پی ڈی ایم کی ناکام ہوتی تحریک

مسلم لیگ(ن) حکومت مخالف اپنے بیانئے کے ساتھ اکیلی نظرآنے لگی
پی ڈی ایم کی ناکام ہوتی تحریک
پی پی پی نے سیاسی چال کھیل دی اورجے یو آئی اندورنی بغاوت کا شکارہوگئی

صابر مغل
پیپلز پارٹی نے ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں پی ڈی ایم کے غبارے سے بری طرح ہوا نکال دی،اسی روز اسلام آباد میں مولانا شیرانی نے حکومت مخالف مہم میں سب سے زیادہ فعال مولانا فضل الرحمان کو لال جھنڈی دکھا دی،شام کے بعدمسلم لیگ (ن)کے اہم ترین رہنماء خواجہ محمد آصف کو احسن اقبال کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیااس وقت مریم نواز بھی وہاں موجود تھیں جنہوں نے بہت واویلا کیامگر ایک نہ سنی گئی، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی برسی پرمریم نواز شریف کی گڑھی خدا بخش لاڑکانہ آمد،ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قبروں پر حاضری،گل پاشی اور اسی دوران سابق صدر آصف علی زرداری کا اہم ترین خطاب جس میں انہوں نے واضح کر دیا کہ تمام سیاسی پارٹیوں کا ایک پیج پر آنا،ہمیں اپنی سوچ اور طریقہ کار بھی بدلنا ہو گا،مریم نواز شریف کی جانب سے پہلی بار کسی جلسے میں عمران خان کی نقل اتاری گئی نہ جانے اس وقت ان کی کیفیت کیا تھی، مخصوص نعرے،وزیر اعظم بلاول بھٹو زرداری اور شیروں کے شکاری آصف زرداری کسی اور ہی جانب اشارہ اورمولانا فضل الرحمان کی عدم موجودگی نے PDMکے مستقبل کے حوالے سے ان گنت سوالات کو جنم دیا،دو روز بعد ہی بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں استعفوں کو میاں نواز شریف کی وطن واپسی سے مشروط کر دیا گیایہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی اسی اجلاس میں ماہرین نے واضع کیا کہ استعفوں کا معاملہ صرف اور صرف مسلم لیگ (ن) کو فائدہ بلکہ مجموعی طور پر پیپلز پارٹی اور جمہوریت مخالف ہے،الراقم نے بلاول بھٹو زرداری کی سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں میاں شہباز شریف کی ملاقات پر لکھا تھا کہ یہ ملاقات آصف علی زرداری کی ہدایت پر ہوئی جس میں طے کر لیا گیا تھاکہ استعفے نہیں دیئے جائیں گے بعد میں سابق وفاقی وزیر اطلاعات مھمد علی درانی کی شہباز شریف سے ملاقات نے پیپلز پارٹی کی سوچوں میں مزید شکوک و شبہات پیدا کر دیئے،دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے نیب انکوائری کے بعداپنے انتہائی قریبی اور سینئر ساتھیوں کو پارٹی سے نکال پھینکنے کی حماقت کر ڈالی،کسی بھی ملک جمہوری پارٹیاں،جماعتیں ہمیشہ اپنے منشور،نظریات کی بنیاد پر قائم ہوئی ہیں،نظریات کبھی بھی ہم آہنگ نہیں ہوتے،اگر ایسا ہو تو پھر تبدیلی کی بنیاد کیا ہو گی؟عوام کی رغبت کیسے ہو گی؟ عوام دوسری جماعت سے دلبرداشتہ کیسے ہو گی؟ایک لوٹ مار کرتا ہے تو دوسرا یہ وعدہ،نظریہ اور منشور پیش کرتا ہے کہ ہم ایسا نہیں کرنے دیں گے،ہم قومی خزانے کے رکھوالے اور اصل عوامی ہمدرد ہیں،ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 11مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں پرمشتمل پی ڈی ایم کی تشکیل موجودہ حکومت کے خلاف ابھر کر سامنے آئی،حیرت انگیز طور پر اس حکومت مخالف تحریک کے سیاسی پنڈتوں کے خلاف کوئی منشور نہیں تھا،یہ آخر روز تک عوام کو یہ نہیں سمجھا پائے کہ حکومت گرانے کے پیچھے ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے؟اس الائنس میں بعض نام نہاد لیڈر ایسے بھی تھے جنہوں نے آج تک پاکستان کو بھی دل سے تسلیم نہیں کیا،توپوں کے سب دہانیپاک آرمی کی جانب کر دیئے گئے،وزیر اعظم عمران خان کے خلاف بیان بازی میں گھٹیا ترین زبان کا استعمال ان کا وطیرہ بن گیا،نا اہل،نکمے،سلیکٹڈ،کٹھ پتلی،اور انہیں طبقاتی نظام کے مطابق نچلا ترین طبقہ بھی بتایا گیا،قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں پر مولانا فضل الرحمان،مریم نوازاور میاں نواز شریف کے لئے ایک ایک دن انتہائی کرب،جبر اور صبر کا نظر آیا،ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ میاں نواز شریف نے بھٹو خاندان کو ملک دشمن،لٹیرا،غداراور نہ جانے کیا کیا کہا،بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر زہر آلود نشتر برسائے گئے،ان پر مقدمات بنائے گئے جو آج بھی چل رہے ہیں،یہی صورتحال پیپلز پارٹی کی رہی جس نے نواز شریف کو مودی کا یار ہونے کی بنا پر غدار قرار دیا،آصف علی زرداری نے لاہور کے مال ہروڈ پر عوامی تحریک کے جلسہ میں نواز شریف کو انتہائی ناقابل اعتبار اور ملک کے لئے سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے کہاآئندہ زندگی بھر ان سے مذاکرات یاتعاون کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،مولانا فضل الرحمان کئی بر سر اقتدار جماعتوں کے سیاسی رفیق رہے،اعلیٰ عہدے،حکومت میں پورا حصہ اور ہر طرح کے مفادات حاصل کئے،ان کی جماعت پاک فوج مخالفت میں میاں نواز شریف کی کوئٹہ میں تقریرمیں خطرناک الفاظ ادا کئے کہ آرمی چیف قمر جاوید باوجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی۔۔۔باز رہیں اگر نہیں آتے توفوج اس پر کچھ کرے،یہ اس سال کی سب سے زیادہ خطرناک تقریر تھی بقول حامد میرکہ چکوال میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریرکورواں سال کی خطرناک ترین تقریر قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسا کس نے کہا جس کا شارہ عمران خان کر رہے ہیں وہ تو خود فوج کو اکسا رہے ہیں،حامد میر پاکستان کے بہت بڑے صحافی،اینکر اور تجزیہ نگار ہیں ہم ان کے مقابل کچھ بھی نہیں مگرحقائق تو حقائق ہی ہوتے ہیں جنہیں نہ میں نہ کوئی اور تبدیل کر سکتا،محمود اچکزئی کا میاں نواز شریف سے بہت پرانا تعلق ہے جنہوں نے نہ صرف اپنے بھائی کو بلوچستان کی گورنر شپ دلوائی بلکہ خود بھی ایک حکومت تھے،مگر یہ وہ شخصیت ہے جس نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا وہ آج بھی کہتے ہیں کہ بلوچستان کا بیشتر علاقہ افغانستان کا حصہ ہے، اے این پی کا ماضی بھی سب کے سامنے ہے،یہاں کس کس بات کا رونا رویا جائے،یہاں نظریات اگر ہوتے تو آج پاکستانی عوام یوں کربناک،جان لیوا اورگہری دلدل میں ڈبکیاں نہ کھا رہی ہوتی،حیرت ہے کسی بھی جماعت کا نظریہ ان کے دکھوں اور مصیبتوں،ان کی بھوک اور ننگ کو ختم نہ کر سکا،یہاں نظریات مفادات میں ہو گئے اگر بانی پاکستان بھی دو قومی نظریہ پر مفاد کو ترجیح دے جاتے تو آج دنیا کے نقشہ پر پاکستانی نامی ریاست کا وجود تک نہ ہوتا،مگر نظریات کو سینے سے لگانے لگانے والے کبھی مفادات کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتے،تف یہ مفادات عوامی امنگوں کو نگل گئے،قومی اداروں کو کھا گئے،قومی خزانہ سب کھا گئے،بند ربانٹ یوں کی گئی جیسے ریاست کا نہیں باپ کا مال ہو،ہم پر مسلط یہ طبقات نظریات نامی اصول سے نابلد ہے،ان کے نظریاتوہ نہیں ہیں جن سے ملک و قوم کو فائدہ پہنچے بلکہ وہ ہے جس سے انہیں،ان کی ذات،ان کے خاندان،ان کے دوستوں،ان کے حواریوں،ان کے چمچوں کا خیال رکھا جا سکے،ایک طرف یہ مفادات پرست ٹولہ حکومت مخالف مہم میں،بڑھ چڑھ کر ہے تو دوسری جانب پاکستان میں مافیاز کا راج ہے،یہ مافیاز اور ناسور ایسے بدبودار اور گھٹیا ہیں جو جب تک انسانی خون کا ذائقہ نہ چھکیں انہیں نیند ہی نہیں آتی،یہ ٹولہ سابقہ بر سر اقتدارسیاسی پارٹیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے مستقبل کے لئے ایسے ایسے معاہدے کئے،ایسے منصوبے مسلط کئے،ایسے ایسے بحران پیدا کئے جس سے عام آدمی کی زندگی ذلت کی گہرائیوں میں جا پہنچی،اب وہی مشکوک ٹولہ موجودہ حکومت کے چرنوں میں بیٹھامسکرا رہا ہے کہ کوئی ہم جیسا ہے تو سامنے آئے،ان کی عوام دشمنی پالیسیوں کی بدولت موجودہ حکومت بے بسی کی بنی تصویر بنی نظر آ رہی ہے وہ ان گنت مصنوعی پیدا کردہ بحرانوں کے باوجود اپاہج نظر آ تی ہے،موجودہ حکومت کو اتنا خطرہ PDMسے نہیں بلکہ وہ تو پیپلز پارٹی کی نئی پالیسی کے باعث اپنی موت آپ مر جائے گی مگرخود حکومت کے اندربعض کردار PDMسے بھی خطرناک کردار ادا کر رہے ہیں،یہی وجہ بن رہی ہے کہ عمران خان جیسے ایماندار شخص کی دیانتداری پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں،عمران خان کو سب اچھا ہے کی خبر پہنچائی جا رہی ہے حقائق سے انہیں دور رکھا جا رہا ہے،سب ٹھیک ہے،عوام خوش ہے،ملکی حالات درست سمت جا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ،یہ سب ان موجودہ چمچوں کا کام ہے جن کے مفادات ماضی کی طرح جاری ہیں،ہر چیز غریب کی پہنچ سے باہر کر دی گئی ہے عمران خان صرف نوٹس نہ لیں ان کے تو نوٹس لینے بھی مذاق بن دیئے گئے ہیں کہ وہ جس چیز کا نوٹس لیتے ہیں دوسرے روز اسی چیز کا ریٹ مزید بڑھ جاتا ہے،حافظ حسین احمد نے اسلام آباد میں انکشاف کیا ہے کہ ہمارے پریشر کی وجہ سے نواز شریف کو لندن جانے کی اجازت ملی،اس صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا اصل ایجنڈا کیا ہے؟اور اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی نکال باہر کیا،پیپلز پارٹی کے اس فیصلہ پر حکومتی حلقے انتہائی خوش اورپی ڈی ایم کے حامی افسردہ ہوچکے ہیں،ایسے کھیل کھلواڑ میں کہیں بھی عوام کی آسودگی،ان کے چہروں پر تازگی و شادابی نظروں سے تا حال اوجھل لگ رہی ہے،یہ اپنے مفادات کے لئے ڈفلیاں تو ہر وقت بجاتے ہیں مگر عوام کے حوالے سے یہ اشرافیہ اندھی اور بے حس ہے،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com