکلات آسان ہو جائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com