پاسبان بزم قلم … قلم کی پاسبانی پر مامور

حسیب اعجازعاشر
یہ بات سچ ہے اُروو ادب کے فروغ کے لیے جو سرکاری سطح پر اقدامات درکارتھے،نہیں کئے گئے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ادب نواز ذاتی حیثیت میں بغیر کسی طمع اور لالچ کے اُردو کی ترویج کیلئے جو گراں قدر خدمات پیش کر رہے ہیں،وہ تاریخ کے اوراق پر سنہری سیاہی سے رقم ہو رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق لاہور میں رجسٹرڈ اورغیر رجسٹرڈ ادبی تنظیموں کی تعداد ساڑھے تین سو کے لگ بھگ ہیں لیکن افسوس! اکثریت پر مخصوص چہروں کی اجارہ داری ہے یا پھر ذاتی تشہیر ہی اِن کی اولین ترجیحات ہیں،جس کے باعث اُردو ادب کسی نہ کسی صورت میں آگے تو بڑھ رہا ہے مگر نئے باصلاحیت نوجوانوں کو آگے بڑھنے کیلئے مزاحمت کا سامنا ہے پھر بھی اِس ہجوم میں جو تنظیمیں حقیقتاً ادب و صحافت کی آبیاری میں اپنی خدمات کا حق ادا کررہی ہیں اُن کے نام کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔اِسی قبیلے میں ایک نام بلکہ روشن نام ”پاسبان بزم قلم“کا بھی شامل ہوچکا ہے جو گزشتہ ایک سال سے ہم عصر لکھاریوں کو اپنی قلمی ہنرمندیوں اور صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے لیے ایک موثر پلیٹ فورم مہیا کئے ہوئے ہے۔ ”پاسبان بزم قلم“ کا قلیل مدت میں ادب و صحافت کے اُفق پر دمکتے ستارے کی مانند نمایاں ہونے کی سب سے بڑی وجہ انتظامیہ کی خلوص نیت کے ساتھ ساتھ مذہبی رحجانات کے حامل قلم کاروں کا اِس تنظیم سے وابستہ ہوجانا ہے۔کامیابیوں اور کامرانیوں کی وجہ یہ بھی ہے کہ نوجوان مرد لکھاریوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی کثیر تعداد بھی اِس وقت پاسبان قلم سے منسلک ہوچکی ہے اور ہرتقریبات و مقابلہ جات میں نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں بلکہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے میں سرفہرست ہیں۔
جس وژن کے ساتھ چیئرمین پاسبان بزم قلم مدثرکلیم سبحانی چیمہ، صدر حافظ عثمان علی معاویہ، نائب صدر حافظ امیر حمزہ اور اِن کی قابل و ہونہارٹیم منظم اندازمیں اُردو کی ترویج و اشاعت اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد کے حوالے سے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں قابل تحسین ہے۔صرف ایک سال کے قلیل عرصہ میں تحریری مقابلے، کوئز مسابقے اور صحافت کورس کروائے جا چکے ہیں مختلف جگہوں پر ادبی نشستوں کا اہتمام کیا گیا اور ممبران کی دوہزار سے زائد تحریریں نوک پلک سنوار کر شائع کرنا کوئی معمولی کام نہیں مگر ”پاسبان بزم قلم“ نے اپنی غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے دیکھایا ہے۔کورونا کے باعث جب دنیاگھروں میں محصور ہوکر رہ گئی تھی تو ایسی صورتحال میں بھی ایک طرف اِس تنظیم نے عوام میں آگاہی مہم کا آغاز کیا تو دوسری طرف نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لئے آن لائن سماجی رابطہ ذرائع کے موثر استعمال سے پیش پیش نظر آئے۔روزنامہ آفتاب اور پی کے ٹائمز کے لئے باعث اعزاز ومسرت ہے کہ”پاسبان بزم قلم“ سے وابستہ اِن نوجوان لکھاریوں کی شاہکار تحریریں خصوصی صفحات اور ویب پورٹل کی زینت بن رہی ہیں۔
آج بھلے ہی اُردو ادب حکومت کی بے توجہی کا شکار ہو مگر”پاسبان بزم قلم“ جیسی تنظیموں کی موجودگی میں یہ کہنا سراسر غلط اور جھوٹ ہوگا کہ اُردو زبان زوال کا شکار ہے یااُردوکے پڑھنے والوں میں بتدریج کمی آرہی ہے یا پھر اُردو ادب و صحافت کامستقبل تاریک ہے کیونکہ اِن متحرک اور فعال ادبی تنظیموں کے باعث ہی ملکی،غیرملکی و علاقائی سطح پر نئے نئے تخلیق کار منظرعام پر آرہے ہیں جو کہ ایک حوصلہ افزاء بات ہے۔اختتام پر چیئرمین پاسبان بزم قلم مدثرکلیم سبحانی چیمہ اور اِن کی ٹیم کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے ایک سال میں ہرمشکل کو آسان سمجھا اورناممکن کو ممکن کر دیکھایا۔ دعاگوہ ہوں کہ ”پاسبان بزم قلم“قلم کی پاسبانی پر تاقیامت مامور رہے۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com