پھول اور کانٹے

طا رق حسین بٹ شان
مسندِ اقتدار پر جلوہ افروز ہونے کے بعد دوست اور دشمن کی تمیز دم توڑ جاتی ہے۔جن کی قدرو منزلت ضروری ہونی چائیے تھی انہی کی قدرو منزلت گھٹ جاتی ہے اور جھنیں دیوار کے ساتھ لگایا جانا ضروری تھا وہ اہم فیصلوں کی روح بن جاتے ہیں۔سچ تو یہ ہے دوست صفِ دشمناں میں چلے جاتے ہیں اور موقع پرست قلب و نگاہ کا سکون قرار پاتے ہیں۔طوطا چشم جان سے عزیز بن جاتے ہیں کیونکہ جب سب کچھ ایک چھوٹی سی مٹھی میں بند ہو جائے تو پھر مخلص دوستوں کی ضرورت کیوں باقی رہے گی؟ ابتلاؤ آزمائش کی جان لیوا گھڑیوں میں جن کے بغیر سانس لینا دشوار ہوتاہے اب ان کا وجود ایک بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے کیونکہ اب مسندِ خدائی پر جلوہ نمائی کا کیڑاعظمت و حشمت کے اظہار کاراگ الاپنا شروع کر دیتا ہے۔دوست چونکہ ماضی کے واقعات کا رازدان ہوتا ہے اور بہت سی کمزوریوں کا عینی شاہد ہوتا ہے لہذا اسے راہ سے ہٹایا جانا ضروری ہو جاتا ہے تا کہ ماضی کے جھمیلوں سے جان چھوٹ جائے اور کمزوریا ں طشت از بام ہو نے سے بچ جائیں۔دوست پھول کی بجائے ایک کانٹے کا روپ دھارن کر لیتا ہے لہذا کون ہے جو اپنے دل میں کسی کانٹے کا وجود برداشت کرے گا؟ کانٹے کا وجود تو خود بے چینی کی علامت ہو تا ہے لہذا اس علامت کو خانہِ دل سے نکالنا ضروری ہو جاتا ہے۔اپنی نئی بے عیب،با رعب اور پر وقار شخصیت کا پیکر شائد دوست کی موجودگی میں اس آب و تاب سے چمک نہیں سکتا جس کی آرزو انسان کے من میں مچلتی رہتی ہے۔اختیارات کے کھلم کھلا استعمال کا احساس دوستوں کی دوری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ دوست کو محض اس لئے نظر انداز کرنا ضروری ہو تا ہے تا کہ حکمران خود کو ایک ایسے افسانوی پیکر میں پیش کر سکے جس کا حقائق سے دور کا واسطہ نہیں ہوتا۔ دوستوں میں بحث و مباحثہ اور بے تکلفی کا ماحول ہوتا ہے جس میں ایک دوسرے پر جملے بھی کسے جاتے ہیں لیکن حکمران بن جانے کے بعد یہ سب کچھ بدل جاتا ہے۔حسِ لطیف کا گلہ گھنوٹ دیا جا تا ہے۔ بے تکلفی کی جگہ تقدس لے لیتا ہے اور تقدس کا تقاضہ ہوتا ہے کہ اب اپنی آواز کو نیچا رکھا جائے کیونکہ اونچی آواز ظلِ سبحانی کو ناگوار گزرتی ہے۔ اب ظلِ سبحانی عقلِ کل قرار پاتے ہیں۔ان کی بے سرو باتوں سے دانش کے پھول جھڑتے ہیں۔گورنر جنرل غلام محمد پر جب فالج کا حملہ ہواتھا تو ان کی بہت سی باتیں لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تھیں لیکن ان بے سرو پا الفاظ پر بھی تعریف و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے تھے کیونکہ گورنر غلام محمد اقتدار کا سر چشمہ تھے اوراس چشمہ سے سیرابی کی حسرت دیوانوں کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی لہذاتوصیف سے مطلب براری کا کام لیا جاتا تھا۔دوستوں کی قربانیاں،جدوجہد، ایثار اور احسانات اب قصہِ ماضی قرار پاتے ہیں،نئی حقیقتیں نئی دنیا،نئی محافل اور نئی مجالس اپنی حقانیت کی خود گواہ ہوتی ہیں جس میں گزرے دنوں کے دوستوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔حکمران اب اظہارِ سچ کو اپنی ذات پر حملہ تصور کرتا ہے۔ اسے دوست کے سچ میں سازش کی بو آنا شروع ہو جاتی ہے۔ لہذا اس کی سرد مہری کا آغاز ہو جاتا ہے۔اب یک نوالہ یک پیالہ دوستوں میں ان دیکھی خلیج حائل ہو جاتی ہے۔ کتنا عجیب ہے کہ غریب الوطنی کے کڑے دنوں میں جن دوستوں کے کندھوں پر سوار ہو کر انسان اقتدار کی سیڑھیاں چڑھتا ہے اقتدار کی مسند پر جلوہ افروز ہوتے ہی ان سے نظریں پھیر لیتا ہے۔اب وہ ظلِ سبحانی بن جاتا ہے اور دوستوں کو منگتوں اور بھیک منگوں میں شمار کرنا شروع کر دیتا ہے جسے صرف خود ستائی کا نام ہی دیا جاسکتا ہے۔دوست اب بھی اس کے ہمدرد اور خیر خواہ ہوتے ہیں لیکں اقتدار کی مسند ان معنوں کوبدل کر رکھ دیتی ہے۔ دوستوں کو اب مفاد پرست افراد کا گروہ سمجھا جاتا ہے جن کا مقصدِ اولی ذاتی مفادات کا حصول ہوتا ہے؟کیا واقعی ہر انسان بکاؤ مال ہوتا ہے؟ اگر واقعی ایسا ہی ہوتا ہے تو پھر جان لیوا گھڑیوں میں انھیں سینے سے لگا کر کیوں رکھا جاتا ہے اور ہمہ وقت ان کی خدمات سے استفادہ کیوں کیا جاتا ہے؟با صفا دوست بکاؤ مال نہیں ہوتے بلکہ خدا کی انمول نعمت ہوتے ہیں یہ الگ بات کہ حکمرانی کا نشہ انسان کو کھرے اور کھوٹے میں تمیز کے جوہر سے محروم کر دیتاہے۔
حکمران اپنے مخالفین کو بے دست وپا کرنے اور ان کی آواز کو دبانے کی خاطر انھیں زندانوں کے حوالے کرتے ہیں تو اس میں کسی کو کوئی حیرانی نہیں ہہوتی لیکن جب قدم سے قدم ملا کر چلنے والے مخلص دوست زندا نوں کے حوالے کر دئے جائیں تو پھر سوال تو اٹھے گا۔مخالفین کا وجود حکمرانوں کیلئے کسی کانٹے سے کم نہیں ہوتالہذا مخالفین کا مقام جیل کی بلند و بالا فصیلیں اور اس کے تنگ و تاریک درو دیوار ہوتے ہیں۔ مخالفین بے رحم حکمرانوں کی ذات سے پناہ مانگتے ہوئے جلا وطنی پر مجبور ہو جاتے ہیں یا اپنی زبان بند کر لیتے ہیں۔مخالفین کا کرب اور ان کا درد حکمرانوں کی نظر میں بالکل بے وقعت ہوتا ہے لہذا ان کے بارے میں اس کا دل نہیں پسیجتا۔مخا لفین چیختے چلاتے رہتے ہیں لیکن وہ انھیں بد دیانت، چور، خائن،لٹیرے اور ملک دشمن کہہ کر ان کی گردنیں ناپتا رہتا ہے۔اس کے حامی اس کے ایسے بے سرو پا نعروں پر تالیاں پیٹتے ہیں جو اس کے ظلم و جبر اور آمرانہ اندازِ حکومت میں مزید سختی پیدا کر دیتا ہے۔دوست رخصت ہوجاتے ہیں تو ان کی جگہ ابن الوقت نشستیں سنبھال لیتے ہیں جن کا واحد ہدف حاکمِ وقت کی نگاہوں میں معتبر قرار پانا ہوتا ہے۔ایسے افراد کسی نظریے سے کوئی وابستگی نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی چرب زبانی سے ایک ایسے مقام پر متمکن ہو جاتے ہیں جو صرف با وفا اور با صفا انسانوں کے لئے مختصص ہوتا ہے۔با صفا دوستوں کی رخصتی حکمرانوں کے زوال کی پہلی اینٹ ہوتی ہے لیکن حکمران اسے دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ دو ست بچھڑتے جاتے ہیں تو خوشامدی شاخِ چمن پرسجے ثمر سمیٹنے شروع کر دیتے ہیں۔شطرنج کی ساری بازی پلٹ جاتی ہے۔ نئی صف بند ی کے بعد چند نئے مہرے سجائے جاتے ہیں لیکن ابتلاء کی گھڑی کی نموداری کے ساتھ ہی یہ مہرے یوں غائب ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ مہرے کبھی بساطِ سیاست پر سجے ہی نہ تھے۔انسان اپنی سجائی گئی بساط پر ایستادہ مفادی مہروں کو ڈھونڈنے نکلتا ہے لیکن اسے مہرے کہیں نظر نہیں آتے کیونکہ ان کا مقصد مفادات سمیٹنا ہوتا ہے کھڑا رہنا نہیں ہوتا۔ وہ اپنا الو سیدھا کر کے نئے گھر کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں اور یوں با صفا دوستوں کو گنوانے والا حکمران حسرت و یاس کی تصویر بنا یہ سب کچھ دیکھنے کا کرب سہتا ہے۔اب اسے با صفا دوستوں کی یاد بہت ستاتی ہے لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لہذا یہ معرکے کوئی حیران کن نہیں ہوتے۔ ایک ہی صف میں کندھے سے کندھا ملا کر چلنے والے راتوں رات صفِ دشمناں میں چلے جاتے ہیں تو نو واردنِ سیاست کی حیرت سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں لیکن وہ جن کی نظروں سے ایسے مناظر پہلے بھی کئی بار گزرے ہوتے ہیں انھیں کوئی حیرانی نہیں ہوتی۔ پاکستان میں ذاتی دوستوں کی قربانی سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں جن کا تذکرہ اگلے کالم میں ہو گا۔،۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com