اسلامی تعلیمات کی روشنی میں احتیاطی تدابیر

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں احتیاطی تدابیر
تحریر:پروفیسرشمشاداختر
آج کل پوری دُنیا میں جووبائی مرض کروناوائرس پھیل رہا ہے اِس حوالے سے احتیاطی تدابیرضروری ہیں۔مگراِن تدابیرکے اختیارکرنے میں اہل علم کے درمیان تقدیروتدبیرکی بحث عروج پر ہے۔حالانکہ تقدیروتدبیرلازم وملزوم ہیں دواتدبیر ہے تودُعاتقدیرہے۔اِس کی مثال یوں ہے کہ ایک کسان اپنے کھیت میں دانہ نہیں بوتاتووہ فصل کاٹنے کی تدبیرکیسے کرسکتا ہے۔دُوسراکسان زمین میں بروقت کاشت کرکے زمین ہموار کر کے فصل تیارکرتا ہے فصل تیار ہوجاتی ہے۔اچانک آسمانی آفت جیسے بے وقت بارشیں،سیلاب،آندھیاں یاٹڈی کا حملہ ہو جائے فصل تباہ ہو جائے تو اِس کوتقدیرکاحملہ یابدبختی کہا جائے گا۔انسان نے تدبیرتوکی مگرتقدیرمیں یہ نقصان لکھا ہواتھاسوہوگیا۔بقول میرتقی میر
“اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں کُچھ نہ دوا نے کا م کیا”
ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ تقدیرکی ضرب کاری ہے۔قرآن مجیدمیں 36 مُقامات پر”قدر”کا لفظ استعمال ہو اہے۔البقرۃ آیت نمبر۶۳۱میں بمعنی حیثیت/طاقت،الانعام آیت نمبر۱۹میں بمعنی تکریم وقدر،سورۃ یونس آیت نمبر۵ بمعنی مقررکرنا/مُتعیّن کرنا،الرعدآیت نمبر۷۱بمعنی گنجائش/وُسعت،الحجرآیت نمبر۱۲بمعنی مُتعیّن/محدود،سورۃطٰہٰ آیت نمبر۰۴میں بمعنی مُقررکرنا/مُتعیّن۔لیکن سب سے جامع اورواضح معنی لفظ”قدر”اورتقدیرکوالفرقان آیت نمبر۲میں ذکر کیا گیا ہے۔خَلَقَ کُلَّ شیِ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًاoترجمعہ:پھراِس کوایک مقرراندازے پر ٹھہرایا۔اِن سب معانی کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے سامنے دومعانی نکھرکرسامنے آتے ہیں۔
۱۔پہلا معنی اللہ تعالٰی کے مُتعیّن اُمور(جواُس کے فیصلے ہیں)
۲۔دوسرا معنی اللہ تعالٰی کے اندازے(جو اِس کے فیصلے نہیں لیکن جواعمال ہم نے مُستقبل میں اپنی مرضی سے کرنے ہیں اُن کا علم کامل)
اِس کا مطلب ہے کہ تقدیرمیں کُچھ اللہ کی مُتعیّن کُردہ چیزیں ہیں نظام کائنات کے چلانے کے لئے اگروہ ہم پرچھوڑدے تونظام کائنات نہ چلے۔اورکُچھ کام اورچیزیں ہمارے ہاتھ میں ہیں (اِن سب کا علم کامل اللہ کے پاس ہے)جوہم اپنی مرضی سے کرتے ہیں (اِن پر جزاوسزا ہے)۔پہلا حق اللہ کا ہے اِس کے فیصلے میں انسان کا عمل دخل نہیں لٰہذا اِس پرسزابھی نہیں۔دوسراحصہ مکمل بندے کے اختیار میں اِسی پرجزاوسزاہے۔کیونکہ تدبیر کا لفظ”دُبر”سے نکلا جس کا مطلب ہے پیچھے،پُشت یا آخرہے۔یعنی کام کے نتائج یا انجام کار سوچ کراللہ کی توفیق سے عمل کرنا۔تقدیراللہ کے اختیارمیں کُچھ اِس نے بندے کے اختیارمیں بھی دی۔تدبیر کاعمل بندے کی ذمّہ داری ہے(تقدیر وتدبیرمیں کوئی مقابلہ نہیں)انسان کا کام ہے اپنی تدبیرپرزوردے اپنا کام مکمل کر کے نتائج (اللہ)تقدیرپرچھوڑدے اِس کا نام توکل ہے۔تقدیرکامسئلہ بین بین ہے نہ بندہ مجبورمحض ہے نہ مُختار کُل۔
اِس حوالے سے حضرت علیؓ سے کسی نے پوچھاتوآپؓ نے فرمایا”ایک پاؤں اُٹھاؤاُس نے اُٹھا دیا۔آپؓ نے فرمایا اب دوسرابھی اُٹھادو عرض کی دونوں نہیں اُٹھائے جاتے فرمایایہی تقدیرہے کسی حدتک بندہ مُختار ہے اورکسی حدتک مجبورہے جزاوسزاوہی ہے جہاں بندہ مُختارہے جہاں بندہ مجبور ہے وہاں سزانہیں بلکہ جزا ہے۔تقدیروتدبیرکی مثالیں ہمیں قرآن وحدیث سے بھی ملتی ہیں۔
۱۔اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خوداپنی حالت نہ بدلے”یہ آیت نظریہ تدبیرکی حقانیت کاا علان ہے”
۲۔دوسری مثال یعقوبؑ نے اپنے بیٹوں سے فرمایا”اے میرے بیٹو!(شہرمیں)ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مُختلف دروازوں سے(تقسیم ہو کر)داخل ہونا اورمیں تمھیں اللہ (کے امر)سے کُچھ نہیں بچا سکتا کہ حکم(تقدیر)صرف اللہ ہی کے لئے ہے۔میں نے اِس پر بھروسہ کیا ہے اوربھروسہ کرنے والوں کو اِس پربھروسہ کرنا چاہئے”۔اِس آیت میں بھی تقدیر کے ساتھ تدبیراختیارکرنے کا حکم دیا گیا ہے۔مُوسٰیؑ نے اللہ کے حکم سے عصاماراتوراستے بن گئے یہاں بھی تقدیر کے ساتھ تدبیر ہوگئی۔موسٰیؑ کے عصا کا اژدھا بن کر دوسرے جادوگروں کی رسیّوں کے جوسانپ بنے اِن کو کھاگیا یہاں بھی تقدیروتدبیرکا درس ملتا ہے۔الغرض بہت سی جگہ ایسی تعلیمات قرآن میں ہیں جن کا تقدیر اورتدبیر کی طرف اشارہ کیا گیا اب احادیث مُبارکہ سے چندمثالیں دیکھتے ہیں۔
حضورﷺجواللہ کے آخری محبوب ہیں۔آپﷺنے بھی تدابیراختیارکیں اورکُچھ اختیارکرنے کا حکم دیا۔مثلاًآپﷺکے ذاتی سکیورٹی گارڈتھے جب تک قرآن پاک کا حکم نازل نہیں ہواتھا کہ”اب اللہ آپﷺکولوگوں سے مُحفوظ رکھے گا”آپﷺنے جتنے بھی غزوات کیے اِن میں تدابیراختیار کیں تلوار،گھوڑے،زرہ، اُونٹ، پانی، خوراک،لباس سب کا بندوبست کیا اوراپنی اُمت کو بھی احتیاطی تدابیر کا حکم دیا۔جنگ اُحدمیں نبی کریم ﷺ نے تدبیراختیار کرنے کے لئے 50صحابہ ؓ کو درّہے پر مُقرر کیا جیسے تدبیر کو چھوڑاتوجیتی جنگ ہار گئے۔ہر حوالے سے مثلاًوبائی مرض کے حوالے سے بخاری شریف کتاب الطب میں فرمایاکہ”جب تم سُنوکہ کسی علاقے میں طاعون پھیل گیا دوسری حدیث میں وبا کا لفظ بھی آیا ہے فرمایااِس جگہ داخل نہ ہونا اگرکسی جگہ پھیل جائے وہاں سے باہر نہ آنا۔
دُوسری حدیث بخاری شریف حدیث نمبر۴۷۴۳حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺنے فرمایا”اگرکسی شخص کو طاعون ہوجائے تووہ اپنے شہرمیں محصورہوکربیٹھ جائے”یعنی اپنے آپ کوروک لے دوسرے شہر میں نہ جائے آج لاک ڈاؤن میں یہی توکیا جارہا ہے Social Distanceکوبیان کیا۔
تیسری حدیث مُسند احمدبن حنبلؒمیں آئی حدیث نمبر۹۳۱۶۲ہے حضورﷺنے فرمایا”وہ شخص جس کوطاعون کو بیماری ہو وہ اپنے آپ کو اپنے گھرمیں روک لے۔”یہ صورت حال لاک داؤن سے بھی آگے کرفیو والی ہے۔اجتماع میں نہ جائے۔
چوتھی حدیث مُسنداحمدبن حنبلؒ حدیث نمبر۱۵۸اورمُسندابویعلٰی کی حدیث نمبر۴۱۷۶امام حسینؓراوی ہیں حضورﷺنے فرمایا”جب تم کسی جزّامی کو دیکھو یہ بھی ایک جزّام بیماری ہے تو اِس پر نظریں نہ جماؤاور جب اِس سے بات کرو تو اپنے اور اس کے درمیان ایک نیزہ (6 سے 12 فٹ) کا۔جو آج میڈیکل سائنس والے لوگ ڈاکٹر حضرات احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہہ رہے ہیں ہمارے نبی ﷺ نے 1400 سال پہلے یہ احتیاطی تدابیر بیان کر دیں۔
یہاں تک کہ اس صورت ِ حال میں نمازوں کے احکام میں اِس کو بھی بیان کر دیا گیا ہے۔ گھروں میں نمازیں ادا کرو۔بخاری شریف حدیث ۸۶۶حضرت عبداللہ ابن ِ عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب مؤذن حیّ علی الصلاۃ پر پہنچا فرمایا اس کی جگہ کہو صلوا فی بیوتکم اپنے گھروں میں نماز پڑھو جب لوگوں نے یہ سنا چہ مگوئیاں شروع کر دیں تو حضرت عبدللہ بن عباسؓ نے فرمایا لوگو جو مجھ سے بہتر ہیں یعنی حضور ﷺ نے بھی ایک دفعہ ایسے ہی فرمایا تھا۔
یہ تدابیر اختیارکرنے کا حکم اِس لئے دیا گیا تاکہ دُنیا کو جانی نُقصان سے بچایا جا سکے وگرنہ اگرہم ماضی کی تاریخ کا وبائی امراض کے حوالے سے مُطالعہ کریں توپتہ چلتا ہے کہ لاکھوں جانیں اِس وجہ سے چلی گئیں کہ لوگوں نے احتیاطی تدابیراختیار نہ کی۔
ابن جوزی ۹۴۴؁ھ کا ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جمادی الاخرمیں اندلس،آزربائیجان اورکُوفہ میں ایسی خطرناک وبا پھیلی کہ ایک ہی صُوبہ میں ایک ہی دِن میں 18ہزارجنازے اُٹھتے تھے۔مارکٹیں،دُکانیں اکثرمساجدبندتھیں لاک ڈاؤن تھا(المنتظم۸۱۔۷۱۔۶۱)
۲۔امام ذھبی ۸۴۴؁ھ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں مصر اندلس میں شدید قحط پڑ گیا اور وباء بھی قرطبہ میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ اکثر مساجد کو تالے لگ گئے ا س سال کا نام جوع الکبیر پڑ گیا (سیراعلام النبلاء)
۳۔مقریزی نے ۹۴۷ ؁ھ میں طاعون کی وباء کا ذکر کیا فرماتے ہیں کہ کئی جگہوں پر اذان بھی معطل ہو گئی صرف ایک مشہور جگہ اذان دی جانے لگی اکثر مساجد اور عبادت گا ہیں بند ہو گئیں (السلوک المعرفۃدول الملوک ۸۸/۴)
۴۔ابن حجر عسقلانی نے لکھا ۸۲۸؁ھ میں مکہ میں وباء پھیلی ایک دن مین چالیس چالیس اموات ہوتیں حتّی کہ ربیع الاوّل تک سات لاکھ مرے ان دنوں مساجد میں یہ حال تھا کہ امام کے ساتھ دو آدمی نماز پڑھتے تھے باقی گھروں میں نماز پڑ ھتے تھے (انباء الغمر ۶۲۳/۳)
آج بھی موجودہ صورتحال کچھ ایسی بن چکی ہے کہ عرب ممالک اور دیگر عجم ممالک میں اس وباء کی وجہ مفتیانِ دین نے گھروں میں نماز پڑھنے اور جامع مساجد میں چند لوگوں کے ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی پر فتوے دیئے مگر کچھ علماء اس پر ناراض ہوئے خطرناک آفت کی تباہی کا اندازہ اہل سنت اور اہل حدیث کے بعض نا عاقبت اندیش علماء بھی نہ کر سکے اور ان کی جانب سے بے احتیاطی کے بعض فتوے جاری ہوئے مگر اللہ کے فضل و کرم سے ہر مکتب فکر کے مستند علماء کرام کی اکثریت نے جلد یا بدیر اِس خطرے کو بانپ کر تدبیر کے ساتھ تقدیرپرایمان کواچھے طریقے سے دلائل کے ساتھ واضح کیا اِن میں سرفہرست شیخ الاسلام ڈاکٹرمحمدطاہرالقادری،اورجاویداحمدغامدی صاحب شامل ہیں۔بقول اقبال
خبرنہیں کیا ہے نام اُس کا،خدافریبی کے خُودفریبی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com