پرسکون اور کامیاب زندگی کی شاہ کلید

کامران غنی صبا،

اسسٹنٹ پروفیسر نیتیشور کالج، مظفرپور

کون ایسا انسان ہے جو پرسکون اور کامیاب زندگی گزارنا نہیں چاہتا؟ لیکن اکثر افراد کسی نہ کسی طور پر بے سکونی اور ناکامی کا رونا روتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بے سکونی اور ناکامی کا گلہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی کام یا واقعہ ہماری توقع کے برخلاف ہو۔ مثال کے طور پر ایک نوجوان نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اس نے اچھی ملازمت کے بڑے خواب دیکھے لیکن اسے اپنی محنت اور توقع کے مطابق ملازمت حاصل نہ ہو سکی۔ اب وہ نوجوان ساری زندگی اس بات کا افسوس کرتا رہے گا کہ اسے اس کی محنت کا حق نہیں مل سکا۔ یہ احساسِ محرومی اسے ڈپریشن میں مبتلا کرے گا اور اِس ڈپریشن کے نتیجے میں اس کی شخصیت بری طرح متاثر ہوگی۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے مزاج میں غصہ داخل ہو چائے، وہ چڑچڑا ہو جائے، وہ رشتہ داروں اور دوستوں سے قطع تعلق کر لے یا وہ کوئی غلط قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائے۔
انسانی زندگی میں بے سکونی اور انتشار کی ایک بڑی وجہ گلہ اور شکوہ ہی ہے۔ یہ گلہ و شکوہ حالات سے بھی ہو سکتا ہے اور افراد سے بھی۔ شکوہ حالات سے ہو یا افراد سے ، دونوں کا نتیجہ تقریباً ایک ہی ہوتا ہے کہ انسان حالات اور افراد سے منھ موڑنے لگتا ہے۔ اگر شکوہ وقت اور حالات سے ہو تو وہ اس کا مقابلہ کرنے کی بجائے اپنے قدم پیچھے کی طرف بڑھانے لگتا ہے اور اگر شکوے کی وجہ افراد ہوں تو وہ افراد سے کنارہ کش ہونے لگتا ہے۔ شکوہ کی نفسیات ایک الگ موضوع ہے جس پر ان شاء اللہ کبھی اور لکھوں گا لیکن اتنی بات ذہن نشیں رہے کہ شکوہ کی سب سے اہم وجہ توقعات کی شکست ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے شخص یا افراد کے ساتھ کوئی احسان کرتا ہے۔ اب احسان کرنے والا اظہار کرے یا نہ کرے فطری طور پر اس کے دل میں یہ تمنا تو ہوتی ہی ہے کہ جس کے ساتھ اس نے احسان کیا ہے وہ اس کا مرہون منت ہو۔ اس کا شکرگزار ہو۔ لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہوجائے، اور جس کے ساتھ احسان کیا گیا وہ احسان فراموشی پر آمادہ ہو جائے۔ اپنے محسن کے ساتھ ناروا سلوک کرنے لگے تو ’محسن‘ کے احساسات بری طرح مجروح ہوتے ہیں اور وہ بدظن ہو کر اُس شخص سے دوری بنا لیتا ہے جس نے احسان فراموشی کا راستہ اختیار کیا۔ پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ احسان ناشناسی تو ایک شخص نے کی لیکن احسان کرنے والے کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ یہ ’بھلائی کا زمانہ نہیں ہے‘ اور آئندہ وہ کسی کے ساتھ بھلا کرتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ اپنے نفس کی تسکین کے لیے وہ دنیا والوں کے سامنے اپنے احسانات کا تذکرہ اور اس کے بدلے میں ملنے والی ناقدری کا رونا روتا ہے۔
اس حوالے سے قرآن کی ایک آیت کا ٹکڑا ہمیں واضح رہنمائی عطا کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ’’اللہ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘ اللہ کا یہ وعدہ ہمیں بے نیازی سکھاتا ہے۔ اعتماد عطا کرتا ہے اور ہمیں شکوہ شکایت کی نفسیات سے باہر نکال کر امید اور یقین کی روشنی عطا کرتا ہے۔ اگر ہمیں اس بات کا یقین ہو کہ ہماری نیکی اور محنت کا بدلہ ہمیں مل کر رہے گا تو یقینی سی بات ہے کہ شکایت کے سارے دروازے از خود بند ہو جائیں گے۔ ہاں اگر ہم نے اللہ کی بجائے بندے سے توقعات وابستہ کر لیں کہ وہ ہمیں ہماری نیکیوں کا بدلہ عطا کریں تو یقینی سی بات ہے کہ ہمارے ہاتھ محرومی اور گلے شکوے ہی آئیں گے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ اللہ کا بدلہ مختلف طریقوں سے مل سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ اِس دنیا میں ہی ہمیں ہمارے احسان کا بدلہ عطا کر دے یا پھر آخرت میں ہماری نیکیاں ہمارے گناہوں کے سامنے ڈھال بن کر کھڑی ہو جائیں۔ وہ چاہے تو دونوں جہاں میں ہمیں نواز کر ہمارے احسان کا بدلہ عطا کر سکتا ہے۔ مرضی اس کی۔ لیکن اتنی بات تو طے ہے کہ اس کا وعدہ سو فیصدی سچا ہے۔ اگر ہم نے کسی کے ساتھ کوئی نیکی کی ہے، اخلاص کے ساتھ محنت کی ہے اور ظاہری طور پر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے یہاں ہمارا بدلہ محفوظ کر لیا گیا ہے جو کسی نہ کسی موقع سے ہمیں عطا ہو کر رہے گا۔ اسی لیے صوفیائے کرام اس بات پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں کہ نیکیاں خفیہ طور پر کی جائیں تاکہ مخلوقاتِ خدا کے تعریفی کلمات نیکیوں کے اجر کو کم نہ کر دیں۔ قرآن نے بھی کہا ہے کہ ’’ائے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اس شخص کی طرح ضائع مت کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔‘‘(سورۃ البقرۃ)۔
مشہور صوفی حضرت واصف علی واصف ؒ کہتے ہیں کہ :’’جسے سکون قلب حاصل ہو جائے، اس کی زندگی میں نہ شکوہ رہتا ہے نہ تقاضا۔ وہ نہ خدا کا گلہ مخلوق کے سامنے کرتا ہے اور نہ مخلوق کی شکایت خدا کے سامنے۔ وہ نہ زندگی سے غافل ہوتا ہے نہ موت سے۔ وہ ہر حال میں راضی رہتا ہے۔ پُر سکون انسان مقامِ صبر کو بھی مقامِ شکر بنا دیتا ہے۔‘‘
اگر انسان کامیاب اور پرسکون زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ بندگانِ خدا کو فیض پہنچاتا رہے۔ بغیر کسی غرض کے۔ بغیر کسی حرص کے۔ بغیر کسی شرط و شرائط کے۔ اور بندگانِ خدا سے بدلے کی چھوٹی سی امید بھی نہ رکھے۔ اگر ہمیں اس بات کا یقینِ کامل ہو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، سو فیصد ی سچا ہے تو ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم بندگان خدا کا بھلا سوچیں اور اللہ ہمیں بے بس و مجبور چھوڑ دے۔ ہمیں مفلس بنا دے۔ ہمارے حصے میں ناکامی لکھ دے۔ نہیں ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ قیامت
تک ایسا نہیں ہو سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com