ہماری پُکار اُور ”کورونا“ کی رفتار

ہماری پُکار اُور ”کورونا“ کی رفتار
عمران امین
حاکم وقت کا نیا فرمان آیا ہے۔سختی کے دنوں کو بڑھا دیا گیا ہے چنانچہگھروں سے نکلنے پر ابھی پابندی رہے گی،بازار بھی نہیں کھلیں گے،تقریبات اُور دیگر سوشل سرگرمیاں بھی معطل رہیں گی۔گویا کہ جو جہاں ہے وہاں رہے گا جبکہ وقت کا دریا بہتا رہے گا۔پیٹ کی آگ یونہی جلتی رہے گی،غریب کے بچے بلکتے رہیں گے،غریبوں کے ارمان سلگتے رہیں گے،بھوک اُور ننگ دست وگریباں رہیں گے،افلاس کے نئے گیت لکھے جاتے رہیں گے اُورمزدور کی خمیدہ کمر بے کاری کے بوجھ سے مزیدبوجھل ہو جائے گی۔یہ تمام حقیقتیں اپنی جگہ اُور وقت کے ظالم فیصلے اپنی جگہ،ہماری مصلحتیں اپنی جگہ اُور وقت کے تقاضے اپنی جگہ،ہماری مستقل مزاجی اپنی جگہ اُوروقت کے پینترے اپنی جگہ،ہماری چالیں اپنی جگہ اُور وقت کی سینہ زوریاں اپنی جگہ۔سوال یہ ہے کہ ساری دنیا میں ہماری پُکار اُور پاکستان میں ”کورونا“ کی رفتار کیاایک ہی فریکیونسی سے آگے بڑھ رہی ہے؟۔وزیر اعظم پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے قرضے ری شیڈول کرے۔ ترقی پذیر ممالک کو ”کورونا وائرس“ سے نمٹنے میں بہت مشکل آرہی ہے کیونکہ ان کو اپنے محدود وسائل میں اس بلا سے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک اپنے وسیع وسائل کے بنا پر اپنے لوگوں کو بہترین ریلیف پیکج دے رہے ہیں جس کی وجہ سے اُن کے مایوس عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے بائیس کروڑ افراد کے لیے صرف آٹھ ارب کا ریلیف پیکج دے سکا ہے جو اتنی زیادہ آبادی کے لیے بالکل ناکافی ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ اپنے لوگوں کو 2.2کھرب ڈالرز،جرمنی ایک کھرب ڈالرز،جاپان ایک کھرب ڈالرز کا پیکج دے رہا ہے۔ لہذا اس مصیبت کی گھڑی میں پاکستانی عوام ساری دنیا کی طرف نظر اُٹھائے ہوئے ہے۔پچھلے چند دنوں سے عمران خان نے پاکستان کی تاریخ کا شاندار کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے اس بُرے وقت میں اپنے غریب عوام کو بارہ ہزار فی خاندان کی ایک معقول رقم دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ یوٹیلٹی سٹورز پر حکومت نے سبسڈی بڑھا دی ہے۔ڈیڑھ ارب سے اب سبسڈی ڈھائی ارب تک ہو چکی ہے جو اگلے دنوں میں چھ ارب تک جا سکتی ہے۔حکومت نے عوام کو فوری ریلیف دیتے ہوئے بجلی اُور گیس کے بلوں کی ادائیگی کو اقساط سے مشروط کر دیا ہے تاکہ مڈل کلاس کو سہولت میسر ہو سکے۔اس کے علاوہ حکومت نے بے گھر افراد اُور کرایہ دار کاروباری طبقے کو بھی ایک بہتر ریلیف دیتے ہوئے مکان اُور دُکان کے کرائے معاف کر دئیے ہیں۔ اس دُوران حکومت وقت کی نزاکت اُور اپنے دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کافی زیادہ دُکانیں اُورکاروبار کو کھولنے کا اعلان کر چکی ہے۔اس کے علاوہ حکومت کے مقرر کردہ ”قرنطینہ سنٹرز“ پرمتاثرین کو ہر ممکن سہولت دی جارہی ہے اُور طبی عملہ مکمل حفاظتی لباس اُور کٹس کے ساتھ اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہا ہے۔حکومتی مشینری کی بھرپور کوشش ہے کہ ہمارا دیہاڑی دار طبقہ متاثر نہ ہو اُور اُس کے گھر کا چولہا جلتا رہے۔اس کوشش میں تاحال حکومت پاکستان کافی حد تک کامیاب نظر آتی ہے۔ڈُوسری طرف عوام کو بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ اُس نے بھی بھرپور انداز میں تعاون کرتے ہوئے سرکاری اعلانات کی مکمل پابندی کی ہے اُور اکا دُکا واقعات کے علاوہ سارے ملک میں عوام کی طرف سے منظم انداز میں حکومتی لوگوں سے تعاون کی فضا پائی جاتی رہی ہے۔اس مصیبت کی گھڑی میں معاشرے کی طرف سے ملنے والایہ اشارہ ایک خوش آئند بات سمجھی جا سکتی ہے۔اگر پاکستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ”کورونا“ متاثرین کی پاکستان میں ابھی تک کی تعداد،مختلف آراء، اندازوں اُور تخمینوں کی نسبت بہت کم ہے جبکہ ”کورونا“ کی وجہ سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد اُور تناسب بھی دیگر ممالک سے بہت کم ہے۔البتہ ورلڈ بینک کی جانب سے جنوبی ایشیاء خاص طور پر بھارت اُور پاکستان کے لیے جو پیشن گوئی کی گئی ہے وہ قابل غور ہے۔جس کے مطابق اس علاقے میں ”کورونا“ سے بڑی اموات واقع ہو سکتی ہیں۔اس لیے اب سارے پاکستانی لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بے پرواہی اُور بے صبری کا مظاہرہ نہ کریں اُور حکومتی احکامات پر مکمل عملداری کو ممکن بنائیں۔ اس مشکل اُور آزمائش کے وقت میں بھی پاکستان کا ازلی دشمن بھارت سرحدوں پرمسلسل جنگی جنون کا مظاہرہ کر رہا ہے اُور بد قسمتی سے پاکستان میں سیاست دانوں اُور کاروباری افرادکا ایک گروپ جو دراصل بھارتی ایجنٹ ہیں اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے لوگوں میں انتشار پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو اُور دشمن قوتوں کو فتنہ پھیلانے میں کامیابی ملے۔اب عوام کی دُھری ذمہ داری بنتی ہے کہ انہوں نے اس بیماری کے خلاف بھی جہاد کرنا ہے اُور ساتھ میں اپنی آستینوں میں چھپے سانپوں کوبے نقاب کرتے ہوئے ناکام بھی کرنا ہے۔جبکہ دوسری طرف حکومت کی ذمہ داری بھی ہے اُور اُس کو اس بات کا ادراک بھی ہونا چاہیے کہ پاکستان کو صرف ”کورونا“ کی تباہ کاریوں کا ہی سامنا نہیں ہے بلکہ مستقبل میں بھوک،افلاس،غربت،تنگ دستی اُوربے روزگاری جیسی بلائیں بھی اپنے پر کھولے کھڑی ہیں۔اس لیے حکومت کو جو بھی اُور جس قسم کے بھی فیصلے کرنے ہیں جن میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کی حکمت عملی ہو یا پھر معاشی وجوہات کی بنا پر پیدا ہونے والے مسائل،ان سب کے لیے ایک مضبوط،جامع،ٹھوس اُور دوٹوک پالیسی بنانا ہوگی اُور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان پالیسیوں کی بنیاد پر ہی عالمی معاشی ادارے اُور ممالک،پاکستان کے لیے کوئی بہتر پلان کر سکیں گے۔اللہ پاک ہمارے پیارے ملک وقوم کی حفاظت فرمائے۔آمین
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com