او آئی سی کا کشمیر پر متوقع اجلاس،پاکستان کی بڑی کامیابی

او آئی سی کا کشمیر پر متوقع اجلاس،پاکستان کی بڑی کامیابی
قرۃ العین ملک
مودی سرکار نے کشمیر میں پانچ اگست سے کرفیو نافذ کیا اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی ،کرفیو کو پانچ ماہ ہونے والے ہیں ابھی تک جاری ہے اور کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہے، جنت جیسی وادی کو مودی نے کشمیریوں کے لئے جہنم بنا دیا،کرفیو کے خلاف حکومت پاکستان نے سفارتی سطح پر اپنا کیس لڑا ،وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا تو اسے ساری دنیا میں سراہا گیا،سفیر کشمیر کے نام سے وزیراعظم عمران خان کے حق میں مقبوضہ کشمیر میں بھی کشمیریوں نے نعرے لگائے اور عمران خان کے خطاب کا خیر مقدم کیا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کشمیر کا کیس لڑنے میں حق ادا کیا، مختلف فورمز پر کشمیر پر بات کی، انسانی حقوق کی تنظیموں، امریکی کانگریس، یورپی یونین سمیت مختلف عالمی اداروں نے مودی سرکار سے کشمیر میں کرفیو ختم کرنے کا مطالبہ کیا لیکن مودی میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ہوئے ہے، او آئی سی نے بھی کشمیر میں ہونے والے مظالم کی مذمت کی اور کرفیو کے خاتمے کا مطالبہ کیا،او آئی سی کے غالبا دو یا تین اجلاس کشمیر پر ان دنوں ہو چکے ہیں جن میں کشمیر پر بات کی گئی او آئی سی کا صدر دفتر سعودی عرب میں ہے ،سعودی عرب نے بھی کشمیر کے مسئلہ پر حکومت پاکستان کا ہمیشہ ساتھ دیا، اب بھی چند دن قبل وزیراعظم عمران خان سعودی عرب گئے تو ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم پر بات چیت ہوئی، سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل پاکستان آئے تو ان کے ساتھ ملاقات میں بھی کشمیر کے ایشو پر بات چیت کی گئی ،سعودی وزیر خارجہ کے دورے کے بعد اب خبر آئی ہے کہ او آئی سی کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر او آئی سی کا کشمیر کی صورتحال پر اجلاس ہو گا، اجلاس اپریل میں اسلام آباد میں متوقع ہے،سعودی ولی عہد نے وزیراعظم عمران خان کو یقین دہانی کروا دی ہے کہ او آئی سی کا اجلاس اسلام آباد میں ہو گا، اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، ترکی، انڈونیشیا ودیگر ممالک کی شرکت متوقع ہے۔اوآئی سی اجلاس کا سرفہرست ایجنڈا مقبوضہ وادی کی صورتحال، بھارت میں شہریت کے متنازع بل کے بعد کی صورتحال ہو گی۔
اسلامی سربراہی کانفرنس کا اسلام آباد میں ہونے والا وزرائے خارجہ اجلاس ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور سمٹ کے بعد خصوصی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ سعودی عرب نے حالیہ کوالالمپور سمٹ کے بعد او آئی سی کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ، سعودی وزیر خارجہ پرنسل فیصل بن فرحان السعود نے حالیہ دورے میں وزیراعظم کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا۔ ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ہونے والی سمٹ کے دوران عالمی سطح پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اس سمٹ کو او آئی سی کے متبادل کے طور پر مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا گیا،اگرچہ ملائشیاکے صدر مہاتیر محمد اس بات پر وضاحت دے چکے ہیں کہ ملائشیاکی اتنی حیثیت نہیں ،ملائیشا بہت چھوٹا ہے۔ اس سمٹ کے دوران وزیراعظم عمران خان نے شرکت کا اعلان کیا تاہم بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیراعظم نے دورہ ملائیشیا منسوخ کر دیا۔کانفرنس کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان کی طرف سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے معاشی دباؤ کی وجہ سے ملائیشیا سمٹ میں شرکت نہیں کی۔جس پر پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ ملائیشیا میں ہونے والی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا اقدام مسلم امہ میں اتحاد ویکجہتی کیلئے اٹھایا گیا تھا۔ مسلم ممالک کو تقسیم سے بچانے اور ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے وقت اور کوششوں کی ضرورت تھی، جس کے باعث ملائیشیا میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہیں کی۔ پاکستان مسلم امہ کے اتحاد اور یکجہتی کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا جبکہ درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ترک صدر کے احمقانہ بیان کے بعد سعودی عرب نے کہا تھا کہ پاکستان اور ریاض کے درمیان تعلقات ایسے نہیں جہاں دھمکیوں کی زبان استعمال ہوتی ہے۔سعودی سفارتخانے کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر مجبور کرنے کی خبریں بے بنیاد ہے، پاکستان کو سمٹ میں شرکت سے روکنے کیلئے کسی قسم کی دھمکی دینے کی بھی تردید کرتے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام اور افہام و تفہیم پر مبنی گہرے تذویراتی تعلقات ہیں، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین بیشترعلاقائی، عالمی بالخصوص امت مسلمہ کے معاملات سے متعلق اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔سعودی عرب ہمیشہ دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا اور ساتھ دیا تا کہ پاکستان ایک کامیاب اور مستحکم ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کرسکے۔
او آئی سی کا صدر دفتر سعودی عرب میں ہے اور او آئی سی یقینی طور پر امت مسلمہ کے مفادات کی ضامن ہے،مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز کے دور سے لیکر آج خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور تک، امت مسلمہ کی پریشانیوں کا بغور جائزہ لیتی رہی ہے، اور اسلامی یکجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے اور دراڑوں کو ختم کرنے کے لیے انتھک کاوشیں کرتی رہی ہے، اور ہمیشہ امت مسلمہ کے مسائل کے خاتمے کے لیے عالمی قوانین اور اسلامی سربراہی کانفرنسوں کی قراردودوں اور اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ کی ملاقاتوں کے ذریعہ اسلامی تعاون تنظیم کے سائے میں منصفانہ حلول تلاش کرتی رہی ہے، کیونکہ اسلامی تعاون تنظیم ہی کسی بھی اسلامی کانفرنس کا بنیادی حوالہ ہے، اس کے علاوہ ہمیشہ مشترکہ اور متحدہ اسلامی سوچ کی حمایت کی جو تفرقہ بازی کی سیاست سے دور ہو، تاکہ اسلامی یکجہتی کی طرف گامزن امت مسلمہ کی بہتر انداز میں خدمت کی جاسکے، جس میں مملکت سعودی عرب پیش پیش رہتی ہے تاکہ مشترکہ اسلامی مشن کو تقویت حاصل ہو سکے۔امت مسلمہ کے معاملات کے حل کے لیے، مملکت سعودی عرب ایک واضح اور مضبوط مفہوم اپناتی ہے، جس کی بنیاد اسلامی تعاون تنظیم کے سائے میں اسلامی سربراہی کانفرنسوں اور اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ کی قراردادیں ہیں، جن کا مقصد اسلامی یکجہتی کا فروغ ہے، اس کے علاوہ مملکت اس قرارداد کی مکمل پاسداری کرتی ہے جس پر اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک مکمل طور پر متفق ہوں، لہذا اس سے اسلامی یکجہتی کے بارے میں اور رکن ممالک کے درمیان مشاورتی عمل کو بڑھانے میں اور اجتماعی تزویراتی سوچ پر گامزن رہنے کے لیے مملکت کے ویڑن کی گہرائی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جس کا اصل مقصد امت مسلمہ کے مسائل کا حل ہے، تاکہ امت مسلمہ ترقی کی جانب بڑھے اور موجودہ عالمی سیاسی منظرنامہ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ اسلامی تعاون تنظیم کو سپورٹ کرنے کا اہتمام کیا ہے، تاکہ یہ تنظیم عربی اور اسلامی مسائل کے حل کے لیے بہتر انداز سے اپنا کردار ادا کر سکے۔ سعودی عرب کا، دنیا میں ایک اہم ملک ہونے کے اعتبار اور حیثیت سے، اسلامی یکجہتی کے فروغ کے لیے ایک اہم اور با اثر تزویراتی کردار ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے بعد، اسلامی تعاون تنظیم دنیا کو دوسرا بڑا عالمی ادارہ تصور کیا جاتا ہے، اسی لیے اسلامی تعاون تنظیم ہی رکن ممالک کے درمیان کانفرنس منعقد کا حوالہ ہے۔ کشمیر کے حوالہ سے او آئی سی کا اسلام آباد میں اجلاس کا فیصلہ خوش آئند ہے،اس سے او آئی سی کے غیر فعال ہونے کا تاثر بھی ختم ہو گا اور دیگر ممالک کی جانب سے جو تنقید ہوتی رہتی ہے وہ بھی ختم ہو گی ،او آئی سی کا کشمیر پر یہ پہلا اجلاس نہیں اس سے قبل بھی ہو چکے ہیں لیکن پاکستان میں موجودہ حکومت میں پہلا ہو گا، اس اجلاس کا کریڈٹ یقینی طور پر وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو جاتا ہے جو امت مسلمہ کے دفاعی اور روحانی مرکز کے حکمران ہیں اور انہوں نے ہمیشہ امت کے وسیع تر مفاد میں اہم ترین فیصلے کیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com