پاک فوج نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا

ا یران، انڈونیشیا، اسرائیل اور کینیڈا کو بھی 2021کی ورلڈ رینکنگ میں پیچھے چھوڑ دیا
پاک فوج نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا
کارکردگی میں افواجِ پاکستان کا دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہونا قوم کیلئے باعثِ فخرواعزازہے

ایچ آئی ہاشمی
افواج پاکستان کا عالمی رینکنگ میں بہترین کارکردگی کے اعتبار سے ترقی یافتہ ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ کردنیا بھر کی 10 طاقتور عسکری قوتوں کی صف میں شامل ہونا قابل فخراوراعزاز کی بات ہے۔حال ہی میں شائع ہونے والی گلوبل فائر پاور انڈیکس 2021 کے مطابق پاک فوج کی 5درجے ترقی تسلیم کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ عسکری قیادت کسی بھی چیلنج سے عہدہ برآ ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری فوج پیشہ وارانہ مہارت سے لیس اورکسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے ہمہ وقت مستعد اور تیار ہے۔جاری تفصیلات کے مطابق گلوبل فائرپاورکی سال2021 کیلئے بنائی گئی فہرست میں پاکستان کی پانچ درجے بہتری ہوئی ہے۔138 ممالک کی عالمی رینکنگ میں پاک فوج 10 ویں نمبر پر آگئی۔کم بجٹ،کم انفرادی قوت،قلیل وسائل اور دہشتگردی و معاشی چینلجز کے باوجودصلاحیتوں اور کارکردگی کی بنیادپر پاک فوج نے دنیا کے کئی ممالک کی فوج کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جو کہ غیرمعمولی قابل تحسین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایک بار پھر دنیا پاک کی صلاحیتوں کی معترف نظر آرہی ہے۔ گلوبل فائرپاور کیمطابق پاکستان کی زمینی فوج کے پاس2ہزار 680 ٹینک،9 ہزار 635 آرمرڈ وہیکلز،330 راکٹ پروجیکٹرز،429 سیلف پروپیلڈ آرٹلری،1 ہزار 690 ٹوڈ آرٹلری ہے۔جبکہ پاک فضائیہ کے پاس 357 لڑاکا طیارے،331 ہیلی کاپٹرزجن میں 53 کمباٹ ہیلی کاپٹرز اور 4 ٹینکر فلیٹ ہیں۔پاک نیوی پر ایک لاکھ 46 کلو میٹر کی کوسٹ لائن کی ذمہ داری ہے۔8فریگیٹ اور9سب مرینزکیساتھ یہ محافظ بھی اپنا کام اسطرح انجام دے رہے ہیں کہ دشمن بھی ششد رہ جاتا ہے۔اِس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ گلوبل فائر پاور انڈیکس 2021 کے مطابق پاک فوج کی 5درجے ترقی تسلیم کرنا اور ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہونا اِس بات کا اعتراف ہے کہ پاک فوج کی قیادت درست ہاتھوں میں ہے۔ بلاشبہ فوج کا ہر جوان ہمارا فخر ہے جو وطن عزیز پر کبھی بھی آنچ نہ آنے دینے کے بھرپورعزم کے ساتھ اپنی ہر سانس لیتا ہے۔یہ ایک درخشاں حقیقت ہے کہ تجربے، مہارت، جانفشانی اور اپنے مقصد سے لگن کے اعتبار سے دنیا بھر میں پاک فوج کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ وہی فوج ہے کہ جب بھی پاکستانی قوم کسی مصیبت میں گرفتار ہوئی تو سب سے پہلے اس نے آگے بڑھ کر ہمیں سنبھالا دیا۔ برستے گولوں اور چنگھاڑتے میزائلوں میں بھی اس بہادر فوج کو اپنی نہیں بلکہ وطن عزیز کی حفاظت کی فکر ستاتی ہے اور دفاعِ وطن ہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہوتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا شمار قابل افسران میں ہوتا ہے جودلائل اور منطقی گفتگو کرتے ہوئے فوج کا نقطہ نظر، فوج کی کامیابیاں اور فوج کے کردار کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ثبوت و شواہد کے ساتھ پاکستان کے دشمنوں کی سازشوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتے ہیں۔حال ہی میں میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود تمام اداروں اور پوری قوم نے متحد ہو کر مشکلات کا سامنا کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کیا۔اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ مغربی سرحد پر قبائلی علاقوں میں امن و امان بحال کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں سماجی و معاشی اقدامات کا آغاز کیا جا چکا ہے، پاک افغان اور پاک ایران سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے مربوط اقدامات کیے گئے اور دہشتگردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کے نتیجے میں ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال بہت بہتر رہی۔بھارت کے ناپاک عزائم کے حوالے سے کہنا تھا کہ ہندوستان کے مذموم عزائم ہوں یا پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وار فیئر کی اپیلیکیشن، خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی ہم نے ہمیشہ شواہد اور حقائق کے ذریعے ان کی نشاندہی کی اور مقابلہ بھی کیا، اس چیز کو اب دنیا بھی مان رہی ہے کیونکہ سچ ہمیشہ سامنے آکر رہتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن ردالفساد کے تحت گزشتہ تین سالوں کے دوران 371173 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے جن میں 72 ہزار سے زائد اسلحہ اور ساڑھے 4 ٹن سے زائد بارود برآمد کیا گیا، دہشتگردوں، ان کے مددگاروں اور مالی معاونین کا بڑی حد تک خاتمہ کیا گیا، آج پاکستان میں کوئی بھی منظم دہشتگرد اسٹرکچر ماضی کی طرح موجود نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی کامیابی کو پیمانے پر پرکھا جائے تو 08-2007 میں قبائلی اضلاع میں صرف 37 فیصد علاقے پر ریاستی عملداری رہ گئی تھی، آج الحمد اللہ تمام ڈسٹرکٹس خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں۔ دہشتگردی کے بڑے واقعات میں 2019 کے مقابلے میں 2020 میں 45 فیصد کمی آئی، دہشتگردی کے واقعات 2013 میں اوسطاً 90 فی سال تھے جو آج گھٹ کر 13 فی سال ہو گئے ہیں۔ان کا بتانا تھا کہ اگر دہشتگردی کے واقعات میں ہونے والی اموات کا جائزہ لیں تو 2013 میں دہشتگردی کے واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 414 تھی اور 2020 میں 98 تھی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خودکش حملوں میں 97 فیصد کمی واقع ہوئی، 2014 میں کراچی کرائم انڈکس میں چھٹے نمبر پر تھا اور 2020 میں سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کے بعد 103 نمبر پر آ گیا ہے، اب یہاں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے بڑے بڑے دارالحکومتوں سے بھی زیادہ بہتر امن و امان کی صورتحال ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں دہشتگردی میں 95 فیصد، ٹارگٹ کلنگ میں 98 فیصد، بھتہ خوری میں 99 فیصد اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں 98 فیصد کمی واقع ہوئی۔پاکستان کے خلاف بھارتی اقدامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت نے اقلیتوں کیحوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا کیا اور کشمیر کے محاذ پر اپنی جارحیت کو چھپایا، پاکستانی میڈیا نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا جس پر میڈیا مبارکباد کا مستحق ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہمیں ملک کو کامیاب بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے، کورونا کے خلاف پاکستان کی کوششوں کا دنیا اعتراف کررہی ہے لیکن دشمن قوتیں ہمیں ناکام کرنے میں مصروف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف ڈوزیئر میں جو حقائق ہیں وہ مختلف ممالک تک پہنچا دیے ہیں، بھارتی خفیہ ایجنسی را افغانستان میں داعش کی معاونت کر رہی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو دہشت گردی کے حوالے سے فوجی آپریشن کی تاریخ بہت طویل ہے۔ ماضی قریب میں ”آپریشن ضربِ عضب” شمالی وزیرستان کی وادی شوال کی پُرپیچ گھاٹیوں، کھائیوں اور دتہ خیل کے سنگلاخ پہاڑوں میں 15 جون 2014 سے شروع کیا گیا تھا جس کے بارے میں دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب سے پاکستان میں دہشت گردحملوں میں 70فیصد کمی ہوئی ہے۔۔مرحلہ وار جائزہ لیا جائے تو دہشت گردوں نے پاکستان کے داخلی اور خارجی امن کو تہہ و بالا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا، مگر ہر بار افواج ِ پاکستان کے آہنی عزم، ثابت قدمی اورجرات کے سامنے وہ چاروں شانے چت ہوتے گئے۔ اگست2016 میں عسکریت پسندوں کے خلاف ایک آپریشن راجگل بھی ہوا جسے خیبر ون، ٹو اور تھری بھی کہا گیا۔ راجگل خیبر ایجنسی کی ایک چھوٹی سی وادی ہے جو افغانستان سے متصل ہے۔ جہاں آپریشن ضربِ عضب سے بھاگے ہوئے دہشت گردوں نے پناہ لے رکھی تھی یہاں داعش، لشکرِ اسلامی اور تحریکِ طالبان نے ٹھکانے بنا لئے تھے۔ وادی? راجگل کے علاقے دامو درب میں سرچ آپریشن کے دوران 40 سے زیادہ دہشت گردہ ہلاک ہوئے اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد ہوا تھا۔ اسی طرح بابر کوچاک، نرے ناؤاور نوسپار میں بھی بیسیوں دہشت گرد ہلاک کئے گئے تھے۔ بظاہر آپریشن راجگل بڑا، اور آخری آپریشن سمجھا جاتا رہا ہے،۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ بے چہرہ دشمن پاکستان کے مختلف شہروں تک پھیل گیا، وہ جنگلوں اور پہاڑوں سے نکل کر آبادیوں کو نشانہ بنانے لگ گیا۔پاکستان میں فوج کے کردار پر عمیق نگاہ ڈالی جائے تو اس کی تاریخ جہاں محاذِ جنگ پر انہیں تابناکی سے سرفراز کرتی ہے وہاں اندرونی طور پر مسلسل آپریشن سے دوچار دکھائی دیتی رہی ہے۔ آپریشن دیر، آپریشن بونیراور آپریشن بلیک تھنڈر جو زیریں سوات بونیر میں ہوا تھا۔ آپریشن راہِ راست، آپریشن راہِ نجات اور آپریشن راہِ حق بھی پاک فوج کی جرات کی طویل کہانی بیان کرتے ہیں جس کی وجہ سے ملکِ عزیز پاکستان دھیرے دھیرے دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں سے پاک ہوتا چلا گیا۔ یہ باتیں لکھنے اور پڑھنے میں دیو مالائی اور دلچسپ لگتی ہیں مگر اس میں ہزاروں فوجیوں کی جانوں کے نذرانے اور بے شمار قبائلیوں کے جان ومال کی قربانیاں بھی شامل ہیں، حالیہ آپریشن میں آپریشن ردالفساد دشمن کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com