گلگت بلتستان میں حالیہ الیکشن

حنا ثروت
سلام ہے گلگت بلتستان کی عوام کو کورونا وائرس کے خوف،شدید برف باری کے باوجود وہ گھروں سے نکلے اور ووٹ ڈال کر اپنا حق استعمال کرتے ہوئے اپنی اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ ڈالا۔غذر میں شدید برفباری کے باوجود بھی پولنگ جاری رہی۔نہ صرف جوان بلکہ خواتین اور بزرگ حضرات بھی بہت پرجوش نظر آ رہے تھے،وہ جانتے تھے کہ ان کی تقدیر بدلنیجا رہی ہے اسی لیے اپنا حق خود ارادیت استعمال کرنے کیلیے پولنگ اسٹیشنز تک پہنچے۔گلگت بلتستان میں ٹوٹل 24 سیٹوں پر الیکشن ہوئے جن میں سیتحریک انصاف نے دس سیٹیں حاصل کیں جبکہ دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار ہیں جنہوں نے سات سیٹیں حاصل کیں۔پی پی نے تین جبکہ مسلم لیگ نواز صردف دو سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی۔جیسے ہی گلگت کے اندر الیکشن ہوئے تو اپوزیشن نے دھاندلی کا واویلا مچانا شروع کر دیا۔پی پی چئیر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کو کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ کے حوالے نہیں کریں گے۔انہوں نے اعلان کیا کہ ہم دھاندلی کے خلاف اپنی آواز کو بلند کریں گیاور احتجاج بھی ہوتے رہیں گے۔
دوسری طرف اگرہم بات کرتے ہیں ن لیگ کی تو مریم نواز صاحبہ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا نہ پہلے کوئی وجود تھا اور نہ ہی اب ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کو جو چند سیٹس ملی ہیں وہ دھاندلی کے ذریعے انہوں نے حاصل کیں۔دوسری طرف وزیراطلاعات و نشریات شبلی فراز نیغیر حتمی نتائج میں تحریک انصاف کی برتری کے حوالے سے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی جیت اس چیز کا ثبوت دے رہی ہے کہ گلگت کی عوام کا وزیراعظم پاکستان کی قیادت پر اعتماد ہے۔سیاسی دانشوروں کا کہنا ہے کہ تمام تر سیاسی شور شرابیاور ہنگامہ خیز سیاسی تقریریں سننے پر بھی عوام نے ملکی صورتحال کے وسیع تر تناظر میں بالغ نظری پر مبنی انتخابی رائے کا شاندار مظاہرہ کیا ہے۔اس لیے کہاوت ہے کہ عوام کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتے،یہ انتخابات جذبات اور سنجیدہ فیصلہ کے بیچ ایک سنگ میل کی حثیت رکھتے ہیں جس میں ووٹرز نے اپنے بچوں کے روشن مستقبل اور ملک و قوم کو درپیش حالات کو مد نظر رکھتے ہوئیدوررس فیصلہ کیا اور قوم پرستانہ جذباتی ریلے میں بہنے سے گریز کیا۔ایسا فیصلہ کیا جس پر تاریخ بھی اپنی مہر تصدیق ثبت کر دے گی۔ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نیانتخابات کے دوران اپنی مہم جارحانہ انداز میں جاری رکھی۔گلگت بلتستان کی عوام نے مذہبی فرقہ وارانہ،مسلکی اور انتہا پسندانہ رجحانات کے پیش نظر اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا بلکہ جمہوریت اور علاقے کے سماجی،اقتصادی اور معاشی مفادات کو دیکھتے ہوئے اپنے ضمیر کی آواز پر رائے دی۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مین سٹیم سیاسی جماعتیں سسٹم کو استحکام بخشیں۔جمہوریت اور رواداری کو ایک پیج پر رکھنے کی اپنے کارکنوں کی تربیت کریں۔سیاسی کلچر کو الزام تراشی،بہتان طرازی،تکبرگالی گلوچ اور شعلہ بیانی سے پاک رکھیں۔سیاسی جماعتوں کے قائدین اس بات کا خیال رکھیں کہ سیاسی تقاریر کو نصابی معیار اور مرتبہ حاصل ہو۔پارلیمینٹیرینز میں بھی ایڈمنڈبرک جیسا فصیح و بلیغ مقرر پیدا ہو جو قانون سازی کی روایتوں کوبدل ڈالے۔سیاستدانوں کو مدلل گفتگو اور جلسوں میں انداز تکلم سے آگاہی ملے۔وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں قانون سازی کے وقت ان باتوں کو پیش نظر رکھیں کہ ان کے جمہوری رویے ملک میں انتخابی شفافیت کو آگے بڑھنے میں ممدو معاون ثابت ہوں۔نئی نسل کی جمہوری تربیت ہر قسم کی نظریاتی و فکری آلاشوں سے پاک ہو۔عوامی مسائل کے حل کیلیے قانون سازی کی عملی اور فکری بنیاد کو مضبوط بنائیں،عوام سے قریبی رابطہ کو ثانوی عادت بنایا جائے۔ووٹرز صرف اس وقت یاد نہ آئیں جب الیکشن ہوں بلکہ ان کو تب تک یاد رکھا جائے جب تک اگلے الیکشن نہ ہو جائیں،اور جو اسٹیج پر کھڑے ہو کر حلقے کا ایم این اے یا ایم پی اے ان سے وعدے کرتا ہے انہیں بروقت،خوش اسلوبی سے پاۂ تکمیل تک پہنچانے کیلیے ہر ممکن اقدامات کرے تاکہ مسقبل میں بھی عوام کا ان پر اعتماد بحال رہ سکے۔
اب جبکہ ان انتخابات کے نتائج آ چکے ہیں تو ہر جماعت اپنے اپنے انداز سے اس کی تشریح کر رہی ہے۔سب جماعتیں کہتی تھیں کہ جی بی میں الیکشن کے بعد یہ اندازہ ہو جائے گا کہ عوام کس کے ساتھ ہے۔اب جب نتائج سامنے آ گئے ہیں تو اپوزیشن اسے ماننے کو تیار نہیں۔پی ڈی ایم والوں کو یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ یہ نتائج پاکستان کے لوگوں کی جذبات کی عکاسی ہے،اور اس نے پی ڈی ایم کے بیانیے کو رد کر دیا ہے۔اس لیے سیاستدان جو بھی سمجھیں لیکن یہ جیت کسی ایک پارٹی کی نہیں بلکہ جمہوریت کی ہے۔یہ جیت 98 سالہ ووٹر شعبان علی کی ہے جو اپنی عمر اور سخت موسم کا خیال کیے بغیر ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشن پہنچا۔یہ جیت گلگت کے ضلع تانگیرکی خاتون امیدوار سعدیہ دانش کی ہے جن کے حلقیمیں آج بھی عورتوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں۔اس قدر جوش و خروش سے انتخابی مہم میں حصہ لینا یہاں کی عوام کا جمہوری نظام پہ اعتماد ظاہر کرتا ہے۔امید ہے یہ حق استعمال کرتے ہوئیجن سیاسنتدانوں کو عوام نے چنا ہے وہ ان کو مایوس نہیں کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com