نیب ترمیمی آرڈیننس۔ حکومت کا بڑا سرنڈر

نیب ترمیمی آرڈیننس۔ حکومت کا بڑا سرنڈر
عمران امین
کہتے ہیں کہ ایک فقیہہ کی بیٹی بد صورت تھی ۔جہیز اُور دولت کے باوجودکوئی بھی اُس سے شادی کے لیے تیار نہیں تھا۔فقیہہ نے مجبور اًاپنی بیٹی کی شادی ایک اندھے سے کر دی۔دونوں میاں بیوی ہنسی خوشی رہنے لگے۔اتفاق سے ایک ماہر طبیب اُن کے علاقے میں آگیا جو ماہر امراض چشم تھا۔لوگوں نے فقیہہ سے کہا کہ وہ حکیم سے اپنے داماد کی آنکھوں کا علاج کیوں نہیں کرواتا۔اس پر وہ بولا کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ ٹھیک ہو کر کہیں میری بیٹی کو طلاق نہ دے ۔’’لہذا بد صورت عورت کا شوہر، اندھا ہی مناسب ہے‘‘۔اس بد صورت ملک میں چند سال پہلے جب دو جماعتی غیر تحریر شدہ حکمرانی معاہدہ تھا اُور تیسری جماعت کی کوئی گنجائش نہ تھی تو اُس وقت مُلک وقوم کی تقدیر کے فیصلے حکمران اپنی سیاسی مجبوریوں اُور وقتی مشکلات کے حل کی بنیاد پر کرتے تھے۔جب اٹھارہویں ترمیم کا معاملہ چل رہا تھا اُور مُلکی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل عبور ہونے جا رہا تھا، تواُس موقع پر جنرل ضیاء کے بد ترین آمریت کے دُور اُور بعد کے ادوارمیں بے شمار زیادتیوں کا شکار ہونے والی پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ نون کے سربراہ کو پیغام دیا کہ چونکہ دونوں جماعتیں مختلف موقعوں پر قومی احتساب بیورو(نیب) کے کالے قانون سے مسلسل ڈسے جاتے رہے ہیں لہذا آج اس کیوں نہ اس ادارے کی تشکیل نو ء کی جائے ۔تاکہ سیاست دانوں کو اس ادارے کے عذاب سے مستقل بچایا جا سکے۔اُس وقت چونکہ میاں نواز شریف اُور اُن کے ساتھی حکمرانی کے جھولے میں بیٹھے مزے لے رہے تھے لہذا وہ اپوزیشن کی پارٹی پی پی پی کے سر پر لٹکتی نیب کی دو دھاری تلوار کو ہٹانے پر رضا مند نہ ہوئے اُور یوں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں یہ معاملہ انجام تک نہ پہنچ پایا۔کئی سالوں کے بعد پانامہ لیکس ،ٹی ٹی ایز سکینڈل کیس،بے نامی اکائونٹس کیس اُور اس طرح کے دیگر کیسز کے کھل جانے پر نون لیگ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔مگر ’’اب پچھتائے کیا ہوت،جب چڑیاں چُگ گئی کھیت‘‘۔پی ٹی آئی کے سیاسی اکابرین نے پرانے تجربات کو مد نظر رکھتے ہوئے نیب اصلاحات کے معاملے کی نزاکت کو سمجھا اُوربرسر اقتدار آنے کے بعد فروری 2019ء میں سب اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ نیب ترامیم کے حوالے سے میٹنگز کیں۔ان میٹنگز میں وفاقی وزیر قانون ،ایاز صادق،نوید قمر،رانا ثناء اللہ،احسن اقبال سمیت کئی دیگر حکومتی و اپوزیشن ارکان اسمبلی نے شرکت کی ۔ان ملاقاتوں کا کوئی حتمی نتیجہ تو نہ نکل سکا مگر اس نکتہ پر سب سیاسی کھلاڑی رضامند تھے کہ نیب کے قوانین کو اصلاحات کے عمل سے گزارنا چاہیے اُور نیب کو تاجروں کے معاملات سے الگ کیا جائے۔ہاں! البتہ سرکاری ملازمین کو استثناء دینے سمیت بے شمار دوسرے معاملات پر حکومتی ارکان اُور اپوزیشن ارکان میں اختلاف تھا۔گزشتہ دنوں وزیر اعظم نے کابینہ سے بذریعہ سرکولیشن عجلت میں ایک نیب ترمیمی آرڈیننس منظور کروایا ۔اس آرڈیننس کے تحت اب نیب پچاس کروڑ سے زائد کی کرپشن پر کاروائی کر سکے گا،نیز ملزم کی جائیداد ضبط کرنے کے لیے عدالت کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔اگر تین ماہ کے اندر نیب تحقیقات مکمل نہیں کرتی توکسی بھی گرفتار شخص کو ضمانت کا حقدار سمجھا جائے گا ۔کسی بھی سرکاری ملازم کی محکمانہ کوتاہی پر نیب کاروائی نہیں کر سکے گا،البتہ مالی فائدہ اُٹھانے کی صورت میں نیب سرکاری ملازم کے خلاف کاروائی کرنے کا مجاز ہے۔آئی پی اوز،سٹاک ایکسچینج اُور ٹیکس کے معاملات اب نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں رہے بلکہ ایف بی آر،ایس ای سی پی اُور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو اس پر کاروائی کا اختیار مل گیا ہے۔پبلک آفس ہولڈر مالی بے ضابطگیوں پر نیب کو جوابدہ ہوں گے مگرپرائیویٹ لوگوں پر اس کا اطلاق نہیں ہو گا۔تاجروں اُور بیوروکریٹس کو یہ سہولت کیوں دی گئی ؟۔ا س سوال کا جواب یہ ہے کہ پاکستانی تاجر پچھلے کئی ماہ سے شدید تذبذب کا شکار تھا اُور نیب کی بے جا مڈاخلت کو معیشت کی خرابی کی وجہ بیان کر رہا تھا۔ چنانچہ اس حوالے سے کاروباری حلقوں سے وزیر اعظم عمران خان خود بھی کی ماہ سے مسلسل رابطے میں تھے اُور اس سلسلے میں بزنس کمیونٹی سے کئی میٹنگز بھی ہوئیں۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی تاجر برادری کے خدشات دُور کرنے کے لیے اُن کے وفد سے ملاقات کی۔دوسری جانب نیب کے احتسابی عمل سے تنگ بیوروکریٹس نے ذاتی خدشات کے پیش نظرحکومتی احکامات پر سست روہی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا تھا ۔حکومتی وزراء نے بیوروکریسی کے عدم تعاون پر وزیر اعظم سے کھل کر بات بھی کی۔جس کا نوٹس لیتے ہوئے عمران خان نے بیوروکریٹس سے ملاقاتیں کر کے اُن کے خدشات کے حل پر رضامندی ظاہر کی۔اس ترمیمی بل کی منظوری کے بعد کاروباری حلقے اُور سرکاری بیوروکریسی اپنی تاریخی کامیابی پر خوش ہیں۔ دونوں طبقے شروع دن سے کہتے تھے WE WILL GET AWAY WITH A SMILE ََ۔اب وقت نے ان کی بات کی تصدیق بھی کر دی ہے۔داد دینی چاہیے !تاجر برادری اُور بیوروکریسی کو ،جنہوں نے عمدہ منصوبہ بندی سے مضبوط عمران خان کے سب سے موثر بیانیے کو بدل دیا ہے۔عمران خان کا بیانیہ کیا تھا؟۔ وزیر اعظم عمران خان کا ماضی کا بیانیہ یہ تھا۔’’یہ سیاسی یتیم اُور ڈاکو سیاست دان ،پاکستان کی دولت اپنے وفادار سرکاری ملازمین کی فوج اُور ذاتی کاروباری دوستوں کی مدد سے لوٹ رہے ہیں۔ہم اقتدار میں آ کر اُن کو ساتھیوں سمیت جیلوں میں ڈالیں گے‘‘۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ آرڈیننس تاجر برادری اُور بیوروکریسی کے ساتھ ایک نیا NROہے؟؟۔کیا اب مالم جبہ کیس ختم سمجھا جائے؟؟۔ کیا اب 56کمپنیوں کا کیس فائلوں میںگُم ہو جائے گا؟؟۔کیا بی آر ٹی کیس کی فائل پرمٹی جم جائے گی؟؟۔کیادیگر کیسز بھی اپنے انجام تک پہنچے بغیر ختم ہو جائیں گے؟؟۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاست دان بیوروکریسی کے بغیر کرپشن نہیں کر سکتا ،لیکن ایک بیوروکریٹ ،سیاست دان کے بغیر کرپشن کر سکتا ہے۔مالی کرپشن ایک ٹرائیکا کا نام ہے،جس میں تاجر،بیوروکریٹ اُور سیاست دان شامل ہیںاگر ان تین میں سے دُو کو سائیڈ پر کر دیا جائے تو کیا ایک کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی؟؟۔لگتا ہے کہ عمران خان اب مافیاز میں بُری طرح پھنس چکے ہیں،اسی لیے اب وہ ہر جگہ مافیاز کی موجودگی کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ تاجر مافیا اُور بیوروکریسی مافیا کے ساتھ ایک شاندار این آر او کرنے کے بعد جلد آرہا ہے، ایک اُور NROَ ۔مگر اس بارNROہو گا،میڈیا مافیا کے ساتھ۔سوچیں!کیا اس بد صورت ملک کے نصیب میں NROہی مناسب ہے؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com