لاک ڈاؤن میں نرمی پر عوام کی ذمہ داری

لاک ڈاؤن میں نرمی پر عوام کی ذمہ داری
عمران امین
پوری دنیااس وقت ایک زبردست معاشی بحران سے گزر رہی ہے،انسانی ہلاکتوں کی کثرت نے جدید طبی سائنس کی ترقی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے،اب سے صرف چند ماہ پہلے ترقی یافتہ ممالک کے شہری اپنے اپنے ملک کی سائنس،ٹیکنالوجی،دفاع،معیشت،تعلیم،صحت جیسے اہم اداروں کی کارکردگی سے مطمئن تھے اُورترقی یافتہ ملک کاہر شہری اپنے آپ کو ہر لحاظ سے محفوظ تصور کرتا تھا۔اس بات میں کوئی شک بھی نہیں تھا کہ جدید ایجادات نے انسان کو ایسی نعمتوں سے آشنا کروا دیا تھا جن کا تصور بھی چند سال پہلے ممکن نہ تھا۔لیکن پھرایک چھوٹے سے وائرس نے انسانی غرور اُور اکڑکے سارے مینار گرا دئیے۔مادی اشیاء کی عظمت و شان کے قصیدے پڑھنے والے ایک خُدا کے آگے جھکنے کو تیار ہو گئے کیونکہ دنیا کی ناپائیداری کا بھرم کھل چکا ہے۔جعلی ترقی اُور مصنوعی شان و شوکت کے دیو مالائی قصے اب اپنے اختتام کو پہنچ چکے ہیں۔ساری دنیا ایک بڑی تباہی کے بعد آہستہ آہستہ سنبھلنے کی طرف چلنا شروع ہو چکی ہے۔لاک ڈاؤن کی بنیاد پر ساری دنیا کے افرادکو گھروں میں پابند رکھنے کے بعداب صورتحال نارمل ہونے لگی ہے۔کئی ممالک نے اپنی اقتصادی حالت کی پیش نظرلاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔البتہ پاکستان ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں ”کورونا وائرس“ کی تباہی ابھی تک جاری ہے مگر ملکی اقتصادی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت لاک ڈاؤن میں نرمی کا سوچ رہی ہے اُور توقع ہے کہ اگلے چند دنوں میں اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔اگرچہ یہ سچ ہے کہ اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان میں بے شمار افراد اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے،دُکان دار طبقہ بد حال ہو گیا،ٹھیلے اُورریڑھیوں والے فاقوں کا شکار ہو گئے اُور یوں بہتری کی طرف مائل معیشت کا پہیہ ایک بار پھر ریورس چلنے لگا ہے۔وفاقی حکومت نے بیرونی امداد اُوردستیاب وسائل کے ذریعے کورونا کے متاثرین افراد کو مختلف طریقوں سے ریلیف دیا ہے اُور اس مد میں حکومت نے دُکانوں کے کرایے،بجلی اُور گیس کے بلز معاف کر کے اُور بے روزگار افراد کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کر کے عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کامیاب کو شش کی ہے۔مگر یاد رہے کہ یہ مصیبت بہت بڑی ہے اُور طویل عرصے تک چلنے والی ہے،لہذا حکومت مجبور ہو کر لاک ڈاؤن کو آسان بنانے کا سوچ رہی ہے۔حالانکہ میڈیکل سے متعلق افراد اُور ڈاکٹرز کی تنظیمیں لاک ڈاؤن میں کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ اُن کے عہدیداران بار بار پریس کانفرنسیں منعقد کر کے حکومت کو لاک ڈاؤن میں نرمی کے نقصانات سے نہ صرف آگا ہ کر رہے ہیں بلکہ لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں نیز سنجیدہ حلقے اُورملک کی سیاسی جماعتیں بھی لاک داؤن میں نرمی کے خلاف ہیں۔جبکہ صوبہ بلوچستان کی حکومت نے اپنے معروضی حالات کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں مرکز کی جانب سے نرمی کے حتمی فیصلہ آنے سے پہلے ہی اپنے صوبے میں لاک ڈاؤن کی مدت میں مزید پندرہ دن کا اضافہ کر دیا ہے۔یاد رہے یہ حالات آپس میں ضد بازی یا انا پرستی کے خاتمے کے متقاضی ہیں،لہذا سب سیاسی جماعتوں اُور صوبائی حکومتوں کو مرکزی حکومت کے فیصلوں کی پاسداری کرنا چاہیے۔تاکہ پوری قوم جلد از جلد ا س عذاب سے باہر نکلے۔عالمی ادارہ صحت بھی آئندہ آنے والے دنوں میں خصوصاً پاکستان اُوربھارت میں اس مرض کے پھیلاؤ کا تذکرہ اپنی رپورٹوں میں کر چکا ہے۔اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے،عمران خان کو جو بھی فیصلہ کرنا ہے بڑا سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا کیونکہ یہ کھیل کا میدان نہیں کہ جہاں غلط فیلڈ سیٹنگ کے بعداگلے اُوور میں فیلڈنگ دوبارہ تبدیل کر دی جائے بلکہ یہاں مستقل اُور پائیدار فیصلے ملک و قوم کے مستقبل سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ہر ذی شعور پاکستانی مشکل حالات کا شکار اُور پریشان ہے اُور چاہتا ہے کہ اُس کے گھر کا چولہا ہر صورت جلتا رہے،دُوسری طر ف وفاقی حکومت بھی عوامی مشکلات سے آگاہی رکھتے ہوئے اپنے نرمی والے فیصلے پر عمل درآمد کا سوچ رہی ہے۔اگرحکومت اپنے عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے مشکل فیصلہ کر رہی ہے تو عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومتی جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق باہر نکلیں اُور اپنے کام سے فوری فارغ ہو کر واپس گھروں میں آجائیں۔بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کی اکثریت جاہل اُور ان پڑھ لوگوں کی ہے جو ابھی تک بھی ”کوروناوائرس“ کو سنجیدہ نہیں لے رہے اُور کہتے ہیں ”جو رات قبر میں آنی ہے وہ باہر نہیں آ سکتی“۔ارے بھلے مانسوں! اللہ بھی حکمت اُورتدبیر کا حکم دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بھی سب سے پہلے دستیاب دنیاوی وسائل کے استعمال کا حکم دیتے ہیں۔لہذا سب سے پہلے من حیث القوم ہمیں اس غیر سنجیدگی کے دائرے سے باہر نکلنا ہے، بیماری کی حقیقت کو سمجھنا ہے،احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا ہے اُورسوشل فاصلے کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے۔یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ اگر آپ کورونا سے متاثر ہوتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کے گھر والے آپ کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا ہو ں گے پھر کسی اُور کی باری آئے گی۔ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ اپنے روٹھے رب کو بھی منانا ہے،اپنے گناہوں پر استغفار بھی کرنا ہے،نیک اعمال پر کاربندرہنا ہے تاکہ جلد سے جلداس عذاب الہٰی سے جان چھوٹ جائے۔ جب اللہ راضی ہو گیا تو سب راضی ہوگیا، کیونکہ اللہ کی مرضی میں سب کی مرضی شامل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com