سرکشی کی سزا

سرکشی کی سزا
طا رق حسین بٹ شان
انسانی تخلیق کا مقصد ِ اولی اپنے رب کی عبودیت اور اس کے قوانین کا اتباع ہے۔ انبیا ئے کرام کی بعثت کا مقصد و مدعا اس کے سوا اور کوئی نہیں تھا کہ انسانیت کو اس کے حقیقی مقام سے روشناس کروایاجاتا۔شرک و بت پرستی کے سارے اصنا م کو زمین بوس کر کے اسے خدائے واحد کی عبودیت کے لئے صف بستہ کیا جاتا اور اسے مالکِ کون و مکان کی اطاعت اور تسلیم و ر ضا کا پابند کیا جاتا۔(یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے۔،۔صنم کدہ ہے جہاں لا الہ اللہ) جب انسانی عقل و دانش،فہم و فراست اورذہا نت و ادراک معراجِ کبری سے آشنا ہو گیا اورا نسان میں فیصلہ سازی کی اہلیت و ہمت پیدا ہو گئی توبابِ نبوت کو ہمیشہ کیلئے بند کر دیا گیا۔حضرت محمد مصطفے ﷺ کو اسی لئے نبی آخرالزمان کہا جا تا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا باب بند ہو چکا ہے۔ انسانی شعورجب اپنی بلو غت سے ہمکنار ہو گیاتو پھرکسی نئے نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔اب نبی آخرالزمانﷺ کی حیاتِ طیبہ ا اور تعلیمات ہی انسانی راہنمائی کیلئے کافی ہیں۔ختمِ نبوت کے حقیقی معنی یہی ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئیگا لہذا جو کوئی اس خدائی فرمان پر ایمان نہیں لاتا وہ دائرہ، اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ خدا کی خدائی کا اقرار حضور ﷺ کے ختمِ بنوت کے ایمان کے بغیر مکمل نہیں ہوتا لہذا ختمِ نبوت پر ایمان ہر انسان کے لئے لازم ہے۔اپنی مختصر سی زندگی میں حضرتِ انسان کے پاس اپنے خالق و مالک کی اتباع کے سواکوئی دوسرا راستہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اسے اختیار کا حق ودیعت کیا گیا ہے۔وہ چاہے تو ذاتی رضا و رغبت سے اتباع ِ رب کو خود پر لاگو کر لے اور چاہے تو اس اتباع سے بالکل منحرف ہو کر اپنی دنیا آپ بسانے کی جستجو میں منہمک ہو جائے۔قوانینِ فطرت کی اتباع سے اس کی جھولیاں ثمرات سے بھر جائیں گی جبکہ قوانینِ فطرت کی خلاف ورزی کی سزا اسے اس دنیا کے ساتھ ساتھ اس دنیا میں بھی مل کر رہے گی جسے یومِ حساب کانام دیا جاتا ہے۔ نتائج تاریخ میں مرقوم ہیں لہذا اس پر کسی حا شیہ آرائی کی مطلق کوئی ضرورت نہیں ہے۔ربِ کعبہ سے بغاوت کے نتائج و عواقب نوشتہِ دیوار ہیں لہذا اہلِ بصیرت انھیں پڑھ کر سبق حاصل کرسکتے ہیں۔قوانینِ فطرت سے غماضی ہمیشہ تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو تی ہے۔اسے ہی خدا کے عذاب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مالکِ اض و سما ء کی نافرمانی کا نتیجہ وہ عذاب ہیں جو ماضی میں انسان کی ذات کا حصہ بنتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود انسان نافرمانی کی روش سے دست کش نہیں ہوتا۔وہ خود کو خدائی مسند پر متمکن کر کے جس ذہنی آسودگی سے ہمکنار ہو تا ہے وہی سرکشی کی حقیقی بنیادہے۔انسان جوشِ جنوں میں کبھی کبھی انا ربکم کی صدا بلند کرنے سے بھی باز نہیں آتا لیکن پھر بڑی ذلت سے دریائی موجوں میں غرقابیت سے اپنی بے بسی کا استعارہ بھی بن جاتا ہے لیکن اہلِ زمین پھر بھی انسان کی اس بے بسی سے سبق نہیں سیکھتے کیونکہ ان میں خدائی دعووں کی رمق انتہائی توانا ہو تی ہے جو انھیں خدائی دعووں پر کمر بستہ کرتی اور خدا سے بغاوت پر ابھارتی رہتی ہے۔،۔
انسانی تاریخ میں عذابوں کی داستانیں ہر مذہب کے اندر موجود ہیں۔عذابِ خداوندی کا کوئی بھی مذ ہب انکاری نہیں ہے لیکن اس کے باوجود مختلف مذاہب کے پیرو کار خدائی عذاب کو للکا رتے رہتے ہیں۔ قرآنِ حکیم میں سابقہ اقوام کی داستانیں خدائی عذاب کی کہنہ و حقیقت منکشف کرتی ہیں لیکن انسان پھر بھی ان پر تیقن سے محروم رہتا ہے۔قومِ عاد،قومِ ثمود،قومِ شعیب،قومِ نوح۔قومِ؛وط کی تباہ شدہ بستیاں خدائی عذاب کی زندہ نشانیاں ہیں لیکن پھر بھی نظر ادھر کو نہیں اٹھتی۔جب جنسی بے روی،ظلم و جبر،فسق و فجور،نا انصافی،دھونس دھاندلی،بد دیانتی،ہم جنس پرستی،شراب نوشی،ملاوٹ،بے ایمانی،دروغ گوئی اپنی انتہاؤں کو چھو لے تو پھر عذاب کو نازل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔سچ تو یہ ہے کہ سابقہ اقوام کو بھی اپنے قوی ہونے کا بڑا یقین تھا۔انھیں اپنی ہنر مندی،ترقی اور خوشحالی پر بڑا ناز تھالہذا وہ قوانینِ فطرت سے اغماض پر مطلق شرمسار نہیں ہوتے تھے۔ یورپ کی سائنسی ترقی نے جس طرح مذہب کو داغِ مفارقت دے رکھی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ان کے ہاں زندگی کسی خدائی ضابطے کی پابند نہیں ہے بلکہ وہ اپنے ضابطے خود ترتیب دینے اور انھیں نافذ العمل کرنے میں خود کو بالکل آزاد تصور کرتے ہیں۔قوانینِ فطرت کی خلاف ورزی کی اپنی تعزیریں ہیں،ان سے سرکشی کی اپنی سزائیں ہیں اور ان کے نفاذ کا اپنا ٹائم ٹیبل ہے۔وہ کس انسان کی ذاتی حواہش اور آرزو کی پابند نہیں ہوتیں۔قریشِ مکہ بھی دعوتِ اسلام کے جواب میں یہی کہا کرتے تھے کہ کہاں ہے وہ عذاب جس سے آپ ﷺ ہمیں ڈرا رہے ہیں۔ لائیے اس عذاب کو تا کہ ہم بھی دیکھیں کہ وہ عذاب کیسا ہے لیکن سرکارِ دو عالم ﷺ کی جانب سے انھیں انتظار کا حکم صادر کیا جاتا تھا۔آخر ایک دن اس عذاب کو نازل ہونا تھا سو وہ ہوا اور پھر سارے انا پرست، مغرور،سرکش،طاقتور،ظالم،سفاک اور بے رحم سردار پا بہ زنجیر دربارِ مصطفے ﷺ میں حاضر تھے اور سرکارِ دو عالم ﷺ کی چشمِ آبرو کے منتظر تھے۔سرکارِ دو عالم ﷺ کا ایک لفظ ان کی زندگی ختم کرنے اور انھیں جہنم واصل کرنے کیلئے کافی تھا۔زعمِ سرداری میں مبتلا یہ سارے لوگ زندگی کی بھیک اس ہستی سے مانگ رہے تھے جھنیں انھوں نے اپنے ہاتھوں سے شعبِ ابی طالب میں محصور کیا تھا،جن کے قتل کا ناپاک منصوبہ بنایا تھا اور جھنیں وطن سے بے گھر کیا تھا۔پا بہ زنجیر سرادرانِ وقت اسی انسان سے گڑگڑا کر اپنی زندگی کی بھیک مانگیں ان کے لئے اس سے بڑا عذاب کوئی اورنہیں ہو سکتاتھا۔چشمِ فلک نے دیکھا کہ پھر اسی رحمتہ للعالمین ﷺنے ان سب کو معاف کر کے انھیں اس عذاب سے نجات کی نوید سنائی جس کی فرمائش وہ اکثر کیا کرتے تھے۔ اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس کی زد میں ہے۔اس کرہِ ارض پر ایک طبقہ ایسا ہے جو اس وائرس کو عذابِ الہی سے تعبیر کررہا ہے۔وہ اسے خدا کی ناراضی کی نام دے رہا ہے۔وہ اسے قوانینِ فطرت سے بغاوت کا شاخسانہ قرار دے رہا ہے۔وہ توبہ و استغفار کا ورد کر رہا ہے۔سرِ شام اذانیں سے فضا کو معطر کر کے خدا کو راضی کرنے کی مالا جپ رہا ہے۔وہ اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ خدا ہم سے ناراض ہے لہذا اسے منالیا جائے تا کہ یہ وبا ہم سے ٹل جائے۔ابھی کل ہی پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم چوہدری شجاعت حسین نے وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان سے درخواست کی ہے کہ وہ پوری امت ِ مسلمہ کی قیادت کو مجتمع کریں اور یہ سارے قائدین خانہ کعبہ میں اپنے رب کے سامنے گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور روضہِ رسولﷺ پرحا ضر ہو کر سرکارِ دو عالم سے شفاعت کی درخوا ست کریں اور اس وائرس سے نجات کی عرض داشت پیش کریں تا کہ اس موذی وائرس سے نجات کی راہیں کھل سکیں۔امتِ مسلمہ کی قیادت کیا ایسا سوچتی ہے؟ کیا وہ اس وباء کو خدا کی ناراضی سمجھتی ہے؟ کیا وہ اس وبا کو خدا کے قہر سے تعبیر کرتی ہے؟ کیا وہ اس وبا کو ایک وارننگ گردانتی ہے؟ کیا وہ اس وبا کو اپنے اعمال کا نتیجہ قرار دینے کے لئے تیار ہے؟ کیا وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کیلئے آمادہ ہے کہ یہ وبا خدا کی طرف سے ایک تنذیر ہے تا کہ انسان اپنے روش میں تبدیلی پیدا کر لے اور ان قوانین کے اتباع میں خود کو ڈھال لے جو خالقِ کائنات کے عطا کردہ ہیں؟مولانا طارق جمیل کے بقول اب بھی وقت ہے کہ دم توڑتی اور سسکتی انسانیت اپنے برے اعمال سے تائب ہو کر اس ہستی کا دامن تھام لے جس کے قبضہِ قدرت میں سب کی جان ہے۔وہ اپنی بے پایاں رحمت کے نزول کیلئے اب بھی تیار ہے بشرطیکہ انسان اپنے گھناؤنے افعال سے تائب ہو کر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائے۔،۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com