ملت کا پاسبان اور موجودہ پاکستان

ملت کا پاسبان اور موجودہ پاکستان
کہتے ہیں کہ پاکستان کی پہلی کابینہ کا اجلاس تھا اور اس اجلاس میں قائد اعظم محمد علی جناح بھی موجود تھے۔اے ڈی سی گل حسین نے قائداعظم محمد علی جناح سے پوچھا کہ سر،اجلاس میں چائے پیش کی جائے یا کافی؟ قائداعظم نے چونک کر سر اٹھایا اور فرمایا کہ” یہ لوگ گھروں سے چائے یاکافی پی کر نہیں آئے؟”اے ڈی سی گھبرا گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا کہ” جس وزیر نے چائے یاکافی پینی ہے تو وہ گھر سے پی کر آئے یا پھر گھر واپس جاکر پیئے۔قوم کا پیسہ قوم کیلئے ہے، وزیروں کیلئے نہیں۔ـ”قائداعظم محمد علی جناح ملت کے پاسباں تھے اورقوم کی ہرچیز امانت سمجھتے تھے جبکہ عصر حاضر میں وزیروں اور مشیروں پر طائرانہ نظر دوڑائیں تو آپ حیران اور پریشان ہوجائیں گے ۔یہ لوگ ملک کے وسائل کو کتنے بے دریغ صرف کرتے ہیں۔آپ وفاقی ، صوبائی، ڈویژن اور ضلع لیول پرذمہ داران کو دیکھیں تو آپ کو ان پر مغل بادشاہوں اور شہزادوں کا گمان ہونے لگے گا۔پاکستان انتہائی خوبصورت اور معدنی دولت سے مالا مال ملک ہے لیکن آج پاکستان کا بچہ بچہ مقروض ہے۔ اس میں غریب عوام کا قطعی قصور نہیں ہے ۔غریب لوگ بارہ سے اٹھارہ گھنٹے روزانہ کام کرتے ہیں لیکن پھر بھی دو وقت متوازن کھانا نہیں کھاسکتے ہیں۔کرپشن غریب لوگ نہیں کرسکتے ہیں۔غریب لوگ قومی وسائل کو ضائع نہیں کر سکتے ہیں۔حکمران طبقہ ملک کے نام پر قرضہ لیتے ہیں ،پھر اسی سے اپنی مراعات میں اضافہ کرتے ہیں اور پھر غریبوں کے جیبوں سے قرض بمعہ سود نکالتے ہیں۔ حکمران کہتے ہیں کہ پاکستانی قوم ٹیکس نہیں دیتی حالانکہ پاکستان کا بچہ بچہ بھی ٹیکس دیتا ہے۔چیزوں پر قیمت بمعہ ٹیکس تحریر ہوتا ہے۔یہ پاکستانی ٹیکس نہیں دے رہے تو پھر یہ کیا دے رہے ہیں؟ ـ”ہوا ـ”کے سواکوئی ایک چیز بھی نہیں ہے جس پر ٹیکس نہیں لیا جارہا ہے۔پاکستان میں “ہوا ” پر ٹیکس نہیں ہے لیکن بڑے شہروں میںپاکستانیوں کو صاف “ہوا” بھی میسر نہیں ہے۔وزیراعظم عمران خان کو لوگوں نے مثبت تبدیلی کیلئے ووٹ دیے تھے لیکن انھوں نے اب تک تقریباً ہر بات پر یوٹرن لیا ۔عمران خان نے کہا کرتے تھے کہ میں خود کشی کرلوں گالیکن کسی ملک سے بھیک نہیں مانگوں گااور آئی ایم ایف سے قرض نہیں لوں گا۔آئی ایم ایف قرضوں کے بارے میںصدر پیر یز نے کہا تھا کہ”آئی ایم ایف ایک نیوٹرن بم ہے جو انسان کو تو ماردیتا ہے مگر عمارتوں کو سلامت چھوڑ دیتا ہے۔”وطن عزیز میں بعض لوگ آئی ایم ایف کے قرض کی قسط پر شادیانے بجا تے ہیں۔خوشی اور شادمانی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنی عقل و دماغ پر ناز کرتے ہیں۔وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیاحالانکہ آئی ایم ایف ایسے شکارکی تلاش میں ہوتاہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے جال میں پاکستان جیسے ملک پھنس جائیں۔آئی ایم ایف کی ایما پر بجلی، گیس اور پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے کیے جاتے ہیں اور اداروں کی نجکاری کی جاتی ہے۔توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا جن خودبخود بوتل سے باہرآجاتا ہے اور غریب لوگ اس کے چنگل میں آجاتے ہیں۔ بہرحال حکمران طبقے کواپنے گریبان میں جھانکھنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ ہم پاکستان اور عوام کے ساتھ کیا کررہے ہیں؟ علاوہ ازیںہمارے حکمران یہ چورہے اور وہ چور ہے ،اِس نے کرپشن کی ہے اور اُس نے کرپشن کی ہے ،وغیرہ الزامات پر وقت ضائع نہ کریں بلکہ اگر کسی نے کرپشن کی ہے یا کوئی چور ہے تو ان پر ثابت کرکے سزا دیں ۔حکمران طبقہ وطن عزیز پاکستان اور غریب عوام کی حالت بہتر کرنے کیلئے عملی کام کریں۔اگر پاکستان واقعی مالی بحران کا شکار ہے تو اس گرداب سے نکلنے کیلئے سب پاکستانیوں کو بلاتفریق کام کرنا چاہیے۔اگر سب پاکستانی قربانی دیں گے تو پاکستان بھنورسے نکل جائے گا۔حکمران صرف چند اقدامات اٹھائیں تو پاکستان کھبی غریب اور مقروض نہیں رہے گا۔(۱)صدر، وزیراعظم،وزائے اعلیٰ، سینٹ، قومی اور صوبائی ممبران وغیرہ تنخواہ اور دیگر مراعات نہ لیں کیونکہ یہ ملازمت نہیں بلکہ قومی خدمت کررہے ہیں۔جولوگ بغیر تنخواہ اور مراعات کے کام نہیں کرسکتے ہیں یعنی اگر وہ خدمت نہیں کرسکتے ہیںتو ضروری نہیں کہ وہ اس میدان میں آئیں ،وہ اپنا بزنس یا ملازمت کریں۔(۲)بجلی ،گیس ، ٹیلی فون اور پٹرول کی فری سہولت سب پاکستانیوں (یعنی صدر سے چپڑاسی تک) سے ختم کی جائے ۔(۳) ہسپتال میں وارڈاور آپریشن تھیڑکے علاوہ تمام سرکاری دفاتر اور عمارتوں سے ائیرکنڈیشن اتارے جائیں۔(۴)ہفتہ وار دو چھٹیاں ختم کی جائیں۔قائد اعظم کے فرمان کے مطابق کام ، کام اور صرف کام کرنا چاہیے۔(۵)مجسٹریٹی نظام کے ذریعے ہر اشیاء کی خریدو فروخت پر نظریں رکھی جائیں اور اس کیلئے سخت سزا و جرمانہ مقرر کیا جائے ۔ قائداعظم کے تین اصول یقین، نظم وضبط اور بے لوث لگن کے ساتھ دنیا کی ہر چیز حاصل کی جاسکتی ہے۔قارئین کرام ! بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے24اکتوبر1947ء کو فرمایا تھاکہ” ہم جتنی زیادہ تکلیفیں سہنا اور قربانیاں دینا سیکھیں گے، اتنی ہی زیادہ پاکیزہ ، خالص اور مضبوط قوم کی حیثیت سے ابھریں گے جیسے سونا آگ میں تپ کر کندن بن جاتا ہے۔ ــ”قائد اعظم نے 15نومبر1942ء کو آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ “مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں؟مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کردیا تھا۔الحمد اللہ قرآن مجید ہماری رہنمائی کیلئے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا۔”
خالد خان کالاباغ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com