نیب شکار کرتے کرتے خود شکار ہو گیا۔۔

نیب شکار کرتے کرتے خود شکار ہو گیا۔۔!
عرفان مصطفی صحرائی
حکومت نے نیب آرڈیننس میں تبدیلی کرنے میں ایسی پھرتی دکھائی کہ نہ اپنے نعرے یاد رکھے،نہ ہی دعوے۔یہ نوجوان نسل کی زاہد،اعلیٰ ،معظم و مکرم قیادت،جس پر سب کو بڑا مان تھا۔انہوں نے عوام کی ڈیڑھ برس میں آرزوئیں خون میں بہا دی۔خلق خدا راشن کی محتاج ہو کر رہ گئی ہے۔ہر شخص غم میں ڈوبا ہے۔اب تو اس قیادت سے بو اور گھن آنے لگی ہے،لیکن عمران خان کی قلابازی نے نیب کی عقل ٹھکانے لگا دی ہے۔جو بڑی اونچی اڑان اڑ رہے تھے۔ایسی ٹانگ کھینچی گئی کہ منہ کے بل گرے ہیں۔اب چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی کرپشن پر بلند و بانگ بیانات اور تقاریریں کیسے ہوں گی؛آرڈینس نے نیب کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔چیئرمین نیب مگرمچھوں کا شکار کرتے کرتے خود شکار ہو چکے ہیں۔اسی لئے کہتے ہیں کہ بڑے بول نہیں بولنا چاہیے۔تکبر کا نتیجہ رسوائی ہوتا ہے۔
اقتدار جائے عبرت ہے۔دنیا کی تاریخ بڑے بڑے سورمائوں،شکتی مان دیوتائوں،بے ہودہ بڑبولے بگڑے ہوئے بہراموں،گھمنڈی حکمرانوں سے بھری پڑی ہے،جو خود کیڑوں کی خوراک بن گئے اوران کی ریاستیں غیروں کے قبضے میں آگئیں۔ہر نیا آنے والا حکمران اپنے آپ کو افضل سمجھتا ہے،سچا اور پاکیزہ بتاتا ہے۔عوام کا سب سے بڑا خیر خواہ اور ملک کا سب سے بڑا وفادار بنتا ہے،مگر جب موقع ملتا ہے تو عمل سے سابقہ حکمرانوں سے کہیں زیادہ جھوٹا ،فراڈ،وعدہ خلاف اور مفاد پرست نکلتا ہے۔اقتدار کے نشے میں دھت اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں،جہاں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔کیوں کہ وہ ماضی سے کچھ نہیں سیکھتے۔
عمران خان اقتدار سنبھالتے بڑھکیں نہ مارتے۔اگر اللہ تعالیٰ نے عزت سے نواز ہی دیا تھا تو تحمل اور بردباری سے کام لیتے ہوئے ملک کی اندرونی اور بیرونی معاملات کو مل جل کر درست کرنے کی طرف توجہ دیتے ۔ہر کام کی جامعہ سربراہی کی جاتی۔تو آج ملک اس حال میں نہ ہوتا۔جہاں معیشت برباد ہو چکی ہے،سیاست ختم ہو چکی،کاروبارکا پہیہ جام ہوگیا،ٹیکس وصولی میں کھربوں روپے کی کمی ہوگئی ہو۔حکومت کے احمقانہ فیصلوں کی تعداد گنی نہ جائے۔وہاں ملک چلتا نہیں بلکہ برباد ہو جاتا ہے اور ملک کو حکمرانوں کی نا اہلی اور غلط فیصلوں نے برباد کر دیا ہے ۔اس ملکی نقصان کا ذمہ دار کون ہو گا؟گھٹیا دعوئوں اور نعروں کا تاوان کون ادا کرے گا؟
سمجھ سے بالا تر ہے کہ عمران خان کے کون سے ایسے مشیر ہیں، جو ایسے احمق ہیں،جنہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے فیصلوں سے حکومت کو رسوائی سے دوچار ہونا پڑے گا۔ایسا بار بار ہو رہا ہے،لیکن عمران خان کا اپنا دماغ بھی ہے۔۔!اگر اتنے بڑے ملک اور اسلامی دنیا کی قیادت کا دعویٰ کرنے والے شخص کی فیصلہ سازی کا یہ معیار ہے تو خدا خیر کرے۔
ادھر سے حکومت نے نیب ترمیمی آرڈیننس 2019ء لائے ،ادھر آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔یہ حکومت کے لئے بہت بڑی شرمندگی کا باعث بننے والا فیصلہ ہے ۔جو کرپشن اور احتساب کے نعرے گلے پھاڑ پھاڑ کر لگاتے لگاتے اقتدار تک پہنچے ہیں۔’’میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘‘۔’’این ار او نہیں ملے گا‘‘۔کہاں گیا جنون۔کیوں کہ زمینی حقائق کو سمجھے اور سوچے بغیر بولنے سے نتیجہ ایسا ہی نکلتا ہے۔چوری ایک پیسے کی ہو یا اربوں،کھربوں کی ۔چوری چوری ہے۔صرف فرق اتنا ہوتا ہے،جس کا جہاں ہاتھ پڑتا ہے وہ کرپشن کرتا ہے ۔احتساب عمل اور سوچ کا ہوتا ہے۔آئین پاکستان کے تحت تمام شہری یکساں ہیں،ترمیمی آرڈیننس غیر آئینی و بنیادی حقوق سے منافی ہے ۔مذکورہ آرڈیننس کی کابینہ سے منظوری بھی غیر اصولی اور مشکوک ہے ۔آرڈیننس کی منظوری کے بعد نیب اور چیئرمین ادارہ نیب آزاد و خودمختار نہیں رہے گا۔حکومت نے من پسند لوگوں کو مقدمات سے بچانے کے لئے من گھڑت کہانی گھڑی ہے کہ نیب صنعت کاروں اور تاجروں کو دھمکا رہا ہے۔اس سے معیشت پر برا اثر پڑ رہا ہے۔اس سے حکومت کی نا اہلی اور غلط فیصلہ سازی چھپ نہیں سکتی۔اس آرڈیننس سے یکساں احتساب متاثر ہو گا۔نیب سے مشتبہ ملزم کو گرفتار کرنے کے خصوصی اختیار واپس لے لیا گیا ہے۔تحقیقات سے متعلق اختیارات میں نئی طریقے متعارف کروائے گئے ہیں،جس سے امتیازی سلوک ہو گا۔
حکومت نے جب اپنے تمام مخالفین سے انتقامی کارروائیاں کر لی ہیں ۔انہیں اپنی مرضی کے مطابق جیلوں اور صحبتوں سے گزار کر دلی سکون حاصل کر لیا ہے۔اب اپنی کرپشن کی داستانیں کھلنے کا وقت قریب دیکھ کر نیب کے قوانین تبدیل کرنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں ۔یعنی اس آرڈینس کے تحت نیب 50کروڑ روپے سے کم کرپشن کے خلاف کارروائی نہیں کر سکے گی ۔اگر کوئی پچاس کروڑ تک کرپشن کر رہا ہے تو اسے کھلی چھٹی ہے۔لیکن سیاسی مخالفین پر الزام کی بنیاد پر کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں گی۔کیا یہی عمران خان کی ریاستِ مدینہ کا احتساب ہے؟ایسی قیادت کے احتساب کا معیار اس سے بہتر ہو ہی نہیں سکتا۔یہی وہ قیادت ہے؛ جس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جیسے عوام کے اعمال ہوں گے ،ان پر ویسا ہی حکمران مثلت کیا جائے گا۔ہمیں من حیث القوم سوچنا ہو گا کہ ہم کتنے بد اعمال ہو چکے ہیں کہ ایسی قیادت ملک پر مثلت ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com