اب ہندوستان میں پھر اک پاکستا ن

اب ہندوستان میں پھر اک پاکستا ن
ازقلم :ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی
احادیثِ رسول ﷺ اور تاریخی وثائق کے مطابق سرزمین ہند کا اسلام کے ساتھ کئی وجوہ سے بڑا دیرینہ تعلق ہے۔ روئے زمین میں سب سے پہلے اسی سرزمین پر توحید و رسالت کی آواز گونجی سرزمین مکہ شریف کی طرف عقیدت و احترام سے اسی سرزمین سے سفر کیا گیا۔ویسے بھی ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے رونق افروز ہونے سے جب تمام روئے زمین کو مسجدیت اور طہارت کا شرف ملا تو یہ شرف بھی صرف بابری مسجد والی جگہ کو ہی نہیں ملا بلکہ سرزمین ہند کے ہر ہر چپے کو ملا۔ 1947ء میں پاکستان کی شکل میں اس سرزمین کے تقدس کا ایک روپ ظاہر ہوا جبکہ اس کے تقدس کے کئی مظاہر ابھی باقی ہیں۔قیام پاکستان کے بعد جنونی ہندوؤں نے بھارت کے مسلمانوں سے یہ کہنا شروع کر دیا، کہ مسلمانوں نے پاکستان کی شکل میں اپنا حصہ لے لیا ہے۔اب ہندوستان صرف ہندو مذہب کے لوگوں کا ملک ہے۔ہندوتوا کی اس زہریلی سوچ نے آر ایس ایس جیسی انتہاء پسند تنظیموں کا روپ دھارا۔آر ایس ایس بھارت کی بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم ہے جو راشٹریہ سیوک سنگھ مخفف ہے۔جسے ”اطالوی ڈکٹیڑ مسولینی“ سے متاثر ہو کر بنایا گیا۔آر ایس ایس کومسلم کش فسادات میں چھ سے زائد بارتو سرکاری طور پر ملوث قرار دیا جا چکا ہے اسی تنظیم نے مالبیگاؤ بم دھماکہ، حیدرآباد مکہ مسجد بم دھماکہ، اجمیر شریف بم دھماکہ اور سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ جیسی مسلم کش کاروائیاں کیں۔بڑی مدت کے بعد یہ تنظیم بی جے پی کی شکل میں بھارتی اقتدار تک پہنچ چکی ہے۔جس کی وجہ سے اب ہندوستان اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عریاں ہو کر سامنے آگیا ہے۔مودی حکومت نے کئی ریاستوں اور کئی شہروں کی مسلم شناخت تبدیل کر دی ہے فیض آباد کا نام ایودھیا رکھ دیا گیا ہے الٰہ آباد کو پریا راگ قرار دے دیا گیا ہے مغل سرائے اسٹیشن کو دیال اسٹیشن بنا دیا گیا ہے۔ گاندھی اور نہرو نے دنیا کو دھوکا دینے کیلئے سیکولرازم کی جو چادر اوڑھی ہوئی تھی مودی نے وہ اُتار کر پھینک دی ہے۔اور بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کیلئے سٹیزن امینڈمنٹ بل (سی اے بی)سٹیزن امینڈمنٹ ایکٹ (سی اے اے) آل انڈیا نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس(این آر سی)اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر)کے ذریعے سے 12دسمبر 2019ء کو بھارتی مسلمانوں پرنہایت بہیمانہ حملہ کر دیا۔یہی وہ مودی نے پہلے تو آسام کے 20 لاکھ مسلمانوں کو ان کی شہریت سے محروم کیااور ہزاروں مسلمانوں کو ہراستی کیمپوں میں دھکیلا۔ اب اس نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ پاکستان، بنگلادیش، افغانستان یا کسی اور ملک سے آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدہسٹوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو تو ہندوستان کی شہریت دے گا مگر کسی مسلمان کو ہر گز بھی شہریت نہیں دے گا۔حالانکہ یہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 14کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ آرٹیکل میں درج ہے کہ تمام شہریوں کو رہنے کا حق ہے۔ مساوی حقوق حاصل ہیں اور اقلیتوں سمیت تمام باشندوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔آرٹیکل 15میں تمام باشندوں کو بغیر کسی نسلی امتیاز، رنگ،ذات پات، صنف، جگہ یا مذہب کی بنیادکے بلا تفریق حقوق حاصل ہوں گے۔”مگر این آر سی کے تحت اب بھارت کی ایک سو اسی ملین مسلم آبادی میں سے اکثریت کو شہریت ثابت کرنے کا کہا جا رہا ہے اور اسکی شہریت داؤ پر لگ چکی ہے۔شہریت ثابت کرنے کیلئے پاسپورٹ، ووٹر کارڈ یا نیشنل شناختی کارڈ کوتسلیم ہی نہیں کیا جا رہا۔دادا یا نانا کی جائیداد کے کاغذات جمع کرانا ہونگے جن لوگوں کی جائیداد کے کاغذات جمع کرائے گئے ان کے ساتھ رشتہ بھی ثابت کرنا ہوگا جس گاؤں یا محلہ میں آباؤ اجداد رہتے تھے وہاں سے کاغذات لانا ہونگے۔ایسی کئی مشکلات میں مسلمانوں کو ڈالا جارہا ہے وہ مسلمان کہ جن کی سرزمین ہند سے قطعی وابستگی اور وراثت پر گواہی حضرت خواجہ غریب نواز،حضرت مجدد الف ثانی،اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے اساطینِ ہند کے مزارات دے رہے ہوں اور جنکی شہریت کا اعلان تاج محل، لال قلعہ اور قطب مینار کر رہے ہوں ان سے آج جنم پرچیوں کی تفتیش تاریخ کا ایک بہت بڑا مذاق ہے۔”بھارتی آئین اور مسلمانوں کے حقوق پر مودی کے اس شب خون کے نتیجے میں آج پورا بھارت آزادی کے نعروں سے گونج رہا ہے اور اصحابِ بصیرت کو ہندوستان میں ایک دوسرا پاکستان واضح طور پر نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔مودی نے گزشتہ سال 5اگست کو اچانک واردات کر کے آئین کی دفعات 370اور 35اے میں موجود کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کا انتہائی انتہاء پسندانہ قدم اٹھایا۔ 80لاکھ کشمیریوں کو کرفیو اور لاک ڈاؤن کی اذیتوں میں تاحال محبوس کر رکھا ہے۔ابھی مظلوم کشمیری مسلمانوں کی آہیں دھیمی نہیں ہوئی تھیں کہ مودی نے بھارت کے 20کروڑ سے زائد مسلمانوں پر این آر سی کے ذریعے حملہ کر دیا۔یہ مظلوم کشمیریوں کی آہوں کی آگ تھی یا بابری مسجد کے بارے میں غیر منصفانہ فیصلہ اور 370کے خاتمہ سے دلوں میں ابلنے والا لاوا تھا کہ جس نے پورے بھارت میں سی اے اے اور این آر سی کیخلاف طوفانی احتجاج کاگرم ماحول بنا دیا۔مودی نے کشمیریوں کے جس خون ِ ناحق کو چھپا کر تحریک آزدی کو کچلنا چاہا۔آج وہ سرینگر میں لگنے والے آزادی کے نعرے بھارت کے نگرنگر لگ رہے ہیں۔ تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا۔آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے۔نیو دہلی سمیت بھارت کی تمام ریاستیں مودی حکومت کے خلاف شعلہ خیز احتجاج میں مصروف ہیں بھارت کے مسلمان حکومتی جبر کے سامنے ڈٹ گئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com