سالِ نو 2020 اور ہماری توقعات

سالِ نو 2020 اور ہماری توقعات
پروفیسر تنویر احمد
ہر نیا آنے والا سال اپنے ساتھ بہت سی نئی توقعات لے کر آتا ہے۔ آج سال نو 2020کا آغاز ہے۔ اپنے لئے نئے سال کے اہداف کا تعین کرنا ہمارے لئیے انتہائی ضروری ہے۔ انسانی خواہشات اور توقعات کی کوئی حد نہیں ہے ۔ یہ لامحدود ہ ہیں۔لیکن ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیئے ان کا تعین کر نا انتہائی ضروری ہے۔ انسان کی زندگی میں بہت سے سال آتے اور چلے جاتے ہیں۔لیکن وہ سال کہ جس میں آپ نے اہداف کا تعین کیا ہواور سال کے اختتام پر ان کا پورا ہونا بھی ضروری ہے۔
وقت کی قدر ہمارے ہاں بالکل نہیں کی جاتی ہے۔ ہم سال نو کی مبارکباد بھی سب کو دیتے ہیںاور اس کی خوشیا ں بھی مناتے ہیں ۔ کیک کاٹتے ہیں۔ دوردراز کا سفر کرکے نئے سال کے آغاز پر ہونے والی آتش بازی دیکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا نیا اسلامی سال یکم محرم کو شروع ہوتا ہے۔جبکہ ہمارے تما م کام انگلش کیلنڈر کے مطابق ہی ہوتے ہیں توپھر اس کا استقبال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اصل چیز جس پر ہمیں توجہ دینی چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم نے نئے آنے والے سال میں کیا اہداف مقرر کیئے ہیں؟ ۔ ہم نئے سال میں کون کون سے نئے کا م کرنا چاہیے ہیں ۔ اور پہلے سے جاری شدہ اپنے کون کونسے کاموں کو مکمل کرنا ہے۔ سال ِنو کے آغاز پر جہاں ہم بہت سے دوسرے کا م کرتے ہیں وہیں ہمیں اس آنے والے سال کے حوالے سے اپنے اہداف کو لکھ لینا چاہیے۔ اگرآپ بہت ہی خوبصورت اور عمدہ بلڈنگ بنانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو اس کا نقشہ اپنے ذہن میں محفوظ کرنا پڑتا ہے اور پھر ایک ماہر نقشہ نویس کی مدد سے اس کو آپ کاغذ پر منتقل کرتے ہیں ۔جب تک نقشہ کاغذ پر منتقل نہیں ہو گا آپ کے خواب کو تعبیر نہیں ملے گی۔
بالکل یہی صورتحال ہمارے خواہشات کی ہے۔ ہمارے اندر بے شمار خواہشات ہیں لیکن ہمیں ان کو پورا کرنے لیئے ان کو پہلے ضبطِ تحریر میں لانا پڑے گا اور پھر ان خواہشات کی ترجیحات کا تعین کرنا پڑے گا۔جو خواہش آپ پہلے پوری کرنا چاہتے ہیں اس کو آپ پہلے درج کریں۔ ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے کامیاب ترین لوگ صبح پانچ بجے اٹھتے ہیںاور سورج کو شکست دیتے ہیں۔ نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد صبح کی سیر اور ورزش بھی بہت ضروری ہے۔ ہر صبح اپنے طے شدہ اہداف کو دیکھیں اور کچھ وقت اپنے تصور میں ان کو لائیں اور ان کے حصول کے لیئے تما م ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیں۔اپنے گزشتہ کل کا جائزہ لیں اور نئے آغاز ہونے والے دن میں ان تما م خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں جو آپ نے گزشتہ کل میں کی تھیں۔ اپنی خامیوں کوتلاش کریں اور اپنی کمزوریوں کا تعین کریں۔اپنی حماقتوں پر خود پر ہنسیں۔ اپنے اچھے اقدامات پر خود کی تعریف کریں ۔اگر ممکن ہو تو ہر اچھے کام پر اپنے آپ کو کوئی تحفہ بھی دیں۔اپنے اندر کی تبدیلی ہی اصل میں آپ کی کامیابی ہے۔ جتنا وقت ہم دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے میں اور دوسروں کی بد خویاں کرنے میں گزارتے ہیں اسی وقت میں اگر ہم اپنے آپ کو بہتر کر لیں تو ہمارے لیے کہیں ذیادہ فائدہ مند چیز ہے۔
اللہ سے دُعا ہے کہ نیا آنے والا سال سب کے لیئے خوشیاں لے کر آئے اور سب کی تما م تر خواہشات اور اہداف کو اس سال میں مکمل کرے۔ اللہ آپ سب کے رزق،صحت ،خاندان، دوست احباب،کاروبار، تعلیم،سفر، مال و اسباب، زر، زمین ،خوشیوں میں برکت دے۔ اللہ سے ہمیشہ اچھے وقت کی دُعا کرنی چاہیے۔ اپنی خواہشات کو مقدم رکھنے کی بجائے اللہ کی طرف سے ہونے والے تما م اقدامات کو بغیر کسی عذر کے قبول کرنا ہی اصل شُکر ہے۔ کیونکہ اللہ نہ صرف بہتر کرتا ہے بلکہ بہترین کرتا ہے۔ ہمیں صرف اپنے حصے کا کام کرنا ہے اور باقی سب اللہ پر چھوڑ دینا ہے۔ وہ ایک ایسی ذات بابرکات ہے جو ہمیشہ ہماری بہتری کے لیئے کوشاں رہتی ہے۔ ہم اپنی کامیابیوں پر نہ تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اپنی تما م تر ناکامیوں کا موجب بھی خدا کر قرار دیتے ہیں۔اپنی غلطی کو تسلیم کر لینے والا ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔اور اپنی غلطی سے سبق سیکھنے والا اپنی زندگی میں وہ سب کچھ پا لیتا ہے جس کی وہ خواہش رکھتا ہے۔ بڑی خواہشات کو پورا کرنے کے لیئے ہمیں محنت بھی ذیادہ کرنی پڑتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com