۔۔ 2021 کا پہلا زخم ….محمد نورالہدیٰ

نئے سال کا پہلا زخم اس قدر اچانک اور شدید ہوگا، سوچا بھی نہیں تھا۔ 2020اتنے زخم دے گیا کہ اب گھائل جسم پر مزید کسی زخم کی جگہ نہیں تھی۔ لیکن زخم بہرحال اپنی جگہ کہیں نہ کہیں بنا ہی لیتا ہے۔ رؤف طاہر کی اچانک موت کی اطلاع ایک ایسا شاک تھی جس کے بعد بے یقینی کی سی کیفیت طاری رہی۔ یوں لگا جیسے جسم کا اک اک رعشہ اپنا کام کرنا چھوڑ گیا ہو اور ذہن ماؤف ہو گیا ہو۔ ایک چلتے پھرتے اور بظاہر صحت مند انسان کی یکدم وفات سے موت کا خوف پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا۔ رؤف طاہر کے ساتھ گزرے لمحات ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے آنے لگے۔
رؤف طاہر سینئر صحافی اور تجزیہ کار ہی نہیں بلکہ اپنی ذات میں اک تاریخ تھے۔ اک سیاسی اور صحافتی انسائیکلوپیڈیا تھے۔ ان کے پاس جب بھی بیٹھا، ہمیشہ خود کو تاریخ کے ساتھ سفر کرتے پایا۔ یوں محسوس ہوتا کہ جیسے جن واقعات کا ذکر ہو رہا ہے، ہم بھی اسی تاریخ کا حصہ رہے ہوں۔ معلومات کا اس قدر ذخیرہ رکھتے تھے کہ سیاست اور صحافت کی ابتداء سے حال تک، کتابوں کی ورق گردانی کے بغیر راہنمائی کرتے تھے۔ وہ تو اک حوالہ تھے، جس سے کبھی بھی، کہیں بھی استفادہ کیا جا سکتا تھا۔ کتابِ زندگی کا اک ایسا باب تھے کہ جسے آپ بار بار بھی پڑھیں تو جی نہ بھرے۔ عاجز اس قدر کہ، ایک مرتبہ میں نے ان سے کہا کہ ”آپ کی صحبت جب بھی میسر آتی ہے، اتنی اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں کہ حیرانی ہوتی ہے۔ آپ پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ کی کئی ”آف دی ریکارڈ“ باتیں اور واقعات بتا کر ہمیں ممنون کر دیتے ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا میں تو خود طالبعلم ہوں“۔ یعنی ان کے مزاج میں درویشی عیاں رہتی تھی۔ وہ اک ادارہ تھے، افسوس یہ ادارہ اب نہیں رہا۔
رؤف طاہر کسی پروٹوکول کے بھی قائل نہ تھے۔ انہوں نے کبھی اس بات کو محسوس نہیں کیا کہ اگلا بندہ انہیں دروازے تک چھوڑنے آیا کہ نہیں۔ کبھی گاڑی میسر نہ آتی تو پیدل ہی نکل جایا کرتے۔ عموماً وہ فون کئے بنا ہی آ جایا کرتے اور کہتے کہ قریب سے گزر رہا تھا، سوچا آپ سے مل لیں اور چائے پی لیں۔ متحرک اس قدر کہ، محسوس کرتے کہ کسی بندے کی ذات سے اگلے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے تو غیر محسوس انداز میں دونوں فریقوں کی ملاقات کروانے کیلئے کہتے کہ میں آپ کی طرف آ رہا ہوں، فلاں بندے سے آپ کو ملوانا ہے۔ غرض اپنی ذات میں اک انجمن اور رونقِ محفل تھے۔ ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کے تجزیے راہنما حیثیت رکھتے تھے۔ وہ اک زندہ دل شخص تھے جو محفل کو زعفران بنا دیا کرتے تھے۔ کسی مجلس میں ان کے ہمراہ گھنٹوں بھی بیٹھے رہتے تو تھکاوٹ محسوس ہوتی اور نہ ہی وقت گزرنے کا احساس ہوتا تھا، بلکہ جی چاہتا کہ نشست مزید چلے۔
عمروں کے واضح فرق کو کبھی انہوں نے کسی کو بھی محسوس نہیں ہونے دیا۔ ہر کوئی یہی سمجھتا کہ رؤف طاہر کا تعلق اس کے ساتھ زیادہ ہے لیکن وہ سب سے یکساں محبت رکھتے تھے۔ ہماری کئی ملاقاتیں رہیں۔ بلکہ جس ہفتے کے آغاز پر ان کا انتقال ہوا، اس ہفتے بھی ملن طے تھا۔ لیکن ملاقات یوں ہوگی، یہ بات تو وہم و گمان بھی نہیں تھی۔ رؤف طاہر کے ساتھ کئی یادیں وابستہ ہیں۔ وہ ایک کنکشن تھے۔ جب بھی کہیں کوئی ضرورت پڑتی فوراً ”بریجنگ رول“ پر آ جاتے۔ یوں پُل بن جاتے جیسے ان کا اپنا ذاتی کام ہو۔
وہ سادہ لوح، دھیمی اور حلیم طبعیت شخص اور بے غرض انسان تھے۔ تمام عمر مال و دولت کی حرص سے کوسوں دور رہے۔ انہیں جائیدادیں بنانے، اچھی سوسائٹی میں گھر لینے یا بینک بیلنس بڑھانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان سے کئی برسوں کا تعلق تھا۔ کم از کم 15 برس پرانی شناسائی تھی۔ ہمیں ان کی عادت سی ہو گئی تھی۔ کاش وہ جاتے جاتے یہ بتا جاتے کہ اگر وہ نہ رہیں تو ان کے بعد ان جیسا کون ہوگا جس سے ہم استفادہ کرتے رہیں۔
شاعر حکیم شفیق کھوکھر نے رؤف طاہر مرحوم کے اوصاف کی کیا خوب منظرکشی کی ہے:
لو چھوڑ گئے ہیں سب کو یارو رؤف طاہر
کتنا تھا صاف اُن کا باطن بھی اور ظاہر
وہ تو کما گیا ہے صحافت میں نیک نامی
کرتے تھے پیار اس سے مجیب الرحمان شامیؔ
چہرے پہ مسکراہٹ رکھتے تھے وہ ہمیشہ
یاروں کے دل میں رہنا لگتا تھا اُن کا پیشہ
رکھتے تھے دوستوں کو اپنے عمل سے راضی
اس بات کی گواہی دیتا ہے منشاء قاضی
بھولے نہیں تھے جا کر، جدہ میں دوستوں کو
پائیں گے اب لحد میں روحانی رفعتوں کو
خالد محمود ؔ،منشاؔء،آصف جاء ؔاور شامیؔ
دل میں رہیں گی یادیں اُن کے سدا مدامی
باتوں میں تیری جو، تھی،تاثیر ؔ الفتوں کی
مقروض ہے یہ، دنیا!تیری محبتوں کی
روشن ہو قبر تیری نور نبیﷺ سے دائم
رحمت کی بارشوں کا ہو سلسلہ بھی قائم
جنت کا باغ اللہ تیری قبر کو کر دے
ورثاء کو تیرے اللہ صبرجمیل دے دے
عابدؔ،شفیقؔ تیری،ہیں مغفرت کے طالب
اللہ کرے ابد میں تیری نیکیوں کو غالب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com