اِس دور کے انساں اب انسان نہیں ہو تم

اِس دور کے انساں اب انسان نہیں ہو تم
کہلانے کے لائق تو حیواں بھی نہیں ہو تم

ہر روز کسی پیڑ کو تم کاٹ دیتے ہو
جینے کی وجہ چھین کر نالاں نہیں ہو تم

سڑکوں پہ چلے بیٹی یا گھر میں دُبک بیٹھے
ہو مغربی لباس یا وہ سر سے پیر ڈھانپے

تم گھورتے ہو اُسکو کے جیسے برہنہ ہو
نظریں بھی اِتنی گندی کے آنکھ سے زِنا ہو

پھر خبر جب ہے چھپتی تو مسخری ہو کرتے
گندے لباس والی تھی بات یہ ہو کستے

نہ شرم نہ حیا ہے یہ اِسکا ہی صِلہ ہے
مذہب میں عورتوں کو یہ حق نہیں مِلا ہے

جو نہ نِکلتی گھر سے تو نہ بُھگتتی یہ سب
رونے سے اب کیا حاصِل ہونا تھا جو ہوا اب

ہاں سوچ لِیا میں نے سُن اے تو اِبنِ آدم
میں مان لیتی یہ سب ہوتا جو بات میں دم

مانوں گی تیری باتیں گر تُو رہے گا اصلی
بس کچھ جواب دے کر مجھ کو دِلا تسلّی

کیا وہ فرشتہ زینب اخلاق سے گِری تھی
یا گھر میں سوئ جنت کی بات بھی یہی تھی

معصوم ماروہ نے بولو گناہ کِیا تھا؟
جینے سے عورتوں کو رب نے منع کِیا تھا؟

اب مان لو لباس نہیں نیّتیں ہیں کھوٹی
ہر گھر میں بیٹھی بیٹیوں کی مائیں اب ہیں روتی

تم لڑکیوں پہ بات بہت مذہب کی ہو کرتے
خود اپنا بھی تو سوچو ہو رب سے کِتنا ڈرتے؟

By: Sana Arif, Abbotabad

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com