پاکستان تنازع کشمیر میں امریکی فعال کردار کا متقاضی

پاکستان تنازع کشمیر میں امریکی فعال کردار کا متقاضی !
شاہد ندیم احمد
امریکہ کا کردار جنوبی ایشیا میں بہت فعال ہے، اس لئے صدر ٹرمپ جب کبھی یہاں کے سربراہ حکومت سے ملاقات کرتے ہیں تو پورے خطے کی سکیورٹی و معاشی صورت حال میں بہتری کے امکانات کا تجزیہ کیا جانے لگتا ہے۔ سوئٹزر لینڈ کے شہرڈیووس میں ہونے والی ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیاکہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور امن کے لئے ہی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر تنازع کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے معاملے پر تشویش کا اظہار کیاہے۔ پاکستان اور مریکہ کئی عالمی معاملات میں ایک دوسرے کے اتحادی اور معاون رہے ہیں،بلخصوص افغان جہاد کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ دو طرفہ تعلقات بڑے نمایاں رہے ہیں۔ امریکہ ہمیشہ اپنے بین الاقوامی تعلقات کو غرض کے ساتھ منسلک رکھتا ہے، جبکہ پاکستان میں بین الاقوامی تعلقات تزویراتی حکمت عملی سے زیادہ جذباتی معاملہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس وقت امریکہ کی غرض ہے کہ افغانستان میں اس کو ملی شکست دنیا کے سامنے اس کی جیت کی صورت میں آئے، اس عمل کو ممکن بنانے کے لئے اسے افغانستان میں مزاحمت کرنے والی طاقتوں سے بات کرناپڑی ہے۔اگر پاکستان، امریکہ کی طرح سوچتا تو مذاکرات میں سہولت کاری سے انکار کر دیتا یا پھر اس کام کے بدلے امریکہ سے بہترین سودے بازی کرسکتا تھا،لیکن پاکستان نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا، بلکہ صرف کشمیر کا تنازع طے کرنے کی خاطر امریکی کردار فعال ہونے کا تقاضا کررہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وفود کے ہمراہ ملاقات ایسے عالمی منظرنامے میں ہوئی جب تنازع کشمیر جوالا مکھی بننے کے قریب نظر آرہا ہے اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی واضح طور پر خطرے کے نشان کے قریب ترہے۔ پاکستان سات دہائیوں سے عالمی برادری کو تنازع کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پُرامن طور پر حل کرنے کی ضرورت کی طرف متوجہ کرتا اور ساتھ ہی عالمی و بین الاقوامی سطح پر امن کوششوں میں امکان بھر حصہ لیتا رہا ہے۔افغان مفاہمتی عمل، جس میں پاکستانی کوششیں دنیا بھر کے سامنے ہیں، اہم معاہدے کی صورت میں کامیابی کی منزل سے ہمکنار ہونے والی ہیں۔ یہ منظر نامہ واضح کرتا ہے کہ صرف واشنگٹن نہیں، دنیا بھر کے دارالحکومتوں سے اسلام آباد کے سفارتی رابطے بھرپور طور پر جاری ہیں۔ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں بیشتر ملکوں میں کئے گئے مظاہرے، خود بھارت سے بلند ہونے والی آوازیں اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے ارکان کا اظہار تشویش یہ واضح کررہا ہے کہ واشنگٹن اس مسئلے کی سنگینی اور اس کے پرامن حل کی ضرورت سے پوری طرح آگاہ ہے۔ دوسری طرف پچھلے عشروں کے دوران اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات کی پیچیدگی کی نوعیت دیکھتے ہوئے صدر ٹرمپ کا یہ بیان بہت اہمیت کا حامل ہے کہ پاک امریکہ تعلقات آج جتنے اچھے ہیں اتنے پہلے کبھی نہیں تھے۔ دوسر جانب چند عشروں سے نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات بہت قریبی ہیں، ان دو طرفہ تعلقات کے ناطے اور عالمی امن کے مفاد میں واشنگٹن اگر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرانے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکے تو عالمی امن کو ایک مسلسل خطرے سے نکالنے، کشمیری عوام کو انسانی المیے سے بچانے اور نئی دہلی کو اس خوفناک دلدل سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد دی جاسکے گی جس میں اسے نریندر مودی سرکار کے 5اگست کے فیصلے نے پھنسا دیا ہے۔
یہ امر واضح ہے کہ خطے کو بڑی تباہی سے بچانے میں امریکا کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ،صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پا ک بھارت کشیدی میں ثالثی کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے کشمیرکی موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کریں گے۔ تاہم یہ پیشکش قابل بحث ہے کہ ثالثی کے لیے کون سی اسٹرٹیجی ہونی چاہیے، اور امریکا ثالثی کے لیے نریندر مودی کو قائل کرنے کے لیے کون سی تدبیر یا فیصلہ کن اقدامات کے لیے کتنا اثر ڈالنے کے موڈ میں ہے۔ٹرمپ نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر کردار ادا کرنے کی پیشکش تو کردی،مگر چند ماہ قبل کی گئی ثالثی کی پیشکش کا کیا ہوا؟ بھارت نے تو ثالثی یکسر مسترد کردی تھی ،موجودہ ثالثی پر بھارت کا ردعمل مختلف نہیں ہو گا، ٹرمپ بھارت کو ناراض بھی نہیں کرسکتا ،کیو نکہ امریکا کے مفادات بھارت سے جڑے ہیںخواہ عمران خان سے دوستی کے جتنے مرضی دعوئے کیے جائیں، ویسے بھی فرد واحد سے دوستی کا مطلب کسی قوم اور ملک سے دوستی نہیں ہوتا، اسے عمران خان کی سادگی کہیں یامجبوری کہ ایک بار پھر ٹرمپ سے درخواست کردی گئی کہ بھارت سے معاملات حل کروائیں اور ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہم تیار ہیں۔ ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ کشمیر پر ہونے والی پیش رفت بغور دیکھ رہے ہیں،جبکہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے پوری دنیا دیکھ رہی ہے، لیکن اس پر امریکا سمیت اس بے حس دنیا نے عملاً کچھ نہیں کیا ہے ،اس میں مسلمان ممالک بھی شامل ہیں،جنہوں نے بھارت کے خلاف آواز بلند کرنے کی بجائے تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کو بڑھا نے پر توجہ دی ہے۔
پاکستان نے خطے میں قیام امن کی کاوشوں کے ساتھ ساتھ بھارت پر بار ہا واضح کیا ہے کہ اس کی پالیسیاں خطے میں خوفناک تصادم کو جنم دے رہی ہیں۔ ایٹمی صلاحیت کے حامل پاکستان اور بھارت پر ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ دونوں اپنے باہمی تنازعات جارحیت کی بجائے بات چیت سے طے کریں، بھارت کی دراندازی کے باوجودپاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے۔ پاکستان اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن مسلسل تنازعات میں الجھے رہنا معاشی ترقی کو متاثر کرتا ہے،اس لیے جنگ کی بجائے ترقی وخوشحالی کی جانب گامزن ہونا پاکستان کی اولین ترجیح ہے ۔ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کا حصہ بن کر پاکستان نے بتا دیا ہے کہ وہ امن پسند ملک ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ واضح کرتے رہے ہیں کہ پاکستان اب دوسروں کی جنگ کا حصہ بن کر اپنا نقصان کرنے پر تیار نہیںہے۔ موجودہ خطے کی بڑھتی کشیدہ صورت حا ل میں پا کستان دنیا عالم سے موثر فعاک کردار کا متقاضی ہے ،،اگر عالمی قوتوں نے بے حسی کی روش ترک نہ کی تو دو ایٹمی ممالک کا تصادم دنیا امن کو تباہی سے ہمکنار کرسکتا ہے ۔اس لیے صدر ٹرمپ کوایک ذمہ دار عالمی طاقت کے سربراہ کی حیثیت سے کشمیر کے مظلوم عوام کی جدوجہد آزادی میں مددکرنی چاہئے۔ کشمیر کی موجودہ صورت حال زبانی وعدوں اور دعوئوں سے آگے کا تقاضا کر رہی ہے،اگر امریکانے یہ وقت بھی ثالثی کے لالی پاپ اورحیلے بازی میں ضائع کر دیا تو اس خطے کی تباہی کی ذمہ داری اُٹھانے کے ساتھ کئی تزویراتی فوائد سے بھی محروم ہونا پڑ ے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com