دھاندلی پیٹرنز اورسیاست کا دماغ

دھاندلی پیٹرنز اورسیاست کا دماغ

ارشادبخاری

کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں سیاست کی ٹوٹتی، بنتی، بکھرتی، بگڑتی، بگڑ کر پھر بنتی تصویر کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے سر میں دماغ بھی نہیں ہوتا۔بھلا اس سے بڑھ کر بددماغی اور کیا ہوگی کہ اپنے محدود ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے ملک کے مستقبل کو داو¿ پر لگایا جاتا رہے۔طرہ تماشا یہ کہ یہ بد دماغی بھی ان کے سر جائے جو بزعم خود اس کی محبت میں مرے جاتے ہیں۔وہی جن کی مدح میں کبھی کرنیل نی جرنیل نی جیسے گیت گائے جاتے ہیں، اور کبھی جن کی پٹاری سے تبدیلی کے نت نئے نعرے نکالے جاتے ہیں۔ لیکن یہ موئی تبدیلی نہ ہوئی، ب±ھس میں کھوئی سوئی ہو گئی۔
سچی بات یہ ہے کہ سیاست کی اس بہتی گنگا میں جس کا جہاں ہاتھ پہنچا اس نے ہاتھ دھوئے بلکہ صرف ہاتھ ہی نہیں، بیچ چوراہے اپنے اور دوسروں کے پوتڑے بھی دھوئے ہیں اور اس کے بعد اپنی ل±±نگی اتار کر اس گنگا جل میں اشنان بھی کیا ہے، اس طرح کہ کسی فطرتیت پسند پارک میں سرمستیاں کرنے والے وہ لوگ بھی شرما جائیں جو دانہ گندم کے تو اسیر ہیں لیکن کپاس کی فصل کو مکروہ تحریمہ جانتے ہیں۔سیاست پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ اس میں کچھ شفاف نہیں ہوتا۔دھاندلی سے اس کی نبض چلتی ہے اور اس میوزیکل چئر پر بیٹھتا وہی ہے جو اصل د±ھن بجانے والے کے س±روں کے زیر و بم کو جانتا ہے۔اب یہ س±ر کون بجاتا ہے، کون سے بجاتا ہے، کس طرح بجاتا ہے، اس کے س±روں کی آواز اور اتار چڑھاو¿ میں اور کسی سپیرے کی بین کی آواز کے اتار چڑھاو¿ میں کیا فرق ہے، یہ سب باتیں تحقیق طلب ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جو چیز ہمارے ہاں بہت زیادہ واضح ہو کر سامنے آجائے اس پر تحقیق کی ضرورت اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔شاید اسی ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے ہمارے ایک بہت پیارے صحافی دوست احمد اعجاز نے اس وقت جب نئے انتخابات میں دھاندلی کی ایک نئی فصل کاٹنے کی تیاری ہو رہی ہے، اسی موضوع پر ایک کتاب لکھ ڈالی ہے اور اس کا عنوان بھی سیدھا سادھا ’دھاندلی، کیوں کیسے، کب؟‘ رکھ دیا ہے۔
پاکستان کے عوام کو اس سے پہلے کم روگ ہیں جو پرانے کھاتے کھول کر نئے کوسنوں کے بارے میں سوچا جائے!معروف محاورے کے مطابق اس کتاب کا اس وقت چھپنا ایک سازش بھی ہو سکتا ہے۔حال ہی میں اس سے پہلے دو کتابوں کا غلغلہ اٹھا جن کی وجہ تصنیف اور وقت اشاعت کے پیچھے قومی اور عالمی سطح کی سازشیں دریافت کی گئی تھیں لیکن اس کتاب کے پیچھے اگر کوئی سازش ہے تو اس کا مقصد مجھے نیک لگتا ہے۔اگر ہم آئندہ انتخابات میں دھاندلی کا ممکنہ سدباب چاہت ےہیں تو ضروری ہے کہ گذشتہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں اور ان کے پیٹرنز پر ایک نظر ڈالی جائے۔کسی نے ساٹھ منٹ میں پاکستان کی سیاسی تاریخ اور اس کے دس کے لگ بھگ اب تک ہونے والے انتخابات میں لگنے والے دھاندلی کے الزامات پر ایک چھچھلتی نظر ڈالنا ہو تو اس کو یہ کتاب دیکھ لینی چاہیے۔کافی افاقے کا امکان ہے۔اس کا ایک حصہ ان چھ شخصیات کے انتخابی سیاست میں دھاندلی کے موضوعات پر انٹرویو پر مبنی ہے جو ملکی سیاسی نظام اور تاریخ کی پارکھ ہیں۔یہ انٹرویو خاص طور پر دلچسپ ہیں۔مجھ سے پوچھا جائے تو انتخابی دھاندلی کے دراصل تین ادوار بنتے ہیں:اول جو انتخابات سے قبل دھاندلی ہوتی ہے، دوم جو انتخابات کے دوران میں دھاندلی ہوتی ہے اور سوم جو انتخابات کے بعد دھاندلی ہوتی ہے۔اس میں اتحادوں اور جوڑ توڑ کی سیاست سے لے کر، حلقوں میں ردو بدل، مقدمات اور پابندیوں کے حربے، ووٹر لسٹوں میں ہیرا پھیری، عوام کے مذہبی جذبات سے کھیلنا، پیسے کا بے دریغ استعمال (اصغر خان کیس اور مہران بنک سکینڈل اس کی صرف ایک مثال ہے)، مخالفین کی کردار کشی (جس میں اب بڑے نئے اور تخلیقی انداز اپنائے جا رہے ہیں اور ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور فوٹو شاپ کی تکنیک کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے)، صوبائی اور لسانی منافرت، سول اور ملٹری بیوروکریسی کے اختیارات کا سیاسی مقاصد کے لیے بے محابہ اور بے تحاشا استعمال اور قانونی موشگافیوں جیسے ہتھکنڈے شامل ہیں۔تقریباً تمام انتخابات میں حجم اور دائرہ کار کے فرق کے ساتھ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے یہ تمام حربے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ دنیا بھر میں انتخابی سیاست میں یہ سب کوئی ایسی انہونی باتیں نہیں ہیں حتیٰ کہ امریکا جیسی کامیاب جمہوریت میں بھی ان تمام دھاندلی کے طریقوں کے ساتھ بڑی کارپوریشنوں اور سرمایہ داروں کا کردار کوئی ڈھکا چھپا نہیں۔شاید جمہوریت کوئی ہر خطا سے پاک مثالی طرز حکومت ہے بھی نہیں۔
لیکن دنیا کے مختلف ممالک میں صدیوں کے سیاسی تجربے سے یہ سمجھ آیا ہے کہ نظام کا تسلسل خود نظام میں وہ چیک اینڈ بیلنس پیدا کردیتا ہے کہ مضبوط جمہوری نظام ان خرابیوں کا ممکنہ ازالہ کرتے ہوئے بہتر نتائج دے سکتا ہے۔اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی شعور کی مثالیں دنیا بھر سے اور خود پاکستان سے بھی ڈھونڈی جاسکتی ہیں۔پاکستان کی اصل بدقسمتی یہ رہی کہ سیاست، سیاسی نظام، سیاسی عمل اور سیاستدان پر اعتماد پیدا نہیں کیا جاسکا۔سول ملٹری کشمکش کا آغاز ابتدائی سالوں میں ہی ہوگیا تھا۔مارشل لا کے ذریعے فوج دخیل ہوئی تو ہوتی ہی چلی گئی اور ابھی تک اس کا تسلیم شدہ کردار واضح نہیں ہوسکا۔ترجیحات کا تعین ہوسکا اور سیاست امیروں اور سرمایہ داروں کے لیے طاقت کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ محض، طاقت، پیسے اور مفادات کا ایک کھیل بن کر رہ گئی۔لیکن شکر ہے کہ بہت سے ہچکولوں، دھچکوں اور حادثوں کے بعد بھی اوران کے
باوجود بھی سفر پھر سے شروع ہوچکا ہے اور تاریخ نے ہماری زندگی میں اس دوسری منتخب حکومت کا دورانیہ مکمل کر کے دکھا دیا ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ ماضی کی غلطیوں سے کچھ سبق سیکھا جا ئے گا اور جمہوریت کے پہیے کو فطری انداز میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔اس کے علاوہ اب کوئی چارہ بھی تو نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com