ڈکٹیٹرکے ناقابلِ معافی جرائم

ڈکٹیٹرکے ناقابلِ معافی جرائم
کامران یوسف گھمن
سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے آئین توڑنے، ججوں کو نظر بند کرنے، آئین میں غیر قانونی ترامیم، بطور آرمی چیف آئین معطل کرنے اور غیر آئینی پی سی او جاری کرنے کے آئین شکنی کے جرائم ثابت ہونے پر ان پر لگائے گئے آڑٹیکل چھ کے حوالے سے شدو مد سے بحث جاری ہے لیکن یہاں ان کے جن جرائم کا ذکر ہونے جا رہا ہے ان کی سزا توا بھی تک دنیا کی کسی بھی عدالت نے تجویز نہیں کی ہو گی۔ سابق ڈکٹیٹرنے ملکی آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے علاوہ، انسانیت کے خلاف جو ناقابلِ معافی جرائم کئے ہیں وہ زرا ملاحظہ کیجئے۔امریکہ کی ایک فون کال پر سرنڈر کر کے امریکہ ہی کے خود ساختہ ڈرامے نائین الیون کے فوری بعد پاکستان میں موجود افغانستان کے سفیر ملا عبدلسلام ضیعف کو ننگا کر کے امریکیوں کے حوالے کیا گیا،جنہیں بعد میں برسوں تک امریکہ کی بدنامِ زمانہ اور پرتشدد گوانتانامو جیل میں رکھا گیا جہاں بعد میں کئی پاکستانیوں کو بھی لا کر قید میں رکھا گیا، اسلام آباد میں پھیلتی فحاشی اور بدکاریوں کے خلاف مزاحمت کرنے پر لال مسجد پر مارٹر گولے برسائے گئے اور جامعہ حفضہ کی طالبات پر فاسفورس بم کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں ان گنت تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں، سابق گورنر اور وزیر اعلی بلوچستان اکبر بگٹی کو علی الاعلان قتل کیا اور ذمہ داری بھی قبول کی گئی۔
بارہ مئی دو ہزار سات کو کراچی میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی آمد پر پچاس سے زائد بے گناہ شہریوں کو شہید کیا گیا اور اسی شب اپنی تقریر میں فخریہ انداز میں مکّے لہرا تے ہوئے سابق ڈکٹیٹرنے کہا کہ”یہ میں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے“،جبکہ کراچی میں ہی دکلاء کو زندہ جلانے والا نو اپریل کا دلخراش واقعہ کی تفصیل علیحدہ ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا امریکہ کے ساتھ سودا کیا گیا۔ اپنی کتاب ان دی لائن آف فائر میں تسلیم کیا کہ انہوں نے امریکہ سے لاکھوں ڈالرز لے کر پاکستانی شہری فروخت کیئے، جس باعث انہوں نے امریکہ،برطانیہ،دبئی اور پاکستان میں اربوں روپے کی جائیدادیں خریدیں۔ اس حوالے سے تمام تر تفصیل ہر جگہ دستیاب ہے۔ ڈرون حملے کرنے کی امریکہ کو دی گئی کھلی چھوٹ کے نتیجے میں تین ہزار کے قریب بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے۔ جنوری دو ہزاچھ کی ایک صبح باجوڑ ایجنسی کے علاقے ڈمہ ڈولہ کے ایک مدرسے پر ڈرون حملے کے نتیجے میں اسّی سے زائد طلباء شہید ہو گئے۔ انہی امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں قبائلی علاقہ میں ایک شادی کی تقریب اور بدترین بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نماز جنازہ کے اجتماع پر بھی بمباری کی گئی جس میں درجنوں کے حساب سے شہادتیں ہوئی تھیں۔ اسی طرح کے اور بھی بے شمار واقعات موجود ہیں۔اس کے علاوہ بپاکستان کے قبائلی علاقوں کے لاکھوں خاندانوں کو ان کو اپنے آبائی علاقے چھوڑرنے پر مجبور کر دیا گیا جو ا س وقت بھی پناہ گزیں کیمپوں میں محصور ہو کر کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ سابق ڈیکٹیٹر پرویز مشرف نے ایک حد سے زیادہ جا کر امریکی معاونت کرتے ہوئے جیکب آباد کا ہوائی اڈہ بھی امریکہ کے حوالے کر دیا گیا جہاں سے امریکی جنگی طیارے اڑان بھر کے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور پاک افغان سرحد پر دن رات بمباری کرتے رہے اور یوں مذکورہ علاقوں میں موت کا رقص جاری رہا اور بے گناہ عوام مرتے رہے۔ دوسری جانب ملک میں امریکی تنظیم بلیک واٹر کو کاروائیاں کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی جس کے نتیجے میں لاپتہ افراد کی تعداد میں ہوشرباء اضافہ ہو اور کئی خاندان اجڑ گئے۔شہروں میں بم دھماکے اور خود کش دھماکے معمول بن گئے جس میں سینکڑوں پاکستانیوں لقمہَ اجل بنے۔ مجموعی طور پر پرویز مشرف کی اپنی ہی پیدا کردہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پچاس ہزار سے زائد پاکستانی بے گناہ مارے گئے،اس میں ایک بڑی تعداد ان بے گناہ فوجی افسران اور جوانوں کی بھی شامل ہے جو اپنے جنرل کی ”امریکی برانڈ پالیسی“ کی بھینٹ چڑھے۔ کئی دیگر فوجی افسران کے علاوہ پرویز مشرف کے استاد جنرل حمید گل مرحوم بھی خود متعدد انٹرویوز میں برملا کہ چکے ہیں کہ کارگل میں سینکڑوں جوانوں کی شہادت کے ذمّہ دار مشرف ہیں۔ مذکورہ ڈکٹیٹرکے انسانیت سوز جرائم کی فہرست طویل ہے۔
ملک میں مشرف رجیم کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر زمین تنگ کر دی گئی۔ سینکڑوں ایسے افراد جن میں صحافی بھی شامل تھے کو غائب کر دیا گیا اور کئی ایک کی بعد میں تشدد شدہ لاشیں ملی جو پاکستان میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت پر آواز اٹھا رہے تھے،حتی کے کئی فوجی افسران بھی ان کے غضب کا نشانہ بنے جن میں بریگیڈیئر علی خان اور دیگر چار میجر رینک افسران بھی شامل تھے۔ ایک موقع پر تو ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدلقدیر خان کو امریکہ کے حوالے کرنے کی تمام تیاریاں مکمل تھیں اور جہاز بھی تیار کھڑا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب کی قسمت اچھی تھی کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم میر ظفر اللہ جمالی ان کے لیئے رحمت کا فرشتہ ثابت ہوئے ورنہ ان کا انجام بھی ڈاکٹر عافیہ کے انجام سے مختلف نہ ہوتا۔مذکورہ تمام تر حوالاجات اور برپا ہونے والے واقعات سے اس ملک کے عوام بخوبی واقف ہیں اور ان کا تعلق براہِ راست انسانیت کے ساتھ جڑا ہے۔ پرویز مشرف اگر سنگین غداری کیس کی پھانسی سے بچ بھی گئے تو ان تمام واقعات میں متاثرہ اور مارے جانے والے بے گناہوں کے لواحقین کی آہوں، سسکیوں اور دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی بد دعاوں اور خدا کے غصب سے انہیں کون بچا پائے گا۔۔ آج جو لوگ سابق ڈکٹیٹر کی عزت بچانے کی بات کر رہے ہیں، سرکاری مولویوں سے اس کے حق میں فتوے دلوا رہے ہیں او ر عدالت سے ثابت شدہ غدار کو اسلام آباد کی شاہراہوں پر بینر لگا کر سابق ڈیکٹیٹر پرویز مشرف قوم کا ہیرو قرار دے رہے ہیں،وہ پہلے اپنے ہیرو کے ان چند مذکورہ انسانیت سوز کارناموں کو بھی غور سے ایک مرتبہ پڑھ لیں کہ شائد رائے تبدیل کرنے میں آسانی ہو جائے۔ وقت بدل چکا ہے بینر بازی اور سرکاری فتوی بازی کے بجائے حقائق کو تسلیم کر لینے میں ہی ملک اور قوم کا بھلا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com