dav

سسٹم میں رہتے ہوئے برائیوں کے خلاف دستک دینی ہوگی: قاسم علی شاہ

قاسم علی شاہ کے نام سے کون واقف نہیں وہ سماج کی برائیوں کو آشکار کرتے ہیں۔ زندگی کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اشخاص اپنے کونسلنگ کے لئے ان سے رابطہ کرتے ہیں۔ وہ ایک ٹرینر ہیں جو موٹویشنل سپیکنگ میں اپنا ایک منفرد مقام پا چکے ہیں ان سے گفتگو کر کے ایسا لگتا ہے جیسے رجائیت پسندی ہی ایک طرز فکر ہے وہ منفی باتوں پر کان نہیں دھرتے ہیں اتنے لوگوں سے ملنے کے باوجود اکتاہٹ کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اپنی ملنساری اور اعلی اخلاق سے اپنا مزید گرویدہ کر لیتے ہیں۔ قاسم علی شاہ اتنا گھل مل جاتے ہیں کہ لگنے لگتا ہے کہ ان سے دہائیوں کی شناسائی ہے۔ وہ سقراط، جیسی خود سوزی کی سوچ کی مذمت کرتے ہیں اور سماجی برائیوں پر آہستگی سے دستک دینے پر یقین کرتے ہیں تاکہ یہ سسٹم کا حصہ رہتے ہوئے اغلاط کی صحیح نشاندھی کر سکیں۔ قاسم علی شاہ ویسے تو سیاسی معاملات پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں لیکن میرے سوال پر انہوں نے عمران خان کی حکومت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا۔کہ ایک فرد اکیلا سب درست نہیں کر سکتا کیونکہ خاصا وقت لگتا ہے معاملات کو صحیح ڈگر ڈالنے میں۔ ان کا دل میں یہ تیقن تھا کہ اگر نوجوان بروقت اپنی ڈائیمنشن کا تعین کر لیں تو ان کو کامیابی حاصل کرنے سے کوئی رکاوٹ روک نہیں سکتی۔ وہ کتاب دوست شخصیت ہیں اس لئے اپنے زیر اثر افراد کو بھی اپنے مشاہدات لکھنے اور صاحب کتاب ہونے کی تلقین دیتے ہیں۔ کتابیں پڑھنے اور تاریخ کو سمجھنے کے لئے اپنا مطالعہ وسیع رکھتے ہیں۔ قاسم علی شاہ جیسے مدبر لوگ ہی اس ملک کا اثاثہ ہیں اس مقام پر پہنچ کر بھی وہ نہیں بدلے اور ویسے ہی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں یہ ان ہی کا بڑا پن ہے جسے شاید ہمارے بڑے لوگوں کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے اچھی خاطر تواضع کے بعد رخصت کیا ان جیسے لوگ ارباب اختیار کے مشیر ہوجائیں تو یقن کیجئے معاملات کی گتھی سلجھنے لگتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com