نیکی کا کھیل کھیلیں

محمد شہزاد اسلم راجہ
صاحبو ایک قول ہے کہ جس چیز کی تمہیں طلب ہو وہ چیز بانٹنا شروع کر دو، زندگی میں سکون چاہیئے تو سکون بانٹنا شروع کر دیں، سکون ہی سکون ملے گا۔ پیار چاہیئے تو پیار بانٹنا شروع کر دیں، پیار ہی پیار ملے گا۔خلوص چاہیئے تو دوسروں کے ساتھ خلوص دل سے پیش آئیں،ہر بندہ آپ کو پُر خلوص ملے گا۔ہمارے ایک رائٹر دوست طاہر درانی کہتے ہیں کہ دوسروں کو کچھ دینا سیکھیں چاہے کسی کو راستہ ہی کیوں نہ دینا پڑے، کچھ دینا سیکھیں چاہے ایک مسکراہٹ ہی کیوں نہ دینا پڑے۔کسی کو تکلیف پہچانے ہمیں کبھی آرام سکون چین نہیں مل سکتا۔ کسی کو دی ہوئی تکلیف اور دھوکہ لازمی گھوم کر واپس آتا ہے اور دینے والے کو وہ تکلیف یا دھوکہ آن ملتا ہے۔
صاحبو!۔۔۔جب ہم اللہ کی مخلوق کے ساتھ، رب کریم کے کسی بندے کے ساتھ بلا تفریق کوئی نیکی کا کام کریں تو اس کا اجر اللہ ہمیں دلی سکون، سچی خوشی اور بہترین راحت کی صورت عطا کرتا ہے۔کسی گاؤں کے کھیتوں کے بیچو بیچ پگڈنڈی پر جوتے پڑے ہوئے تھے جو کہ اپنی حالت سے معلوم ہوتے تھے کہ کسی بوڑھے شخص کے ہوں گے اور وہ بوڑحا شخص کھیتوں میں کام میں مصروف ہو گا جس نے اپنے جوتے یہاں پگڈنڈی کے ایک طرف رکھے ہوئے تھے۔اسی راستے سے ایک نیک بزرگ کا اپنے مرید کے ساتھ گزر ہوا۔وہاں ایک طرف پڑے جوتوں کو دیکھ کر مرید اپنے بزرگ سے کہنے لگا”یا شیخ اگر میں یہ جوتے یہاں سے اٹھا کر چھپا دو ں اور ہم یہاں چھپ کر بیٹھ جائیں، جب وہ شخص جس کے یہ جوتے ہیں آئے گا تو ہم اس کا اس کی پریشانی کے عالم میں تماشہ دیکھیں گے اور اپنے دل کو لبھائیں گے۔سرور حاصل کریں گے اور مسرت و سکون ملے گا“۔ وہ نیک بزرگ اپنے مرید کی بات سن کر بولے ”اے میرے پیارے۔۔۔اپنی خوشی کے لئے، اپنے مزے کے لئے اپنے دل کی راحت کے سامان کے لئے کسی دوسرے اللہ کے بندے کو تکلیف نہیں دینی چاہیئے۔اپنے دل کی مسرت اور راحت کے سامان کے لئے ایسا کام کرو جس سے اللہ کے بندوں کو خوشی ملے، راحت ملے، دوسرے کے لئے مسرت کا باعث بنے، سچی خوشی بھی ملے اور رب بھی ہم سے راضی ہو “ اپنے شیخ کی بات سن کر مرید کہنے لگا اس وقت میں ایسا کیا کروں جس سے میرے دل کی راحت ہو، مجھے سچی خوشی ملے اور اس جوتے کے مالک کو بھی خوشی ملے، راحت ملے اور مسرت کا باعث بنے۔تو اس بزرگ نے اپنے مرید سے کہا اپنے پاس موجود کچھ سکے ان دونوں جوتوں کے اندر ڈال دو۔ مرید نے ایسا ہی کیا۔اس کے بعد وہ بزرگ اور ان کا مرید وہاں نزدیک چھپ کو بیٹھ گئے یہ دیکھنے کے لئے کہ جب اس جوتی کا مالک وہاں آئے گا، اس کو جب یہ سکے ملیں گے تو اس کی کیا حالت ہو گی۔ وہ کس طرح خوش ہوگا، اس کو کس طرح راحت ملے گی، وہ کیسے سکون حاصل کرے گا تو اللہ پاک بھی ہم سے راضی ہو گا اور ہماری نیکیوں میں اضافہ بھی ہو گا۔ اس جوتے کا مالک اپنے کام سے فارغ ہو کر وہاں آیا جو کہ ایک بوڑھا شخص تھا۔ کام کی تھکن اس کی چال سے ظاہر ہو رہی تھی جبکہ چہرہ کسی پریشانی میں ڈوبا ہوا تھا۔وہاں پہنچ کر اس بوڑھے شخص نے جونہی اپنا دایاں پاؤ ں جوتے میں ڈالا تو اس کے پاؤں کو جوتے میں موجود سکے چبھے تو اس نے بڑ بڑاتے ہوئے پاؤں جوتے سے نکالا اور جوتا اٹھا کر دیکھا تو جوتے کے اندر سکے پا کر اس کی خوشی دیدنی تھی۔جلدی ہی اس نے دوسرا جوتا اٹھا یا تو اس میں سے بھی اس کو سکے ملے تو وہ بہت خوش ہوا۔اس کی تھکن دور ہو چکی تھی، اس کے چہرے پر موجود جو پریشانی ظاہر تھی وہ ختم ہو گئی۔اس بوڑھے شخص نے دونوں ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے اور منہ آسمان کی طرف کر کے کہنے لگا۔ ’’واہ میرے مولا۔۔۔تودلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ تجھے پتہ تھا کہ میں اس کم مزدوری میں آج گھر بچوں کے لئے ان کی فرمائش پر گوشت اور اپنی بیوی کی بیماری کی دوا لے کر گھر نہیں جا سکتا تھا۔۔۔ تو میرا رب سب جانتا ہے اور ہر مشکل حل کرتا ہے۔ اب میں ان حاصل ہونے والے سکوں سے اپنے بچوں کے لئے عمدہ گوشت اور اپنی بیمار بیوی کے لئے دوائی لے کر جاؤں جا وں گا“۔ وہ بزرگ اور ان کا مرید چھپ کر اس بوڑھے شخص کی اس عاجزی والی خوشی کی حالت کو دیکھ رہے تھے۔ ان بزرگ اور ان کے مرید کو دل کی سچی خوشی اوردلی اطمینان حاصل ہو چکا تھا، وہ اپنے اس نیکی کے کھیل سے اپنا دل لبھا چکے تھے،سرور حاصل کر رہے تھے،مسرت اور سکون ان کو مل چکا تھا۔
تو صاحبو آؤ آج مل کر ہم اپنی زندگی میں اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی کرنے مقصد بنائیں، اللہ کی مخلوق کے ساتھ نیکی کا کھیل کھیلیں۔ پھر ہم جب اللہ کے بندوں کومسرت دیں گے، ہمیں دلی مسرت حاصل ہو گی، راحت دیں دے تو ہمیں سکون قلب و دنیا حاصل ہو گا، خوشیاں دیں گے تو ہم پر خوشیوں کی چھم چھم برسات ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com