مسئلہ کشمیر کے حل کی نئی راہیں

مسئلہ کشمیر کے حل کی نئی راہیں !
شاہد ندیم احمد
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالی اور جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی سے کرہ ٔارض کے امن کو لاحق خطرات کے تناظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا چھ ماہ کے دوران منعقدہ دوسرا غیر معمولی اجلاس اس حقیقت کا واضح اشارہ ہے کہ سات دہائیوں سے جاری کشمیری عوام کی قربانیاں اپنا اثر دکھا رہی ہیں۔ دنیا ئے عالم لا کھ ذاتی مفادات کے سحرمیں جکڑے جانے کے باوجودکشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آوازبلند کرنے لگی ہے ۔بھارت کی عرصہ دراز سے یہی کوشش رہی ہے کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کی نوبت نہ آنے دی جائے ،اس نے متذکرہ قراردادوں کوغیرمؤثر بنانے اور ان پر عملدرآمد رکوانے کیلئے مختلف ہتھکنڈے اختیار کئے رکھے ہیں۔ بھارت نے پہلے ان قراردادوں سے منحرف ہوکرکشمیر پر بھارتی اٹوٹ انگ کا راگ الاپنا شروع کیا،پھر اپنے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ کشمیر کو باقاعدہ اپنی ریاست کا درجہ دے دیا، مگر ان تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو دبایا نہ جاسکا ،کشمیریوں نے بھارتی فوجوں کے آگے سینہ سپر ہو کرریاستی جبر کو چیلنج کرتے ہوئے جانی و مالی قربانیاں دیکر بھارتی تسلط سے آزادی کا سفر جاری رکھا ہے ،جبکہ پاکستان نے بھی اپنے اصولی موقف کے تحت کشمیریوں کی اخلاقی وسفارتی محاذ پر معاونت برقرار رکھی ہے ۔مقبوضہ کشمیر کے عوام کے جذبہ آزادی کے باعث بھارت کا قرار دیا گیا اٹوٹ انگ کشمیر ہمیشہ اسکے گلے کی پھانس بنا رہا ہے ، کشمیری قوم نے کٹھ پتلی اسمبلی کے ہر انتخاب کا بائیکاٹ کرکے دنیا پر واضح کیا کہ وہ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہرگز نہیں ہے۔کشمیری یقین رکھتے ہیں کہ ان کی بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں بہت جلد بھارت کی مسلط کردہ زنجیروں کو ٹوٹنا ہی ہے ،تاہم زبانِ حال سے یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ ان زنجیروں کی شکستگی کیلئے عالمی برادری کیا کردار ادا کر رہی ہے۔
یہ امر واضح ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو روکنے کے لیے بھارتی سرکار کے مظالم روز بروز برھتے جارہے ہیں ،کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد سے لے کر آج تک مودی سر کارنے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر کے کشمیریوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے،تاہم کشمیری سراپا احتجاج ہیں اور کسی صورت بھی بھارت کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے،کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف و رزیوں پر دنیا بھر کی تمام تنظیموں اور انسانی حقوق کے چمپئن ممالک نے خاموشی اختیار کیے رکھی جو قابل افسوس تھی،مگرکشمیریوں کے جذبہ حریت اور جدوجہد آزادی نے اقوام عالم کو مجبور کردیا کہ وہ بھارتی مظالم کے خلاف اپنا کردار ادا کریں،اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی کشمیر کی صورت حال پر بریفنگ معمول کا حصہ بن چکی ہے۔ چینی مندوب نے ایک بار پھر اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کا کیا ہے، جبکہ روسی مندوب نے بھی دو ٹوک الفاظ میں کشمیر کا مسئلہ حل کرنے پر زور دیا ہے،، تاکہ خطے میں جاری کشیدگی میں کمی واقع ہو،مگر سلامتی کونسل کے دیگر ارکان کا اس اہم مسئلے پر خاموشی اختیار کیے رکھنا باعث تعجب ہے،اس معاملے پر عالم اسلام کی بے حسی بھی کھل کر سامنے آرہی ہے۔بھارت کے اسلامی ممالک کے ساتھ تجارتی وذاتی مفادات کسی سے پو شیدہ نہیں ہیں ،مگر پا کستانی حکومت کو اپنے مفادات کا بھی تحفظ مقدم رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اب جبکہ کشمیر ایشو دوبارہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر آگیا ہے اور چینی مندوب کے بقول کشمیر ایشو ہمیشہ سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل ہے ‘ عالمی واسلامی ممالک کی قیادتوں کو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرات کا
باعث بننے والی بھارتی سازشوں کے تناظر میں نمائندہ عالمی فورم اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کیلئے مؤثر انداز میں متحرک کرنا چاہیے اور بھارت کو مجبور کرنا چاہیے کہ وہ یواین جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کا حق خودارادیت تسلیم کرے اور انہیں استصواب کا حق دیکر انکی منشاء کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ نکالے، اقوام عالم کے دبائو کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل کا یہی مناسب وقت ہے جسے اب کسی صورت ضائع نہیں جانے دینا چاہیے۔
در حقیقت مودی سرکار کو صرف کشمیریوں سے ہی نہیں، بلکہ مسلمانوں سے بھی شدید نفرت ہے، اسی بنا پر اس نے بھارت میں متنازعہ شہریت قانون نافذ کیا، جس کے بعد کوئی بھی مسلمان بھارت میں نہیں رہ سکے گا۔ اس وقت پورے بھارت میں سبھی مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ سراپا احتجاج ہیں،لیکن مودی سرکار ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے ۔ اقوام متحدہ جو دنیا بھر میں جاری تنازعات کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرتی ہے،اسے بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں جاری تشدد کی لہر کے خاتمے کے لئے موثر کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ اس خطے میں مسلمان بھی سکھ اور چین کی زندگی گزار سکیں۔ پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر سفارت کاری کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے، اسے مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے مسلم اور غیر مسلم ممالک میں پارلیمانی وفود بھیج کر مسئلہ کشمیر کے لئے حمایت لینی چاہیے۔ اگر پاکستان نے اس موقع پر کسی قسم کی سستی یا کاہلی سے کام لیا تو یہ نقصان دہ ہو گا۔ وزیر اعظم عمران خان کشمیر کے معاملے پر دو ٹوک موقف رکھتے ہیں،22کروڑ عوام ان کے اس موقف کی تائید بھی کرتے ہیں، انہیں سفارتی محاذ کو مزید گرم کرنا چاہیے،گو کہ پاکستان کو کشمیر کے مسئلے پر بھارت پر سفارتی برتری حاصل ہے اور مسلم امہ کے علاوہ یورپی یونین بھی بڑی حد تک اس کے موقف کی تائید کرتی ہے ،لیکن اس موقع پر ذرا سی سستی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ فوجی مبصرین نے سلامتی کونسل میں کشمیر کے معاملے پر جو بریفنگ دی ہے، اس کی روشنی میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ چین پہلے ہی ہمارے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ روس نے بھی مسئلے کے حل پر زور دیا ہے، ان دونوں ممالک کو ساتھ ملا کر نہ صرف خطے میں پوزیشن مضبوط کی جا سکتی ہے، بلکہ عالمی برادری کو بھی اپنا ہم نوابنانے کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت بھارت اندرونی اور بیرونی دبائو کا سخت شکار ہے ، پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے71برس سے ظلم و ستم کی چکی میں پستے کشمیریوں کو اس ظلم سے نجات دلانے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے۔مقبوضہ کشمیرآزادہونے کے قریب ہے ، مسئلہ کشمیر کے حل کی نئی راہیں نکلتی نظر آرہی ہیں،پا کستان اقوام عالم کو ساتھ ملا کر ایک زور دار دھکے سے مظلوم کشمیریوں کے سامنے کھڑی غلامی کی دیوار گراکر آزادی کی روشنی سے ہمکنار کرسکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com