جامع جھنگ کتاب کے سنگ

ملک شفقت اللہ شفی
کتاب دوستی انسان کو معرفت الٰہی، اسرار خودی، اسرار بے خودی، فہم، فکر، تدبر، دانش، حوصلہ، صبر و استقلال جیسی تمام روحانی و دنیوی علوم سے سرفراز کرتی ہے۔ قوموں کے زوال و عروج میں قلم و قرطاس کا ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے۔ معروف اقوال زریں ہے کہ تم مجھے تعلیم یافتہ ماں دو میں تمہیں ترقی یافتہ معاشرہ دوں گا۔ آج جہاں دنیا میں برقی ترقی نے انسان کے ہاتھ سے تمام دستی اشیاء کو چھین کر برقی آلات تھما دیے ہیں وہیں قلم کاروں اور اساتذہ پر بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوئی ہے۔ اور میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ قلم قبیلے نے اس ذمہ داری کو بخوبی سنبھالا ہوا ہے۔ ماضی کی نسبت جس رفتار سے آج ادب کی اشاعت ہو رہی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ نوجوان طبقہ ہمیشہ کی طرح شاعری اور ادب کی ترویج کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے لیکن رہنمائی کے فقدان کی وجہ سے ان کی قابلیت یا تو زنگ آلود ہو کر جھڑ جائے گی، یا دیمک کھا جائے گی۔اس کیلئے استاذ ادیبوں اور شعراء کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو بھٹکنے سے بچانے کیلئے راہ نمائی دیں۔ راقم کی جائے ظہور جس قدر قدیم ضلع ہے اسی قدر پسماندہ بھی ہے۔ لیکن یہاں کی نوجواں نسل غلامی سے تنگ آمد جنگ آمد ہونے کے بعد کسی حد تک حکومتی توجہ جھنگ کی طرف مبذول کروا پائے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جھنگ میں بھی تعلیم و صحت اور بنیادی ضروریات کے شعبوں اور انفراسٹرکچر میں کافی حد تک ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ جھنگ میں یونیورسٹی کے قیام کیلئے بھی جھنگ ڈویژن بناؤ تحریک کے نوجوانوں کی بہت قربانیاں ہیں۔سربراہ جھنگ ڈویژن بناؤ تحریک اور کابینہ کی سیمینار میں موجودگی کے وقت عوامی سطح پر پروفیسر شاہد منیر، جھنگ ڈویژن بناؤ تحریک کے نوجوانوں کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کچھ یوں گویا ہوئے کہ” جھنگ اس وقت تک ڈویژن کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس میں یونیورسٹی کے طلباء و طالبات شامل نہیں ہوں گے”. سربراہ جھنگ ڈویژن بناؤ تحریک کو جامع جھنگ میں رابطہ مہم تیز کر دینی چاہئے۔ سب سے اہم بات یہ کہ جامع جھنگ کو رئیس الجامع ایک مضبوط، پرعزم اور بے باک پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر کی صورت میں ملی ہے۔ جو جھنگ کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ ڈاکٹر شاہد منیر اپنے مضمون کے علاوہ ادب کی ترویج و ترقی کیلئے بھی سر گرم نظر آتے ہیں۔ ان کی کتاب دوستی اس بات کی غماز ہے کہ ان کی تقاریر میں اردو زبان کی روانی اور لفظوں کا چناؤ خوبصورت رہتا ہے جو ان کے لہجے میں مٹھاس اور شخصیت کو دوبالا کرتا ہے۔ ایسی کئی خاصیتوں کی وجہ سے شیخ الجامع جھنگ نہ صرف عوام بلکہ سیاسی و انتظامی قیادت کے بھی ہر دلعزیز بن چکے ہیں۔ جامع جھنگ کی اتنے کم عرصے میں کامیابی کا راز بھی یہی ہے کہ ضلع بھر کی سیاسی و انتظامی قیادت شیخ الجامع کے شانہ بشانہ نظر آتی ہے۔ محض چھ ماہ کے مختصر عرصے میں جامع جھنگ کی طرف سے ایڈمیشن ایکسپو اور کتاب میلے کے انعقاد میں آرٹس کی دو دفعہ نمائشیں لگائی جا چکی ہیں، جس سے ملک بھر سے آئے مہمانوں نے سرزمین جھنگ کی قابلیت کو تسلیم کیا ہے۔ حالیہ کتاب میلہ 18 اور 19 نومبر کو لگایا گیا جس میں اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی ، لاہور، فیصل آباد اور جھنگ سمیت دیگر بڑے شہروں سے پبلشرز نے شرکت کی اور کتاب میلے میں عوام اور طلباء و طالبات کے مثبت ردعمل کو سراہا۔ اس کتاب میلے کا افتتاح ممبر قومی اسمبلی غلام بی بی بھروانہ نے کیا، جبکہ دونوں دن ممبر صوبائی اسمبلی جھنگ شہر معاویہ اعظم، ممبر صوبائی اسمبلی اسلم بھروانہ، ممبر صوبائی اسمبلی شورکوٹ کرنل غضنفر قریشی، ممبر صوبائی اسمبلی و ممبر سنڈیکیٹ کمیٹی جامع جھنگ ساجدہ بیگم ، سیکرٹری پی ایس سی خالد نواز، لاہور سے معروف ادیب، مصنف و صحافی مسعود انور و ضلع بھر کے نجی و سرکاری اداروں کی قیادت ، ضلعی انتظامیہ وی سی یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کیمپس ڈاکٹر فیاض اور دیگر فیکلٹی ممبرز نے بھرپور شرکت کی۔ کتاب میلے کے دونوں دن کتابوں کے اسٹالز پر خوب آمدورفت رہی اور کتاب دوست اپنی پیاس بجھاتے رہے۔ کتاب میلے کی افتتاحی تقریب کے موقع پر محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت اور روح رواں اکیس سے زائد کتب کے مصنف، شاعر، ادیب، محقق، مبصر، مزاح نگار اور بین الاقوامی شہرت یافتہ سرجن ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ تھے۔ مشاعرے کی سر پرستی خود وی سی جھنگ یونیورسٹی ڈاکٹر شاہد منیر نے کی۔ مشاعرے کے مہمان خصوصی ممبر صوبائی اسمبلی مہر اسلم بھروانہ، ممبر صوبائی اسمبلی خوشاب ساجدہ بیگم اور لاہور سے تشریف لائیں پروفیسر سعدیہ بشیر چوہدری تھیں۔ مشاعرے میں نظامت کے فرائض معروف ادیب، شاعر، تین کتابوں کے مصنف، خوبصورت نظم نگار، سہہ زبانوں کے شاعر عامر عبداللہ نے انجام دئیے۔ مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعراء میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج جھنگ کے شعبہ اردو کے سربراہ ڈاکٹر عمران ظفر، پروفیسر مختار حر اعوان، گورنمنٹ کامرس کالج جھنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر عاصم اعجاز ، انتظار باقی، لاہور سے رقیہ اکبر، ضلعی فرسٹ ایڈ آفیسر ہلال احمر مدثر حبیب جامی، کالم نگار، مبصر، محقق اور شاعر ملک شفقت اللہ شفی اور طالبہ ملائکہ محسن نے اپنا اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرے میں شاعروں کی جانب سے پیش کئے گئے کلام کا مختصر احوال یہ ہے:
نظم
کیا پیار دوبارہ ہوتا ہے؟
اعتبار دوبارہ ہوتا ہے؟
کیا دل کی کشتی سے وہ سمندر
پار دوبارہ ہوتا ہے؟
کیا وہ بھی یاد میں روتا ہے،
آنکھیں تو نہیں بتاتی ہے،
کیا شام کو یاد میں رو  رو کر
تیار دوبارہ ہوتا ہے؟
میرے دل کو تسلی دو یارو،
میں پوچھو جب تم سے یارو،
کیا پیار دوبارہ ہوتا ہے؟
تو تم بھی صفحے پے لکھ دینا
ہاں یار دوبارہ ہوتا ہے
ملائکہ محسن
۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کی جو خواہش ہے میں ویسا نہیں بنتا
سو مجھ سے قلم کار سے پیسہ نہیں بنتا
موسیٰ کیلئے خلق ہوا نیل وگرنہ
دنیا میں کہیں بھی کوئی دریا نہیں بنتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترا جہان محبت کا اب جہان نہیں
اسی لئے نئی دنیا بسانے والا ہوں
یہ میرے ہاتھ کے چھالے بتا رہے ہیں شفی
میں اپنے گھر میں اکیلا کمانے والا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی تو آنکھ لڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
نصیب کی یہ گھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
کھلیں گے پھول ہمارے چمن میں بھی اک روز
گھڑی یہ ہم پہ کڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
شب فراق مناؤں گا عمر ساری شفی
وصال رت کی گھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
ملک شفقت اللہ شفی
۔۔۔۔۔۔۔۔
رتجگوں کے عذاب اچھے ہیں
ہم اکیلے جناب اچھے ہیں
اک سڑک تک تو بنا نہیں پائے
میرے جھنگ کے نواب اچھے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خزاں پتے گرائے تو مجھے تم یاد کرنا
گلو کا دل دکھائے تو مجھے تم یاد کر لینا
میری گجرات کی سسی تجھے ملتان جانا ہے
کبھی جو جھنگ آئے تو مجھے تم یاد کر لینا
مدثر حبیب جامی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترے ہونٹوں کی جنبش کہہ رہی ہے
کہ میں تیری زباں تک آگیا ہوں
وہاں تک ہے مری اب حکمرانی
ترے اندر جہاں تک آگیا ہوں
پروفیسر عاصم اعجاز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ سفر عمر بھر نہیں ہوتے۔۔
عزم  ہوتا  ہے  پر  نہیں ہوتے۔۔
پانیوں کے سفر سے لوٹے ہیں۔۔
پاؤں خشکی پہ دھر نہیں ہوتے۔
ہم نے دیکھی ہیں ایسی دیواریں۔
درز ہوتی ہے در نہیں ہوتے۔۔
——————
اب تک رہ سفر کا حوالہ نہیں گیا۔۔
ناسور بن گیا ہے یہ چھالا نہیں گیا۔۔
مدت ہوئی گلی سے وہ گزرا تھا ایک بار۔۔
اب تک مری گلی سے اجالا نہیں گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو سر نوکِ سناں ہے وہ کہیں جاں تو نہیں۔۔۔
زیست مشکل ہے،مگر موت بھی موت بھی آساں تو نہیں۔۔
بس یونہی بند ہیں آنکھیں کہ مجھے نیند آئے۔۔
ورنہ اس رات کسی خواب کا امکاں تو نہیں۔۔
انتظار باقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک  آواز  نے جب  دروازہ  پار کیا
خاموشی کے ہونے کا  اقرار  کیا
تم نے دیکھا’صبح اداسی سے پھوٹی
اور چڑیا نے اک دکھ کو چہکار کیا
کھیتوں سے ویرانی کا ڈر چمٹ گیا
جب خوشوں نے ہونے کا اظہار کیا
میں نے رنگ سے پوچھا کھیلیں رنگولی
رنگ ذرا سا جھجھکا پھر  اقرار  کیا
عامر عبداللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہجر کی بات نہ کر شرف ملاقات بھی دیکھ
ضبط کی بات نہ کر صورت حالات بھی دیکھ
پیر کامل پہ یقین لانے سے پہلے پہلے
بند آنکھوں کو نہ رکھ کشف و کرامات بھی دیکھ
کچھ تو بخشش کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
میرے جذبات بھی دیکھ اپنے جوابات بھی دیکھ
پروفیسر مختار حر اعوان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرونا اور محبت میں ایک نسبت ہے
کہ ان کے آگے کسی کا نہ اختیار چلے
ڈاکٹر عمران ظفر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے کام کا جنوں تھا، تجھے دیکھنے سے پہلے
میں بہت پر سکوں تھا، تجھے دیکھنے سے پہلے
محسن میری عبادت سبھی رائیگاں گئی ہے
سجدے کسے کروں تھا، تجھے دیکھنے سے پہلے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اک درد کسی کا ہے کہ سونے نہیں دیتا
بے درد زمانہ ہے کہ رونے نہیں دیتا
یہ کیسی کسک ہے جو بیاں بھی نہیں ہوتی
وہ درد کو اشکوں سے بھی دھونے نہیں دیتا
یہ کیسی محبت ہے سمجھ میں نہیں آیا
ملتا بھی نہیں خود کو بھی کھونے نہیں دیتا
ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب میلے کے دونوں دن سیمینارز کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک بھر سے آئے معززین نے رئیس الجامع جھنگ ڈاکٹر شاہد منیر، ان کے فیکلٹی ممبرز اور مہتممین کی کتاب دوستی کی تعریف کرتے ہوئے کتابوں کی اہمیت اور ادب کی ترویج و ترقی پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اتنے کم وقت میں جس قدر یونیورسٹی آف جھنگ کامیابیاں سمیٹ رہی ہے اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ بلاشبہ آئندہ چند سالوں میں درس و تدریس کے افق پر ایک ستارہ بن کر چمکے گی۔ جس کیلئے یونیورسٹی کے رئیس ان کے فیکلٹی ممبرز اور سب سے زیادہ اس ذرخیز زمین کے قابل نوجوان طلباء و طالبات مبارکباد کے مستحق ہیں۔ سیاسی قیادت نے یونیورسٹی کی کامیابی کیلئے بہت سے نئے وعدے بھی کئے جن میں سے سب سے اہم میڈیکل کالج کے قیام کا وعدہ ہے۔ جس کا اعلان ایم پی اے شورکوٹ کرنل غضنفر قریشی اور ایم این اے غلام بی بی بھروانہ نے عوامی سطح پر کیا ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ سیاسی و انتظامی قیادت کو جامع جھنگ کی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی میں ہر طرح کے مفادات سے بڑھ کر حصہ لینا چاہئے اور اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ میڈیکل کالج کا قیام تو اپنی جگہ اہم ہے ہی مگر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے کیمپس کو بھی جامع جھنگ میں ضم کر دیا جائے اور یہاں موجود جدید ترین لیبارٹریوں اور قابل فیکلٹی ممبرز کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر فارمیسی اور دیگر شارٹ کورسز کا آغاز کیا جائے۔ یونیورسٹی کے اپنے بورڈ کے قیام کو بھی یقینی بنایا جائے۔ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور مشیر و وزیر کو جھنگ کی عوام کے سامنے بلا کر ان کے سامنے یونیورسٹی کے مسائل اور ان کے حل پر تبادلہ خیال کیا جائے۔ اور امید کرتا ہوں کہ میڈیکل کالج کے قیام کا سیاسی بیانیہ محض سیاہ سی نہیں بلکہ عملی ہوگا۔ ہر دو تقاریب کے اختتام پر شاعروں اور معززین کو اعزازی شیلڈز تقسیم کی گئیں۔جو کہ رئیس الجامع جھنگ کی مہمان نوازی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com