پی ڈی ایم کے متضاد بیانات

کبھی استعفوں کی دھمکیاں کبھی سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان
حکومت کو اپوزیشن سے خطرہ نہیں،خطرہ ہے تو اپنی کارکردگی سے

صلاح الدین بٹ
وزیراعظم عمران خان نے آٹا اور چینی مافیا کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد ذمہ داروں کو سزا نہ دینے کے باوجود پٹرولیم بحران میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے تین وفاقی وزراء پر مشتمل ایک اور کمیٹی بنادی ہے وزیراعظم صاحب آپ کمیٹی کمیٹی نہ کھیلیں کبھی کمیٹی نکل آتی ہے اور کبھی سالہا سال گزر جاتے ہیں کمیٹی نہیں نکلتی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پھر بڑھ گئی ہیں کب تک آپ کمیٹیاں نکلنے کا انتظار کرتے رہیں گے آپ کی ہر وزارت میں آٹا، چینی اور پیٹرول سمیت ہر چیز کے مافیا کے ایجنٹ بیٹھے ہیں جو انہیں قبل از وقت چیزوں کی قیمتیں بڑھنے کے بارے میں آگاہ کر دیتے ہیں جس پر آٹا اور چینی مافیا نے اربوں کمائے ہیں اسی طرح پٹرولیم بحران میں بھی مجموعی طور پر 9 کمپنیوں نے پانچ ارب کمائے ہیں پھر آپ ان کا کچھ بھی نہیں کر سکتے جب بھی ان پر ہاتھ ڈالیں یہ اپوزیشن سے مل کر آپ کو ہلا کر رکھ دیں گے تاکہ آپ کو اپنی کرسی کی فکر پڑ جائے لیکن آپ نے تو فیصلہ کر لیا ہے کہ کرسی چھوڑ دوں گا این آر او نہیں دوں گا یوں دکھائی دے رہا ہے کہ آپ نے اپوزیشن سے نمٹنے کیلئے لنگوٹ کس لیا ہے پھر اڑھائی سال حکومت کر کے آپ نے حکومت کرنے کا مزہ بھی چکھ لیا ہوگا کہ اس میں کتنی مصیبتیں ہیں اور جسے گھر میں کوئی نہیں پوچھتا وہ بھی حکومت کوبرا بھلا کہنا شروع کردیتا ہے چلو اچھا ہے ویسے بھی آپ آزاد ذہن کے مالک ہیں اور اپنے فیصلے خود کرتے رہے ہیں حالانکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف پی ڈی ایم کو مشورہ دے چکے ہیں کہ حکومت سے مذاکرات کرنے چاہئیں ان کا مشورہ مریم نواز، مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی کو اس لیے پسند نہیں آئے گا کیونکہ زخم ابھی گہر ے ہیں اور شیخ رشید احمد جو اب وفاقی وزیر داخلہ ہیں برملا اُنہیں کہہ رہے ہیں کہ فوج عمران خان کے ساتھ ہے وہ پانچ سال پورے کرے گا جس طرح عمران خان کے 126دن کے دھرنے کے باوجود میاں نوازشریف نے فوج کی حمایت سے 5سال پورے کئے تھے شیخ رشید احمد کی بات شاید اپوزیشن کو سمجھ نہیں آرہی وہ بڑی طاقتوں کے تعاون سے پروان چڑھے ہیں حالانکہ سب سیاستدان بڑی طاقتوں سے ہی آشیر باد لے کر اقتدار میں آتے ہیں وہ میاں نوازشریف ہو یا عمران خان،شیخ رشید احمد تو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا آدمی ہوں جو سب کو اقتدار میں لاتے ہیں جبکہ باقی سیاستدان ان کا نام لینے سے شرماتے ہیں جس طرح پہلے وقتوں میں بیوی خاوند کا نام لینے سے شرماتی تھی اگر (ن) لیگ کو پاک فوج سے یہ شکایت ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے کسی اورسے محبت کیوں تو انہیں برملا پاک فوج کے علم میں یہ لانا چاہیے تھاکہ ہماری موجودگی میں عمران خان کو گلے کیوں لگایا (ن) لیگ کی مثال کچھ یوں ہے کہ اپنا بھی کہتے ہیں اور سامنے بھی نہیں آتے قارئین یہ حقیقت ہے کہ (ن) لیگ اور بڑی طاقتوں کے درمیان چالیس سے رفاقت چلی آرہی ہے دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم ملزوم تھے آج ان کے درمیان دوریاں کس کی وجہ سے ہیں عوام جانتے ہیں ڈان لیکس کے کردار ِاس میں پیش پیش ہیں ورنہ محبتوں کا سفر رواں دواں تھا ڈان لیکس کے معاملے پر جس طرح پاک فوج کی طرف سے تحمل مزاجی اور بردباری کا ثبوت دیا گیا وہ کسی پاکستانی سے پوشیدہ نہیں میاں نوازشریف کی درخواست پر ان کی بیٹی مریم نواز کی ناعاقبت اندیشی سے درگزر کیا گیا اورصرف کردار کو گھر بھیجا۔ ڈان لیکس کے بعد میاں نوازشریف کیلئے بڑی طاقتوں کے تعاون کو ختم کر دیا گیا میاں نوازشریف کو ان کے اردگرد کے حاشیہ برداروں اور سیاسی بصیرت سے عاری مفاد پرستوں نے عوامی گیٹ استعمال کرتے ہوئے ترکی کا صدر طیب اردگان بننے کا مشورہ دیا لیکن ناعاقبت اندیشوں کے اس مشورے سے میاں شہبازشریف نے اختلاف کیا اور کہا کہ یہ پاکستان ہے یہاں عوامی گیٹ کا استعمال کرنے والے کو ذلت و رسوائی سے تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے اور یہ عوام مشکل وقت میں غائب ہو جاتی ہے آپ آم کھانے سے غرض رکھیں درخت گننے سے کچھ نہیں ملے گا اس کے بعد عوام کہاں گئی جو یہ نعرے لگواتے یا لگاتے تھے کہ قدم بڑھاؤ نوازشریف ہم تمہارے ساتھ ہیں آج وہ سب کہا ں ہیں آج پھر یہ نعرہ لگایا جارہا ہے اپوزیشن قدم بڑھاؤہم تمہارے ساتھ ہیں اس میں سب سے بڑی سٹیک ہولڈر مریم نواز ہیں جن کے خاندان کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے پھر بھی انہیں سمجھ نہیں آرہی اور نہ ہی وہ سمجھنا چاہتی ہیں والدہ کے بعد دادی دنیا سے چلی گئیں والد، بھائی اور کزن جلاوطن ہیں چچا میاں شہبازشریف اور بھائی حمزہ شہباز اُن کی حماقتوں سے مصیبت میں گِھر گئے ہیں پھر بھی آپ اداروں پر حملہ آور ہیں آپ کے ساتھی وکٹ کے دونوں طرف کھیل کر اپنے اثاثے اور جانیں بچانا چاہتے ہیں لیکن آپ انہیں سلاخوں کے پیچھے دیکھنے کے لیے بضد ہیں آپ لاہور کے جلسے کی مبارکبادیں بھی لے رہی ہیں تو پھر چند اراکین اسمبلی اور دیہاڑی بازوں کے سر آپ کے ظہرانے میں جُھکے کیوں دکھائی دئیے شاید یہ بھی علم نہیں کہ آپ کی ہر میٹنگ کی رپورٹ ختم ہونے سے بڑی طاقتوں کے پاس پہنچ جاتی ہے اور آپ کے اردگرد بھی طاقتور لوگ کسی رہنما یا ورکر کی شکل میں موجود ہیں آپ بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی یا دیگر سے جو بھی بات چیت کرتی ہیں اُس کا علم بڑی طاقتوں کو ہو جاتا ہے اور جہاں تک مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی کا تعلق ہے اُ نکے ہاتھوں سے جاگیریں نکل گئی ہیں ان کے گھروں میں شامِ غریباں ہے جن کو سرکاری گاڑیاں، پروٹوکول، کروڑوں کی ریل پیل، گھر اور کچن کی ضروریات کی ہر شے مفت میسر ہو اُنہیں بھلا کیسے چین آئے گا اور جس گھر کے 9افراد بھائی، سالے، بیوی کی بھابھی اور سالے کا سالا ائیرپورٹ مینیجر ہو، دوسرا بھائی ڈی آئی جی موٹروے ہو وہ محمود اچکزئی اداروں اور لاہوریوں پر غلاظت نہیں پھینکے گا تو اور کیا کرے گا جن کے باپ پاکستان کے خلاف ہوں انہیں میاں نوازشریف پھر بھی نوازتا رہے تو عوام بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میاں نوازشریف کو اقتدار کتنا عزیز تھا جو مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی جیسے نام نہاد پاکستانیوں کو پاکستان کے خلاف زہر اُگلنے کے باوجود ہر وقت نوازتے رہے ہیں اب انہیں وہ دن اور راتیں یاد آتی ہیں جب محمود اچکزئی اپنی چادر اور مولانا فضل الرحمن اپنا رومال پچھا کر میاں نوازشریف سے اپنی قیمتیں وصول کرتے رہے ہیں، اچھا کیا جو عمران خان نے انہیں ایوانوں سے نکال باہر کیا ورنہ یہ کسی دن دشمن سے ایوان کی رقم پکڑ لیتے کیونکہ ان کا اصل گھر بھارت ہی ہے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) دشمن نواز بن چکی ہے کوئٹہ، پشاور کے بعد پنجاب اور سندھ صوبے کی آزادی کا نعرہ لگنے والا ہے اگر سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت نہ ہوتی تو وہاں بھی سندھ کی آزادی کا نعرہ لگ چکا ہوتا لیکن اس صورتحال میں اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کے اتحادی چودھری برادران اور چودھر ی نثار علی خان کو میاں شہبازشریف اورحکومت کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا ٹاسک دیں اس لیے کہ 8دسمبر کو کچھ نا ہوا اور نا ہی 13دسمبر کو حکومت آر پار ہوئی اب 31دسمبر کی ڈیڈلائن کے دن بھی کچھ ہونے والا نہیں ہے اس لیے کہ پی ڈی ایم کے محمود اچکزئی نے مریم نواز سمیت دیگر لیگی رہنماؤں کے موجودگی میں لاہوریوں کو انگریزوں کا پِٹھو قراردے کر جاگ پنجابی جاگ کے نعرے کا بھرکس نکال دیا ہے ادھر عمران خان اپوزیشن سے این آراو کے بغیر پارلیمنٹ کے اندر مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن مذاکرات کی مخالفت مریم نواز، مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی کر رہے ہیں جو پارلیمنٹ کا حصہ ہی نہیں ہیں اگر بلاول نے یہ موقعہ بھی کھودیا تو پھر سندھ اور مستقبل میں وفاق کیلئے ہاتھ ملتے ہی رہ جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com