نئے برس میں خواب کیا دیکھیں؟

ابھی تو گزشتہ برس کے سارے خواب ہی ادھورے پڑے ہیں
نئے برس میں خواب کیا دیکھیں؟
2020 کا سورج کئی حسرتیں لئے غروب ہوا اور2021 کاسورج نئی اُمیدوں کیساتھ طلوع ہوچکا

محمد اقبال عباسی
2020ء ختم ہو چکا،نئے سال میں ہر شخص آنکھوں میں اپنی مرضی اور خواہشات کے خواب سجائے ایک سہانے اور شاندار مستقبل کا خواہاں ہے۔ جہاں ایک درد مند پاکستانی اپنے معاشی اور معاشرتی حالات کی بہتری کے لئے دعا گو ہے، وہاں اپنے ملک کی سلامتی اور بقا کے لئے بھی اللہ تعالی کے حضورہاتھ پھیلائے ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کی تمنا میں سر بسجود ہے۔ دیکھا جائے تو دنیائے عالم کی تاریخ میں 2020ء سے سخت ترین سال نہیں گزرا۔ ایک طرف تو کئی بڑی بڑی تجارتی کمپنیاں کوویڈ۔19کی تباہ کاریوں کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں دوسری طرف ایسے افراد بھی قریب المرگ ہیں جو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ گزشتہ سال پاکستانی عوام کوویڈ۔19 کی بنا پر ہونے والے لاک ڈاؤن نے تو ادھ موا کر ہی دیا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ حکومت کو خود سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایسے مشکل حالات سے کیسے نمٹا جائے اور اس بات کا بر ملا اظہار ہمارے موجودہ وزیر اعظم عمران خان ایک انٹرویو میں بھی کر چکے ہیں۔ اس بیماری نے اندرون ملک کاروبار کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری برآمدات میں بھی خلل ڈالا ہے۔ امریکہ اور یورپ کی عالمی منڈیاں بند ہونے کی وجہ سے نہ صرف ادائیگی متاثر ہوئی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ذرائع نقل و حمل کی عدم دستیابی کی وجہ سے آرڈرز کی بر وقت فراہمی ممکن نہ ہو سکی۔مارچ 2019ء سے ہنگامی طور پر شروع ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک ِ عزیز پاکستان میں افراط زرا ور مہنگائی کی شرح میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایک بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی اور افراط زر کی شرح 6.74سے بڑھ کر 10.74فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ ادارہ شماریات کے اندازے کے مطابق موجودہ حکومت کے دور مالی سال 20-2019 میں مہنگائی کی اوسط شرح 10.74 فیصد رہی جو مالی سال 18-2017 میں 4.68 فیصد تھی۔
محکمہ شماریات کی سابقہ ماہ کی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ اگست 2018 تا نومبر 2020 کے دوران دال کی قیمتوں میں 50تا 109روپے جبکہ بکرے کا گوشت 203 روپے اور گائے کا گوشت 98 روپے فی کلو مہنگاہوا ہے۔پی ٹی آئی حکومت کے 800 روز میں آٹے کا 20 کلو کا تھیلا بھی مہنگا ہوا، اگست 2018 میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی اوسط قیمت 771 روپے تھی جو بڑھ کر اب 989 روپے ہوگئی۔ادارہ شماریات کی دستاویز کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں تازہ دودھ 20 روپے فی لیٹر، دہی 19 روپے، آلو 40 روپے، پیاز 37 روپے، چاول 15 روپے، لہسن 114 روپے اور مرغی زندہ برائلر 89 روپے فی کلو جبکہ ڈھائی کلو گھی کا ٹن 160 روپے مہنگا ہوا، اسی عرصے کے دوران انڈوں کی قیمتوں میں 72 روپے فی درجن اضافہ ہوا۔یاد رہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے دور میں سب سے زیادہ بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کیا ہے ایک اندازے کے مطابق موجودہ دور حکومت میں بجلی 3 روپے 85 پیسے فی یونٹ اور گیس کی قیمتوں میں 334 فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ قیمتوں میں اضافے کا بجلی اور گیس صارفین پر مجموعی طور پر 550 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ ڈالا گیا۔اگست 2018 سے نومبر 2020 کے دوران ایک ڈالر 36 روپے مہنگا ہوکر 123 سے بڑھ کر 159 روپے کا ہوگیا جبکہ ڈالر کی بلند ترین سطح ایک موقع پر 167 روپے پر بھی پہنچ گئی تھی۔
ملک عزیز پاکستان کی عوام کے اندازِ رہن سہن کا مطالعہ کیا جائے تو 40فیصدپاکستانی خاندان خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ بقیہ 55فیصد وہ سفید پوش طبقہ ہے جن کے پاس ماہانہ بچت کی مد میں کچھ بھی نہیں بچتا اور ان کی گزر بسر کا انحصار صرف ماہانہ آمدنی پر ہے اگر خدانخواستہ کسی مہینے میں ان کی آمدن میں کسی قسم کا ردو بدل ہوتا ہے تو وہ قرضہ لینے پر مجبورہو جاتے ہیں۔ مجھے خود سابقہ سات ماہ میں اپنے بجٹ کو متوازن رکھنے میں جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا وہ بیان سے باہر ہیں لیکن اگر کرونا کی وجہ سے کاروباری بدحال کا یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہر دوسرا خاندان فاقہ کشی کا شکار ہو کر موجودہ حکومت اور اہل اقتدار کو کوستا ہوا نظر آئے گا۔
گزشتہ سال فکرِ معاش نے عوام کو اس دوراہے پر لا کھڑا کیا کہ وہ ملٹی لیول مارکیٹنگ اور آن لائن کمائی کے ذرائع ڈھونڈنے کی بھی کوشش کرتے رہے جس کی فائدہ نوسر باز اور ٹھگ لوگوں نے اٹھایا اور سفید پوش طبقے نے جو اچھے دنوں میں پس انداز کیا ہوا تھا، وہ لے کر چلتے بنے۔افراط زر اور مہنگائی میں اضافے کا براہ راست اثر عوام اور غریب طبقے پر پڑنے کے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی پڑا ہے۔ جب والدین نے دیکھا کہ تعلیمی ادارے مستقل بنیادوں پر بند ہیں تو انہوں نے اپنے وہ بچے سکول اور کالج سے نکال کربہتر روزگار کے حصول کے لئے بٹھا دئیے۔ جس کی وجہ سے آؤٹ آف سکول طلباء کی تعدا د میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ میرے ایک اندازے اور مشاہدے کے مطابق ہر نجی اور حکومتی سکول میں 15سے 20فیصد تک طلباء و طالبات کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی جس کا بنیادی سبب بے روزگاری کی شرح میں اضافے کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی ہے۔کوویڈ۔19نے جہاں ہر طبقہ زندگی کے لوگوں کو متاثر کیا ہے وہاں اس کا سب سے زیادہ نقصان نجی تعلیمی اداروں، پبلشنگ ہاؤسزکے ساتھ ساتھ تعلیمی سے تعلق رکھنے والے تمام کاروبار ی حضرات خاص طور یونیفارم، ٹائی، بیج، جوتے اور سٹیشنری کا سامان بیچنے والے تمام کارخانہ جات ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔ دیکھا جائے تو نقصان صرف تعلیمی اداروں کا نہیں ہوا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان تمام کارخانہ جات اوراس میں کام کرنے والے غریب مزدوروں کا بھی ہوا ہے جن کی بحالی کے لئے موجودہ حکومت نے احساس پروگرام کی مد میں 12000فی خاندان کی ایک قلیل رقم رکھی جو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہی تھی، میرے خیال میں اگر حکومت کسی بھی کاروبار کے سلسلے میں یہی رقم خرچ کر دیتی تو اس بھیک سے وہ بہتر تھا کیونکہ ایک چینی کہاوت ہے کہ غریب کو مچھلی دینے کی بجائے اس کو مچھلی پکڑنے والا کانٹا دیا جائے تا کہ وہ مزید مچھلیاں پکڑکر اس سے کچھ زیادہ کما سکے۔
موجودہ سال تو جیسے تیسے گزر گیا لیکن ہم ایک ایسی قوم کے افراد ہیں جو ہمیشہ اچھے دور کی خواہاں رہے ہیں اور ہر حال میں صبر شکر کرتے ہیں لیکن دیکھا جائے تو جس حساب سے پوری قوم کو کرونا مریضوں کی تعداد اور اموات کے گورکھ دھندے میں الجھا کر رکھا گیا ہے تو مجھے دور دور تک تعلیمی اور کاروباری اداروں کی بحال کا نام و نشان بھی نظر نہیں آرہا۔ بچے تو گھر بیٹھے بیٹھے بوریت کا شکار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ گھر کے بڑے بھی پریشان ہیں کہ خدانخواستہ سابقہ سال کی طرح مارچ میں کرونا کی دوسری لہر شدت اختیار کرتی ہے تو سال 2021ء بھی ہمیں معاشی تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کرے گا اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ابھی ہمیں تیسری لہر کی خطر ناکی سے بھی ڈرایا جا رہا ہے۔میرے مشاہدے کی مطابق سال گزشتہ میں ہمیں خیر کی خبروں کی تو جو کمی رہی ہی رہی لیکن افسر شاہی کی من مانیاں اور وزراء کے محکمہ جات کی تبدیل خوب دیکھنے کو ملی۔ بجائے اس کے نئے پاکستان میں اسلامی روایات کو پنپنے کا موقع دیا جاتا، عوام کو ٹک ٹاک اور لائیکی جیسی ایپس کے ذریعے سستی تفریح مہیا کرنے کا خوب بندوبست کیا گیا اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی بجائے ہم نے اشنان ہی کیا اور نوجوان نسل کو بھی اپنے فارغ وقت میں ایک بہترین تفریح کا موقع فراہم کیا گیا تاکہ وہ حکومتی پالیسیوں پر ایک تنقیدی نظر بھی نہ دوڑا سکیں۔موقع کی مناسبت سے مجھے ارشد ملک کی یہ نظم یاد آ رہی ہے کہ
ًٍؔ آنکھوں کی دہلیز پہ ارشدؔ
نئے برس کے خواب
ابھی تک یونہی پڑے ہیں
نئے برس میں خواب کیا دیکھیں
٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com