ضرورت

اے آر طارق
ضرورت
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوام کے اندر خوشگوار تبدیلیاںلانے کے دعوے کے ساتھ ساتھ’’ تبدیلی آئی ری کے ‘‘نعرے کے ساتھ جب سے اقتدار میں آئی ہے تب سے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ مہنگائی ،بے روزگاری نے غریب عوام کی زندگی اجیرن کیے اُس کی کمر توڑے اُسے برے حال تک پہنچادیاہے۔اشیائے خورونوش کی آئے روز بڑھتی قیمتوں نے مفلوک الحال رعایا کو حال وبے حال کیے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ستم ظریفی کی بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے سے قبل جو عوام اچھے سے اور بہتر زندگی گزارے اپنے کام کاج میں مصروف دکھائی دیتی تھی اب سب کام سے گئی بے کار ہوئے گھر میں آلتی پالتی مارے حکومت پاکستان کا نوٹ کیساہوتا،کماناتو دور کی بات دیکھنے سے بھی گئی۔ حالات کی ستم ظریفیوں کا شکار ہوئے کرپٹ و نکمے ٹولے سے بچے ،ایماندار اور مہذب افراد کے درمیان گھری ہوئی وزیراعظم عمران خان کے ’’گھبرانا نہیں‘‘کابھاشن خوبصورت سروں کی موسیقی میں سُنے جنہیں شاہ محمود قریشی ،جہانگیرترین،شیخ رشید،فوادچوہدری،فردوس عاشق اعوان فیاض چوہان بجارہے، سے فیض یاب ہوئے اب کے بچھڑے شایدپھر خوابوں میں ملے جیسے معاملے کا شکار نظر آتے ہیں۔عمران خان کے اِس فرمان ’’سکون قبر میں ہے ‘‘کے بعد تو بالکل ہی ساکت ااور مردہ ہوئے پڑے حکمرانوں کے ارشادات اور سنہری قول سے استفادہ کرتے پاکستان کی مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں مرن حالت میں اپنے مرنے کی جاہ تلاش کررہے ہیں اور موت ہے کہ وہ بھی آتے ہوئے سر ہجوم تماشا سا بنادیتی ہے۔آتی بھی ہے تواپنا بہت کچھ بہاکر لے جاتی ہے اور بہت سوں کو رُلا ،تڑپا ،بہت کچھ سکھا اور سمجھا دیتی ہے۔پاکستان کا موجودہ معاشی نظام کتنا مستحکم اور عنان ِ اقتدار پر بیٹھے افراد کو غریب کی کتنی فکر۔فقط اِک نادار شخص کی موت کی صورت میں سب پر عیاں ہوجاتی ہے اور سارے حکومتی گڈ گورننس کے بخیے ادھیڑے اب تک کی ساری خوشنما مگر پرفریب کامیابیوں کے سارے پردے بیچ چوراہے کھول کے رکھ دیتی ہے۔آج ایک آفیسر سے لے کر چپڑاسی تک ،ایک فیکٹری ورکرز سے لے کر دیہاڑی دار تک ہر شخص پریشان حال زندگی گزار رہاہے۔ اسے ملک عزیز میں لنگر خانوں،راشن کارڈوںجیسے ڈھونگ پروگراموں سے کوئی غرض نہیں ہے۔وہ گھر کی دہلیزپر دووقت کی روٹی مل جائے کا ہی خواہشمند ہے۔ وہ انصاف کارڈ جیسے فریبی ڈراموں کا ہرگز متحمل نہیں ہے اسے اپنے شہر کی سطح پر موجود ہسپتالوں میںاعلیٰ معیار کی سہولتیں چاہیئے۔اسے اٹھارویں ترمیم سے غرض ہے اور نا آرمی ایکٹ میں دلچسپی۔اسے صرف اور صرف گھر کی دہلیزکی سطح پر موجود سہولتیں،راحتیں اور دو وقت کی روٹی چاہیئے۔اسے حکومتی جھوٹے وعدوں،یوٹرن پر مبنی بیانات ،سہانے سپنوں اور رٹی رٹائی تقریروں اور عوام کا دل لبھانے والی باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ اُن کے مسائل کا حل ہو۔حکومت خلق خدا کی فریاد اور مسائل سنے۔اُن کی حقیقی داد رسی کرے۔اپنے وعدوں اور باتوں سے آگے بڑھ کر عوام کے لیے حقیقی اور عملی اقدامات اٹھائے۔یوٹیلٹی سٹوروں پر پیسہ خرچ کرنے اور انہیں سبسٹڈیاںدینے سے غربت ختم نہیں ہو گی۔یہ یوٹیلٹی سٹور قطعی طور پر غریب کے لیے نہیں ہیں۔غریب تو دس بیس روپے کی چیزیں لینے کے لیے بیچارگی کی تصویر بنے دکانوں پر کھڑا ہے۔یہ تو امیروں کی خریداری کے مراکز ہیں۔غریب کے نام پر ایک سفید جھوٹ اور مراعات یافتہ طبقے کو ہمیشہ کی طرح نوازنے والی باتیں ہیں۔اگرکرنا ہے تو ایک عام دکان پر اشیائے خوردونوش کے ریٹ عام غریب کی پہنچ تک آسان بنائیں۔ یہ نیا ہائوسنگ اسکیم پروگرام ،صحت کارڈ ،راشن کارڈ،بینظیر کارڈ ،یوٹیلٹی سٹور پیکج جیسے چونچلے غریب کے کسی کام کی چیزیں نہیں ہیںہاں دل کے بہلانے کے لیے غالب خیال اچھا ہے۔یہ سب ماضی کے حکمرانوں کی طرف سے پچھلے ادوارمیں بھولی بھالی گائے جیسی عوام کو دکھائے جانے والے جھوٹے سپنے تھے جو موجودہ حکومت نے بھی اب نام بدل کر شروع کردئیے ہیں۔یہ سب سلسلے امیر کے لیے ہی ہے ۔ غریب کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔سب سے بڑھ کر ایک فریب جس کے جھانسے میں بدقسمتی سے سب آگئے اور آرہے ہیں۔یہ حکومتی سطح پر قائم لنگر خانے کسی کام کے نہیں ہیں۔اگر مخلص ہی ہوتو روٹی سستی کیوں نہیں کرتے۔کیوں پورے ملک میں آٹے کا کال پڑا ہواہے۔کیوں نہیں مل رہا۔ہر چیز پہنچ سے باہر کیوں ہوتی جارہی ہے۔آخر کب تک ہم غریب کے نام کو سرمحفل ،سربازار ریلیف کے نام پر بیچتے رہے گے اور یہ کہ وہ وقت کب آئے کا جب غریب کوبھی حقیقی ریلیف ہرجگہ بغیر مہربانی ،احسان ملے گا۔ آخر وہ وقت کب آئے گا جب ہرطرف سکھ چین ،ہریالی ہی ہریالی ہوگی۔ہر شخص خوش اور کام میں جُتاہوگا۔وعدوں سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے۔ ریاست مدینہ کے لیے عمران نہیں عمررضی اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com