دلدلوں کے جنگل میں مقبرے نہیں ہوتے

ایک غزل نذرِ قارئین.
دلدلوں کے جنگل میں مقبرے نہیں ہوتے
پار جا نکلنے کے راستے نہیں ہوتے
راہِ کامرانی پر جان کی لگا بازی
ایسے لمحے جب آئیں سوچتے نہیں ہوتے
آنکھ میں جو روشن ہیں نیند کی بدولت ہیں
جاگتے میں خوابوں کے سلسلے نہیں ہوتے
بھیڑ میں جو کھو جائے کب کہاں وہ ملتا ہے
بچے انگلی ماؤں کی چھوڑتے نہیں ہوتے
بھیک مانگنے والو بھیک میں یہ ذلت ہے
گفتگو میں لہجے میں طنطنے نہیں ہوتے
اور جن کو گرنا ہو اندھے گہرے غاروں میں
بھیڑ چال چلتے ہیں دیکھتے نہیں ہوتے
پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین احمد صدیقی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com