نیب ترمیمی آرڈی ننس سے ہواکارُخ تبدیل

نیب ترمیمی آرڈی ننس سے ہواکارُخ تبدیل
شاہد ندیم احمد
پاکستان کو قائم ہوئے بہتر برس ہو چکے ہیں، اس عرصے میں کئی حکومتوں نے کاروباری لین دین کو دستاویزی بنانے کی کوشش کی،مگرہر بار تاجر برادری نے اس عمل کی مزاحمت کرتے ہوئے ہڑتال اور شٹر ڈائون کا راستہ اپناکر حکومت کو بلیک میل کیا ہے۔ تاجر برادری ہر حکومت سے تمام کاروبار ی تحفظ کے نام پر سہولیات کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر حکومت جب انہیں سہولیات فراہم کرنے کے لئے ٹیکس ادا کرنے کا کہتی ہے یا دستاویز ات کی بات کرتی ہے تو ان کا رواردعمل عجیب و غریب صورت اختیار کر لیتاہے۔ پاکستان میں بہت سے کاروباری افراد سیاست دانوں کے فرنٹ مین ،کاروباری شراکت دار یا پھر آلہ کار بنے ہوئے ہیں،اسی وجہ سے لوگ اپنی حامی جماعتوں کی حکومت میں ناواجب مراعات پاتے ہیں۔تحریک انصاف حکومت تبدیلی کے منشور کے ساتھ اقتدار میں آئی ،مگراس تبدیلی کے مرحلے میں بار بار مافیا مزاحمت کرتا نظرآتا ہے ،ملک میں نیب کرپٹ مافیا کے خلاف متحرک ہے ،مگر جس کے خلاف کاروائی ہو تی ہے ،وہ جواب دہی کی بجائے سراپہ احتجاج مظلوم بننے میں کوشاں ہے۔بزنس کمیونٹی کی طرف سے بھی باربار نیب کی گرفت کا مسئلہ سامنے آرہا تھا،حکومت نے آرڈی ننس کے ذریعے بزنس کمیونٹی کو نیب سے الگ کر دیا ہے۔حکومت نے تاجروں اور بیورو کریٹس کو نیب کے دائرہ کار سے الگ کر کے اپنے اصولوں پر بہت بڑا سمجھوتہ کیا ہے۔ نیب ترمیمی آرڈی ننس کے مطابق نیب 50کروڑ روپے سے زاید کی بدعنوانی پر کآتارروائی کر سکے گا، آرڈی ننس میںسرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کو کافی محدود کر دیا گیا ہے۔ اس نیب کے ترمیمی آرڈی ننس سے جہاں کاروباری اور بیوروکریسی کو اعتماد دینے کی کوشش کی جارہی ہے ،وہاں یہ تاثربھی اُبھرتا ہے کہ نیب بہتر کارکردگی کی تمام تر خواہش کے باوجود اپنے کام پر مرتکز نہیں ہو پا رہاتھا۔ نیب کا ترمیمی آرڈی ننس ظاہر کرتا ہے کہ عمران خان طاقتوروں کے احتساب کی جو بات برسوں تک کرتے رہے ہیں، وہ کسی وجہ سے کمزور پڑ رہی ہے،ایسا لگتا ہے کہ نیب کے ترمیمی آرڈی ننس کا مقصد حکومتی جماعت کے بعض افراد کو بچانا ہے۔
تحریک انصاف حکومت کرپشن فری سوسائٹی کی تشکیل کے منشور اور ایجنڈے کی بنیاد پر عوام کا مینڈیٹ حاصل کرکے اقتدار میں آئی ہے، اس لئے بے لاگ اور شفاف احتساب کیلئے پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ قوم کی زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔ اس کیلئے وزیراعظم عمران خان خود کسی چور ڈاکو کو نہ چھوڑنے کے اعلانات کرکے احتساب کے عمل پر قوم کا اعتماد پختہ کرتے رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے اب تک بے لاگ احتساب کے معاملہ میں نیب عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا جس کے شکنجے کا رخ زیادہ اپوزیشن جماعتوں کے لوگوں کیخلاف کارروائیوں کی جانب ہی رہا ہے ۔بے شک حکمران پی ٹی آئی کے کچھ لوگ بھی نیب کے شکنجے میں آئے جن میں سے جہانگیر ترین نااہلیت کے سزا یافتہ بھی ہوئے ،تاہم خیبر پی کے اور پنجاب میں حکمران پی ٹی آئی کے کئی ارکان کیخلاف نیب کی فائلیں بند بھی ہوئیں جس سے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کے ان ریمارکس پر حرف آیا کہ نیب چہرہ نہیں،کیس دیکھتا ہے۔ انہوں نے مختلف مواقع پر یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیب کی کارروائیوں کے حوالے سے اب ہوا کا رخ تبدیل ہورہا ہے، تاہم یہ حقیقت بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب وفاقی بجٹ کے بعد تاجر طبقات نے بعض ٹیکسوں پر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا اور نیب کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تو چیئرمین نیب ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرنے پر مجبور نظر آئے کہ نیب آئندہ تاجروں کے کسی معاملہ کی انکوائری نہیںکریگا۔ یہ اعلان بے لاگ احتساب کی نفی کے مترادف تھا جس کے بعد انکے ہوا کا رخ تبدیل ہونے کے اعلان کی بادی النظر میں کوئی وقعت نہیں رہی تھی۔ حکومت نے اب نیب ترمیمی آرڈی ننس جاری کرکے نیب کے پر مزید کاٹ دیئے ہیں اور بزنس کمیونٹی کے علاوہ بیوروکریسی کو بھی عملاً نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیا ہے ، اس صورتحال میں کرپشن فری سوسائٹی کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔
بلاشبہ کاروباری افراد کو تحفظ کے لیے نیب اختیارات کا محدود ہونا سیاسی پیش رفت ہے، اس سے ماحول میں تناؤ، خوف، بے یقینی اور ابہام کا خاتمہ ہوگا، معیشت پر لاحق خطرات کے سدباب میں مزید کامیابیوں کے امکانات پیدا ہوںگے، لیکن اس کے لیے حکومت کو شفاف احتساب اور کرپشن کے خلاف اپنے اہداف اور حکمت عملی میں بزنس کمیونٹی کے لیے فرینڈلی اپرروچ کی بالادستی کو برقرار رکھنا چاہیے۔اپوزیشن پہلے نیب قوانین پر اعتراض کرتی رہی ،اب ترمیم پر تنقید کررہی ہے ،جبکہ انہیں نیب قوانین کو بہتربنانے میں معاونت کرنے کی ضرورت ہے ۔نیب قوانین میں بہتری پر کسی کواعتراض نہیں ،مگروزیر اعظم کا اپنے دوست کارباری لوگوں کو نیب سے بچنے کی مبارک باد دینا ناقابل فہم ہے،اسے بیا نات سے اپنے ہم خیال کرپٹ مافیا کو بچانے کے تاثرکو تقویت ملتی ہے۔ حکومت نیب قوانین کے ترمیمی آرڈی ننس کی بجائے پارلیمان میں بحث کے ذریعے تبدیلی لاتی تو زیادہ بہتر تھا،احتساب کے اقدامات میں ترمیمی نیب آرڈی ننس میں شامل ا یسی شق کو احتساب کے ساتھ مذاق سے ہی تعبیر کیا جائیگا کہ سرکاری ملازمین کیخلاف پچاس کروڑ روپے سے کی کرپشن پر کارروائی ہوسکے گی۔ کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ پچاس کروڑ روپے تک کی کرپشن اب کرپشن کے کھاتے میں شامل نہیں ہوگی، جبکہ کرپشن تو کرپشن ہی ہوتی ہے،چاہے ایک روپے یا ارب روپے کی ہو ۔ حکومت کی اس پالیسی سے یقیناً اسکے کرپشن فری سوسائٹی کے ایجنڈے پر ہی زد پڑیگی ،جبکہ نیب کے شکنجے میں اب صرف سیاست دان ہی آئینگے اور ان میں بھی اپوزیشن جماعتوں کے عہدیداران اور ارکان شامل ہونگے تو آزاد و خودمختار نیب کا تصور بھی بے معنی ہوکر رہ جائیگا،حکومت نیب ترمیمی آرڈی ننس سے ہواکارُخ تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے، اس سے بے لاگ احتساب کیلئے عوام کی توقعات پوری نہیںہو پائیں گی،مگر شائد حکومت عوامی توقعات کی فکر سے مبرا ہو چکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com