پاگل نامہ

پاگل نامہ
تبصرہ نگار: راجہ مظہر اقبال
قیصر آفتاب کا ناول”پاگل نامہ“پاگلوں کے دلچسپ کرداروں اور خوبصورت کہانیوں کے گرد گھومتا ہے۔یہ ناول سالِ نو کی آمد پر اُردو ادب میں ایک بہترین اضافہ ہے۔اس ناول کو پڑھ کر احساس ہو تا ہے کہ ناول نگار نے ناول کی ہیئت پر ایک تجربہ کرتے ہوئے کہانی کو آگے بڑھایا ہے،عموماً ناول کی کہانی کسی مرکزی کردار،اور اہم واقعے کے گرد گھومتی ہے لیکن ”پاگل نامہ”میں معاملہ مختلف ہے اس میں پورا ناول ایک کیفیت کے بیانیے پر مشتمل ہے۔ناول نگار نے سرشاری کی ایک مستقل کیفیت کوکرداروں میں سمو کر ایک خوبصورت پلاٹ سے جوڑ کر اپنی بات مکمل کی ہے۔اس ناول میں ہمیں مجموعی طور پر کئی ایک معصوم اور خوبصورت پاگل کردارپڑھنے کو ملتے ہیں جو پاگل ہونے کے باوجود بے ضرر نظر آتے ہیں۔اس ضمن میں ”کوُتی لال“ کا کردار میری نظر میں سرِ فہرست ہے جو قبرستان میں رہائش پذیر ہے اور شہر کے آوارہ کتوں کو سنبھالے ہوئے ہے،یہی نہیں بلکہ اس قبرستان کی صفائی بھی اپنے ذمہ لے رکھی ہے اور پورے قبرستان میں ایک بھی بھنگ کا پودا اُگنے نہیں دیتا لیکن آخر میں اس کی اپنی قبر بھی کہیں بھنگ کے جنگل میں گم ہو جاتی ہے۔ ”کُوتی لال“ کے تعارف میں ناول نگار یوں لکھتا ہے ”وہ اپنے ہی شکنجے میں کہیں پھنسا ہوا تھا جیسے کوئی پتنگ اپنے تناوؤں سے درخت میں اٹک جائے اورہوا اسے تھوڑا سا ہی دائیں بائیں ہلا سکے۔“
اسی طرح اس ناول ”پاگل نامہ“ کا کردار ”چھتو کمہار“ جس خوبصورتی سے مٹی اور مٹی کے اوصاف پر بات کرتا ہے تو ایسے لگتا ہے کہ آسانی، روانی اور سلاست کسی نے فلسفی کو سکھا دی ہو۔ ذرا چھتو کمہار کی زبان سے مٹی کے بارے میں یہ لائنیں ملاحظہ فرمائیں۔”سب سے اہم چیز مٹی کا خمیر ہوتا ہے۔جتنی اعلیٰ وصف کی مٹی ہو گی ویسا ہی عمدہ اور نفیس برتن کا وجود اس سے جنم لے گا۔اس پیکرِ خاکی میں،مٹی کی پاکیزگی،اس کی متانت،اس کا ٹھہراؤ،اس کی پردہ پوشی،اس کا بچھ بچھ جانا،اس کا تخلیقی عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانا سب کچھ نمایاں ہو گا۔یہ پیکرِ خاکی اپنے اندر اپنے اصل جوہر کی ساری خصوصیات رکھتا ہو گا۔اس کے برعکس اگر مٹی میں انتشار ہو گا، ذروں میں باہمی جڑاؤ نہ ہو گا،الفت و یگانگت نہ ہو گی،عاجزی اور ربط نہ ہو گا،خو د سری و خود پرستی ہو گی،انا کا خول ہو گا تو اس سے تخلیق پانے والا پیکر خاکی بکھرنے پر تُلا رہے گا،کم مفید ہو گا،اپنے تخلیقی مقصد کو پورا نہ کر پائے گا،جلد تڑخ جائے گا،اپنے مقام سے گر کر ٹھیکری کی صورت رستوں میں پیروں کی دھول بنے گا،اپنی ذات گم کر کے بے مقصد آوارگی کو چُنے گا“۔
اس ناول کی کہانی اور کردار آپ کے ذہن میں ایک طوفان برپا کر دیتے ہیں اور آپ پاگلوں کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ ناول نگار نے پاگلوں کے احساسات،جذبات اور تکلیفات کا نہ صرف احاطہ کیا ہے بلکہ ان کی ترجیہات کو جانچنے،پرکھنے اور وقت دینے کی بھی کوشش کی ہے۔یہ پورا ناول اگرچہ ٓاٰسان زبان،مختصر جملوں،چھوٹے چھوٹے مکالموں پر مشتمل ہے لیکن اس میں انتہائی دقیق اور غور طلب موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔واقعات میں جہاں نفسیات اور مابعد النفسیات کی جھلک ملتی ہے وہاں ہمیں ”علم الاشیاء“کی صورت طبیعات اور ما بعد ا طبیعات کے موضوع پر بھی سیر حاصل بحث ملتی ہے۔اس ناول میں ماحولیاتی تانیثیت کے بھی کچھ گوشے عیاں ہوتے ہیں جیسا کہ ”سَتر“ میں معصوم صفیہ کے کچے ذہن پر مولوی صاحب کے ارشادات کی اس قدر گہری چھاپ ملتی ہے کہ وہ ایک پرندے کی نظر بھی اپنے جسم پر پڑنے کو گوارہ نہیں کرتی اور اس کی جان لے کر خود حواس کھو بیٹھتی ہے۔اسی طرح ”دِیا راجہ“ بھی دو پاگلوں کو سنبھالتے ہوئے اپنا مشن، اپنی پڑھائی اپنا مستقبل سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہے۔
اس ناول میں ناول نگار نے خوابوں کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھا ہے اور پھر یہ سوال اٹھانا کہ کیا ”پاگل افراد خواب دیکھتے ہیں؟اور پھر اس سوال کے جواب میں سرگرداں پھرنا اور آخر میں ایک خوبصورت واقعہ کی صورت میں اس سوال کا جواب دیا جانا،قاری کو کتاب اور کہانی میں گُم رکھتا ہے۔پورے ناول میں ہمیں پاگلوں اور سجوتوں کے درمیان ایک دلچسپ نوک جھونک جاری رہتی ہے،جہاں سجوتوں کا یہ دعویٰ کہ دنیا کا کاروبار اور رونق ان کے دم قدم سے ہے،وہاں پاگلوں کا یہ بیانیہ سامنے آتا ہے کہ یہ سجوتے جس تیزی سے وقت اور روٹین کی قید میں پھنستے جا رہے ہیں وہ وقت دور نہیں جب یہ وقت اور اپنی افراتفری کے باعث اپنا ذہنی توازن کھو کر ہم پاگلوں سے آن ملیں گے۔
اس ناول کے ایک کردار دینوں شاہ نے مجھے نہ صرف اپنی گرفت میں لے لیا بلکہ میں ناول ختم کرنے کے بعد بھی اس کے سحر میں مبتلا رہا،دینوں شاہ کا تعارف کیا ہے ذرا کتاب سے ملاحظہ کیجئے۔
”وہ عامل ہے،مندروئی ہے، سنیاسی ہے،کھوجی ہے، مویشیوں کا حکیم ہے، زیرِ زمین پانی کا پتہ بتانے والا ہے،جانگلی ہے، شکاری ہے،سائیں ہے،چلے کاٹتا ہے، جڑی بوٹیاں اکٹھی کرتا ہے،چرواہا ہے،کئی سال گاؤں سے غائب رہنے کے بعد کچھ ہی سال پہلے وہ گاؤں میں لوٹا ہے۔“
اس ناول کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ قیصر آفتاب نے کیسے اور کہاں سے اتنے سارے پاگل کردار جمع کئے ہیں اور ان کرداروں کو خوبصورت کہانی میں ڈالا ہے۔ان کے اپنے تجربات اور مشاہدے کس نوعیت کے ہیں یہ سب کچھ ہمیں اس ناول کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے۔یہ کتاب ایک سو ساٹھ صفحات پر مشتمل ہے جس کی قیمت تین سو روپے ہے۔کتاب راولپنڈی،اسلام آباد کی تمام بک شاپ پر دستیاب ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com