وطن عزیز پاکستان کی ترقی میں تارکین وطن کا کردار

وطن عزیز پاکستان کی ترقی میں تارکین وطن کا کردار
ازقلم
زاہد شکور ۔ ذیشان بٹ مسقط عمان
 

کسی بھی ملک کی معیشت ملک کی مضبوطی میں بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ان کی شبانہ روز کی محنت سے بجھوائی جانے والی رقوم سے ملکی اقتصادیات مستحکم بنیادوں پراستوار ہوتی ہے، پاکستان جسے ترقی پذیر ملک کہا جاتا ہے۔ اگر ہم ماضی کے سال کی ترسیلات زر پر نظر ڈالیں تو یہ جاننے میں مشکل پیش نہ آئے گی کہ اس مدت میں معیشت نے کافی ترقی کی، حکومت معیشت پر خاص توجہ دے تو وہاں اوورسیز پاکستانیوں کو وطن عزیز میں سرمایہ کاری پر راغب کیا جاسکتا ہے اگر ملک میں استحکام اور امن ہوگا تو بیرون ممالک بسنے والے لاکھوں تارکین بلاخوف و خطرسرمایہ کاری کریں گئے

اوورسیز پاکستانی وطن سے دور ضرور ہیں لیکن ان کے دل  پاکستان کے لئے دھڑکتے ہیں ان کے دلوں میں پاکستان کی محبت کسی طور پرکم نہیں ہوئی اور نہ ہی ہوگی کیونکہ وہ محب وطن ہیں وہ خود تو سمندر پار ہیں اور دن رات محنت کرکے زرمبادلہ کی صورت میں ملکی معیشت کو مستحکم کررہے ہیں ۔

پاکستانی تارکین وطن اپنے ملک سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ سات سمند رپار ہونے کے باوجود ان کے دل اپنے ہم وطنوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ ہر لمحہ پاکستان کی سلامتی کیلئے دعا گو رہتے ہیں اور ان کی دلی تمنا ہے کہ پاکستان بھی دنیا کے ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک کی صف میں کھڑا ہو۔ جہاں کہیں وہ محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان کے مفادات پر کوئی آنچ آ رہی ہے تو وہ اس کے تدارک کیلئے فوراً تیار ہو جاتے ہیں۔ ان کی باتوں سے حب الوطنی کی خوشبو آتی ہے۔ وہ صدق دل سے چاہتے ہیں کہ پاکستان کو لاحق موجودہ سنگین چیلنجز سے عہدہ برآء ہونے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

 پاکستانی تارکین وطن موجودہ حکومت پر اس لئے بہت اعتماد کرتے ہیں کیونکہ یہ بدعنوان نہیں ہے اور یہ ملک کو ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن کرنے کے ضمن میں مخلصانہ کوششیں کررہی ہے.

پاکستان کی آبادی کانصف سے زائد نوجوانوں پر مشتمل ہے جو کسی بھی ملک کے لئے بہت بڑی نعمت ہے۔ ان نوجوانوں کو ایسی پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت مہیا کرنے کی ضرورت ہے جو مارکیٹ اور انڈسٹری کی ضروریات سے مطابقت رکھتی ہو۔

پاکستان بننے کے بعد جس سیاسی پارٹی نے بھی اقتدار سنبھالا اُس پارٹی نے اپنے دور حکومت میں تارکین وطن پاکستانیوں کے لئے کچھ ادارے تو بنائے لیکن وہ ادارے تارکین وطن کے مسائل کو حل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ۔ پاکستان اوورسیز فاونڈیشن ، اوورسیز کمیشن پنجاب ، وفاقی محتسب اوورسیز سیکٹر ، ایڈوائزرز اور دوسرے کئی عہدے دار تارکین وطن پاکستانیوں کے مسائل کے حل کو یقینی بنانے میں ناکام رہے ، بڑے بڑے جلسے کئے گئے ، کئی جلوس نکلے ، سمینارز اور اوورسیز کانفرنسز کی گئیں ،لیکن سب بے سود رہا۔موجودہ حکومت تحریک انصاف کی ہے اور یہ سیاسی پارٹی پہلی بار اقتدار میں آئی ہے ، حکومتی نمائندگی نوجوانوں پر مشتمل ہے اس لئے اوورسیز پاکستانیوں کو یقین ہو چلا ہے کہ یہ نوجوان قیادت تارکین وطن پاکستانیوں کے مسائل کو حل کرنے میں زیادہ زور لگائے گی ۔ تارکین وطن پاکستانیوں کو اُن ممالک میں تو بہت سے مسائل کا سامنا ہے جس ملک میں وہ رہتے ہیں لیکن پاکستان یعنی ان کے اپنے وطن میں بھی ایسے مسائل نے تارکین وطن کو گھیر رکھا ہے جن سے فوری نکلنا اور ان مسائل کو ختم کرنا فی الفور ضروری ہے ۔ تارکین وطن اپنوں میں رہنے کے لیے وطن میں جائیدادیں بناتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں جس سے انہیں خاطر خواہ منافع ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں رہنے والے بہت سے بے روزگار بھی صاحب روزگار بن جاتے ہیں ، افسوس اس وقت ہوتا ہے جب تارکین وطن پاکستان مین واپس آتے ہیں تو ان کے مکانات اور جائیدادوں پر کوئی فرد قبضہ کر چکا ہوتا ہے ، یہی نہیں بلکہ پیسے کے لالچ میں ان کے ساتھ حادثات بھی کروا دیے جاتے ہیں۔ایسے واقعات نے دوسرے ممالک میں رہنے والوں کا اپنے وطن آنے کا شوق اور جذبہ ماند کر دیا ہے۔ موجودہ حکومت کو چاہئے کہ تارکین وطن کے ان مسائل کے حل کیلئے کوئی کمیٹی بنائے جو تارکین وطن کی خدمت کیلئے ہمہ وقت موجود ہو۔ اس سے تارکین وطن کا اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کا عزم بھی بڑھے گا اور یقیننا پاکستانی معیشت کو بھی مستحکم کرنے میں مدد ملے گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com