حضور اکرم ﷺ رحمت ِمجسم ہیں

حضور اکرم ﷺ رحمت ِمجسم ہیں
مولانا محمد اکرم اعوان:
اللہ کریم قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کما ارسلنا فیکم رسولکم منکم یتلوا علیکم ایتنا و یزکیکم و یعلمکم مالم تکونوا تعلمون۔یہ اتمام نعمت کیا ہے؟ہم نے تمہارے اندر ایک عظیم الشان رسول ﷺ مبعوث فرمایاجو تمھیں ہماری آیات و احکام پڑھ کر سناتا ہے اور تمھیں پاک کرتا ہے، تمھاری صفائی کرتاہے اور تمھیںکتاب، کتاب کی سمجھ اور کتاب کے مفاہیم بتاتا ہے۔ تمھیں ایسی عظیم اور مفید باتیں بتاتا ہے جس سے تم بے خبر تھے ۔گویا بعثت ِ محمد رسول اللہ ﷺ سے اللہ کی نعمت تما م ہوئی۔حضور اکرم ﷺ رحمت مجسم ہیں اور اللہ کی رحمت تمام کائنات سے وسیع ہے۔ ان رحمتی وسعت کل شئی رحمت ِ الٰہی ہر چیز سے وسیع تر ہے اور جو رسول اللہ ہم میں مبعوث ہوئے، وہ مجسم رحمتِ الٰہی ہیں۔ آپ ﷺ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کی برکات، ہمیں یہ دونوں چیزیں کس طرح پہنچتی ہیں ؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ یتلوا علیکم ایتنا کہاں ہم اور کہاںاللہ کریم کی ذات! یہ اللہ کا رسول ﷺ ہے جو اللہ کی باتیں سناتا ہے، اللہ کے احکام سناتا ہے ، اللہ کی مرضیات سے آگاہ کرتاہے، اللہ کی بات پہنچاتا ہے۔اللہ کس بات سے خفاہوگا۔وہ بات بتاتاہے۔یتلوا علیکم ایتنا اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے( تمھیں )براہِ راست رب العٰلمین کے روبرو کردیا۔
بعثت ِ عالی ﷺ سے پہلے لوگ بھی ہوئے ہیں جو ہدایت کے متلاشی تھے۔ مکہ مکرمہ کا ایک شخص زید بن عمرو بن نفیل تھا۔ اسے بتوں سے نفرت تھی اور وہ سمجھتا تھا کہ جن بتوں کا وجود خود انسان گھڑ کر بناتا ہے وہ انسان کے لیے کیا کریں گے؟ وہ اپنے وجود میں محتاج ہے،ایک پتھر ہے اسے چاہیں تو دیوار میں لگا دیں، چاہیں تو کسی فرش میں لگا دیں اور چاہیں تو تراش کر بُت بنالیں۔ وہ بُت انسان کی حاجت روائی کیا کرے گا جو خود اپنے وجود کے لیے انسان کا محتاج ہے۔ عہد فترت تھا اور حق ملتا نہیں تھا۔ اس شخص نے دنیا کے مختلف ممالک کے سفر کیے،گرجوں اور کلیسائوں میں گیا، یہودیوں کے علماء کے پاس گیا،زندگی بھر حق کی تلاش میں لگا رہا۔جہاں جاتا کچھ کھرے لوگ بھی مل جاتے۔ وہ بتاتے کہ ہمارے پاس رواجات ہیں ، رسومات ہیں لیکن ہمیں خود بھی حق کی خبر نہیں۔ کچھ رواجات و رسومات دین کے طور پر بتاتے ہیں لیکن وہ اسے پسند نہ آتے ۔ آخر عمر میں تھک ہار کر مکہ مکرمہ میں مقیم ہوگیا۔ بیت اللہ شریف میں حاضری دیتا اور دعا کیا کرتا تھا کہ اے اللہ! تو ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ تو کہاں ہے، تو کیسا ہے؟ تو عبادت کے لائق ہے لیکن تیری عبادت کیسے کی جائے؟ مجھے نہیں پتہ توکس بات پہ خفا ہوگا، نہ مجھے خبر ہے کہ تو کس بات پہ راضی ہوگا۔ پھر بیت اللہ شریف کے سامنے سے مٹی اٹھاتا اور اس پر پیشانی ٹیکتے ہوئے کہتا کہ میری یہی عبادت قبول کر لے۔اس کے کچھ اشعار بھی ملتے ہیں
ء رب واحد ام الف رب
ء دین اذا تقسمۃ الامور
کہ رب کوئی ایک جو ساری مخلوق کو بلا تفریق پال رہا ہے۔ہر ایک کو اس کا حصہ دے رہا ہے ، ہر ایک تک دھوپ، روشنی اور ہوا کا اہتمام کر رہاہے۔ یہ کوئی ایک ہستی ہے۔ جس طرح تم نے ہزاروں بنائے ہوئے ، ہزاروں ہوتے تو اس نظام میں کئی خرابیاں پیدا ہوتیں ۔کوئی کہتا دھوپ ہونی چاہیے ، دوسرا کہتا گرمی ہونی چاہیے۔ اگر یہ ہزاروں معبود ہوتے اور ہزاروں پالنے والے ہوتے تو اس طرح کا نظام بے عیب نہیں چل سکتا تھا۔ایک ہی ہستی ہے جو یہ نظام چلارہی ہے،جسے کوئی روکنے والانہیں، جس کی اپنی قدرت کاملہ سے سب چل رہا ہے۔ یہ کون سا دین ہے جس میں کام بانٹ دیے جائیں کہ یہ بت اولاد دیتا ہے، یہ بت صحت دیتا ہے، یہ بارش برساتا ہے۔ اگر اس طرح سے کام بانٹ دیے جائیں تواسے دین نہیں کہا جاسکتا ،یہ تو خرافات ہیں۔
ترکت لات ولعزیٰ جمیا
کذالک یفعل رجل بصیر
(میں لات و عزیٰ سب سے بے زاری کا اعلان کرتاہوں اور اللہ کریم بصیرت دیں گے وہ ایسا ہی کرے گا۔)اس وقت یہ عالم تھا کہ اللہ کریم کے ماننے والے کو بھی کہیں سے رہنمائی نہ مل سکتی تھی۔ اللہ کریم فرماتے ہیں کما ارسلنا فیکم رسولکم منکم یتلوا علیکم ایتنا و یزکیکم و یعلمکم مالم تکونوا تعلمون میں نے تم پر اپنا انعام اس طرح مکمل کیا کہ میں نے وہ ہستی مبعوث کردی جس نے تمھیں اللہ سے ہم کلام کردیا۔جب کوئی جانتا نہیں تھا،اللہ کی ذات سے واقف نہیں تھا،اس کی صفات سے واقف نہیں تھا،اس کی صفات سے واقف نہیں تھا،اس کی رضا کا پتہ نہ تھا کہ وہ کس بات سے خفا ہوگا،میں نے تم میں وہ عظیم الشان رسول اللہ مبعوث فرمایا۔یتلوا علیکم ایتنا میرا رسول تمھیں میری باتیں سناتا ہے۔گویا تمھیں میرے روبر کردیا ، میرے رسول ﷺ کی وساطت سے تم میری بات سننے کے قابل ہوگئے۔ویزکیکم اور اس نے تمھیں پاک کردیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کی یہ دو صفات ہیں یعنی تعلیمات نبوت،اللہ کریم کی باتیں پہنچائے ،وہ علوم پہنچائے جو معرفت کا ذریعہ ہیں، ان امور سے مطلع فرمائے جو رضائے الٰہی کا ذریعہ ہیں، ان باتو ں سے آگاہ فرمائے جن سے اللہ کریم خفا ہوتے ہیں۔یہ سب تعلیمات رسول اللہ ﷺ ہیں۔ ان میں قرآن حکیم بھی موجود ہے،ان حدیث پاک ہے، ان میںحضور اکرم ﷺ کے افعال مبارکہ بھی ہیں۔ جو کچھ آپ ﷺ نے کیا، جوکچھ آپ ﷺ نے فرمایا،یہ سب تعلیماتِ رسول اللہ ﷺ ہیں۔
دوسرا شعبہ برکات ِ نبوت ﷺ ہے،ویزکیکم( اور تمھیں پاک کردیا۔)نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کیسے تزکیہ فرمادیتے!اس کے لیے چلہ کشی نہ کی گئی،نوافل یاوظیفوں کی تعداد مقرر نہیں کی گئی، اس کے لیے کوئی لمبا عرصہ مقرر نہیں کیا گیا۔جوایمان لایا،جس کے دل میں نورایمان تھا اور ایک نظر اس نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھ لیا یا نبی کریم ﷺ کی نگاہ پاک اس پر پڑ گئی،یہ تزکیہ اس کی نظر کی بات تھی۔انسان جب مومن ہوتا ہے تو ایک درجہ پاکیزگی حاصل کرلیتا ہے۔عالم ہوجاتا ہے،قرآن کریم سمجھتا ہے، حدیث سمجھتا ہے تو پاکیزگی مزیدبڑھ جاتی ہے۔ولی اللہ ہوجاتا ہے تو کیفیات حاصل کرلیتا ہے اور یاد رکھیں ہر ولی اللہ عالم ہوتا ہے۔ اگر کسی کے پاس ذاتی علم ہوتو وہ کسی عالم کے ساتھ ہوتاہے۔اس کا شَیخ توبہت بڑا عالم ہوتا ہے۔علم کے بغیر تصوف نہیں رہتا ۔ہرصوفی عالم ہوتا ہے لیکن ہر عالم صوفی نہیں ہوتا۔علم کے الگ درجات ہیں لیکن اگر کسی کو صفائے قلب نصیب ہوجائے اور عالم بھی ہو تو وہ بہت آگے نکل گیا۔اگر روئے زمین کے سارے علماء اور اولیاء کی عظمت جمع کردی جائے تو صحابی کی خاک پا کو نہیں پہنچتی۔نبی کریم ﷺ کیسے تزکیہ فرماتے تھے کہ ایک نگاہ میںبندہ صحابیت سے سرفراز ہوجاتا تھا۔صحابی تولغوی مطلب صحبت یافتہ ہے لیکن یہاں اصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ نوع انسانی میں جو سب سے زیادہ اللہ کے قریب ہوجائے ،نبی کے بعد جس کی عظمت مسلّم ہوجائے، جس کی امانت، دیانت،ورع تقویٰ شکوک و شبہات سے بالا تر ہوجائے۔شرف صحابیت اتنی بڑی عظمت ہے کہ جس کا احاطہ اس دنیا میں نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی عظمت کا اظہار میدان ِ حشر میں، آخرت میں ہوگا۔انسانی عقل،انسانی علوم اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔لوگ اسے سمجھتے نہیں ہیں اور بڑی بے تکلفی سے عظمت صحابہ پہ زبان درازی کرتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے لوگ جہالت کی وجہ سے اللہ پہ طعن کرتے ہیں، انبیاء پہ طعن کرتے ہیں۔اپنی جہالت کی وجہ سے صحابہ پہ بھی طعن کرتے ہیں۔صحابی ہونا بجائے خود ایک اتنی بڑی عظمت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فریاما:اصحابی کالنجوم (میرے صحابہ ہدایت کے ستارے ہیں۔) ستارے جس طرح چاندسے روشنی حاصل کرتے ہیں،اسی طرح صحابہ کرام ؓ برکات ِ نبوت ﷺ سے روشن ہیں اور رہنمائی فرماتے ہیں۔با یھم اقتدیتم اھتدیتم ان میں سے جس کسی کا دامن تھام لوگے ہدایت پاجائو گے۔صحابہ میں سے جس کے پیچھے چل پڑو گے وہ تمھیں بارگاہِ الٰہی میں پہنچادے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com