وقفے کے بعد نیا محاذ

وقفے کے بعد نیا محاذ
تحریر انور علی
کالم کا تھوڑا وقفہ کیا لمبا ہوا کہ بہت سے پرانے دوستوں کے فون آنا شروع ہوگئے جن کے موبائل نمبر تک میرے فون سے غائب ہوچکے تھے وہ بھی فون کرکے خیریت کے ساتھ نہ لکھنے کی وجہ پوچھ رہے تھے ایک طرف خوشی بھی ہورہی تھی کہ بہت سے لوگ اختلاف اور رسپانس دیے بغیر بھی میری تحریر پڑھ رہے ہوتے ہیں دوسری طرف وقت کی تنگی کی وجہ سے اپنی مطالعاتی کمی پہ بھی میں خود کو کوس رہا تھا
چند دن پہلے ایک پرانے دوست سے بات ہو رہی تھی کہ باتوں باتوں میں بات کاروبار بھی چلی گئی بس پھر کیا تھا جیسے میرے اندر کا کاروباری انسان جاگ گیا ہو دوست نے بھی مجھے اس حد تک موٹی ویٹ کیا کہ میں اپنے بزنس آئیڈیے پر کام کرنے پر مجبور ہوگیا دوست کے ساتھ بے تکلفی اس حد تک ہے کہ انہوں نے بھی مجھے سمجھانے کے لیے ندیم افضل چن والا طریقہ اپنایا میں ان کی باتیں سن کے انجوائے بھی کر رہا تھا اور اپنے محسن کے طور پر ان کا شکریہ بھی ادا کر رہا تھا فون بند ہوتے ہی میں نے کچھ چیزیں اپنی نوٹ بک پہ لکھیں اور انہیں قدرت کی طرف سے اشارہ سمجھتے ہوئے ان پر ورکنگ شروع کر دی یہی وجہ کالم میں وقفے کا سبب بنی اب کالم نگاری کے ساتھ ”بزنس نگاری” بھی چلتی رہے گی انشائاللہ
اب آتے ہیں حکومت کی طرف جس پہ اپوزیشن تو ذاتی عناد اور انتقام کا الزام لگا رہی تھی اب سپریم کورٹ نے بھی کرونا ازخود نوٹس کیس میں ملک میں ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ حکمران طبقے کی ذاتی عناد کو قرار دیا ہے سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ صوبوں کے ساتھ ملکر کرونا سے نمٹنے کے لیے یکساں پالیسیاں بنائیں ایک ہفتے کا ٹائم دیتے ہوئے عدالت نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ کوئی عبوری حکم نامہ جاری کر سکتی ہے لیکن اگر حکومت کی ماضی کی پالیسیوں اور کرونا کرائسس کے دوران اٹھائے گئے اقدامات اور دیے گئے بیانات کو دیکھیں تو دور دور تک کہیں حکومت اور اپوزیشن کی ہم آہنگی نظر نہیں آتی وہی گھسی پٹی باتیں فلاں لوٹ کے کھا گئے فلاں چور اور ڈاکو ہیں – انہی فقروں کی گردان نے حکمرانوں کو اس لیول تک پہنچا دیا ہے جہاں سے واپس آنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے کیوں کہ حکمران طبقے کے بقول اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کا مطلب چوروں اور ڈاکوؤں کے ساتھ کمپرومائز کرنا ہے حالانکہ حکومتی وزراء پہ آٹے اور چینی چوری پہ ایف آئی اے کی رپورٹ آ چکی ہے جس پہ ایکشن لیتے ہوئے وزیراعظم نے ان کی وزارتوں کی ”تبدیلی” پہ ہی اکتفا کیا ہے بی آر ٹی پیشاور کیس، مالم جبہ کیس اور بلین ٹری سونامی کیس جیسے میگا سکینڈل حکومتی احتساب کا منہ چڑا رہے ہیں لیکن ان سب کے باوجود وزیراعظم اپوزیشن کے اسکینڈلز پہ ہی واویلا کرتے نظر آتے ہیں اور باقی نعروں کی طرح خود احتسابی کے نعرے کو بھی عملی جامہ پہنانے سے قاصر ہیں – جب ملک میں بحرانی کیفیت ہو تو حکومت اپوزیشن کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کے ساتھ انہیں ساتھ لے کر چلنے کا بھی عزم کرتی ہے لیکن موجودہ حکومت کرونا کے بدترین بحران میں بھی اپوزیشن کے ساتھ سیاسی لڑاء لڑتی نظر آتی ہے اپوزیشن کی سیاسی بیان بازی پر بھی نیب کا بلاوا آ جاتا ہے نیب باربار اپوزیشن کے لوگوں کو طلبی کے نوٹس جاری کر رہا ہے لیکن حکومتی لوگوں پر اس کی خاموشی معنی خیز ہے
اپوزیشن نیب اور کرونا کی وجہ سے پہلے ہی ڈری سہمی بیٹھی ہے جب کہ حکومت ان کے بیانات کی حد تک مخالفت کو بھی برداشت نہیں کر رہی اگر بطور اپوزیشن عمران خان کے ماضی کے کردار اور میڈیا سپورٹ کو دیکھا جائے تو موجودہ اپوزیشن قدرے لاچار اور مظلوم نظر آتی ہے کہاں دھر نے، جلسے، جلوس، لاک ڈاؤن اور سول نافرمانی کی تحریکیں اور کہاں موجودہ اپوزیشن کی ”جیل یاترائیں ” اور احتساب کی عدالتوں میں پیشیاں۔ادارہ جاتی سپورٹ اور اپوزیشن کے قید و بند میں ہونے کے باوجود حکومت پرفارم کرتی نظر نہیں آتی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 40 ارب روپے پر اعتراض کرنے والی حکومت احساس پروگرام کے تحت 200 ارب روپے اپنے ٹائیگرز کے ذریعے تقسیم کرنے جارہی ہے حکومتی پیسوں کا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کا اظہار عمران خان ایک حکومتی تقریب میں یہ کہہ کے کر چکے ہیں کہ حکومتی لوگ اس سے اپنے حلقے مضبوط کر سکتے ہیں ظاہر ہے سیاسی طور پر تقسیم کی گئی اس رقم سے مزید انتشار بڑھے گا جو حکومت کے لیے ایک نئے محاذ کو جنم دے سکتا ہے ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور معیشت کی دگرگوں حالت کو دیکھتے ہوئے حکومت کو سوچنا چاہئے کہ ہم آہنگی کی بجائے محاذآرائی کسی طور پر بھی ملک کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکتی اور اگر محاذآرائی انتشار کی شکل اختیار کر گئی تو خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو سکتا ہے حالات اور وقت کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سر جوڑ کے بیٹھیں اور ملک کے لیے یکساں پالیسیاں ترتیب دیں جس کے لئے پہل حکومت کو کرنا ہو گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com