منیر احمدبھی چاہنے والوں کو غمگین کر گئے

کل جن کے ہونے سے ہرسوں بہار ہی بہار ہوا کرتی تھی، آج وہ
منیر احمدبھی چاہنے والوں کو غمگین کر گئے
آپ کی بے مثال ادبی اور مذہبی خدمات کو تاقیامت یادرکھا جائے گا

قدیم نقش نگاری رومی کندہ کاری کے حوالے سے
منیر احمد کی لکھی گئی”مسجد کے پھول“مقبول عام ہے


حبیب منیر
حاجی منیر احمد وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ساری عمر مساجد تعمیر کی پاکستان کا ایسا کوئی شہر ضلع نہیں جہاں پر آپ نے کوئی مسجد نہ بنائی ہو آپ قدیم نقش نگاری پرانی شاہی طرز و تعمیر کے ماہر تھے حاجی منیر احمد الحاج صوفی عمر دین کے ہاں 1950 میں پاکستان بننے کے تین سال بعد لاھور شہر کے گاؤں گوہاوہ میں پیدا ہوئے آپ کے آباؤ اجداد کا تعلق انڈیا پنجاب کے ضلع امرتسر دھُناں والا گاؤں سے تھا، حاجی منیر احمد نے دینی تعلیم سید طالب حسین گردیزی (مغلپورہ لاہور) سے حاصل کی زندگی کے سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے مسجدوں کا کام شروع کیا اور دنیا ء قدیم نگاری کندہ کاری میں ایسا نام کمایا کہ اپنی زندگی کے 55 برس اللہ کے گھروں کو بنانے کیلے وقف کردیے،کام کی لگن کیساتھ ساتھ انہوں نے قدیم نقش نگاری رومی کندہ کاری پر مسجد کے پھول کتاب بھی لکھی،اس کتاب میں پھول بوٹیاں ٹہنیاں محراب منڈلیں اور شاہی نقش نگاری کا عکس نکالا گیا مسجد کے پھول کتاب آیندہ نسلوں کے کاریگروں کیلئے شاہکار ثابت ہوگی، آپ کو دنیا آج بھی استاد مستری منیر احمد کے نام سے جانتی ہے۔ حاجی منیر احمد نے اپنے کام کے ایسے جوہر دیکھائے کہ ملک کے مختلف حصوں سے لوگ کام کروانے کیلے ان سے مہینوں پہلے ٹائم لیتے۔آپ نے ہزاروں مساجد کی بنیادیں رکھی اور قبلہ ٹھیک کیے انہوں نے ملک کی یادگار پرانی مساجد کے ترین و آرعیش بھی کی،آپ ان خوش قسمت انسانوں میں سے تھے جنہوں بابا معسود گنج شکر (پاکپتن شریف) کے مزار کا گنبد بنایا اور لاھور کے مقبرہ جہانگیر بادشاہ کی بھی تزئین و آرائش کی،آپ نے کوئٹہ پیشاور راولپنڈی چنیوٹ ملتان وہاڑی بہاولپور پنڈی گھیپ اور لاھور میں تاریخی مساجد بنائی، آپ نے مزہبی جزبہ کیساتھ سید طالب حسین شاہ گردیزی کے مدرسہ میں خدمات انجام دی اور ختم نبوت تحریک میں بھی حصہ لیا،نبی آخرلزماں ﷺنے مساجد بنانے کی تلقین کی حاجی منیر احمد نے حضور کے فرمان پر چلتے ہوئے لوگوں کو مساجد بنانے کی دعوت دی اور ساری زندگی مساجد کے کام کروانے پر لوگوں کو متوجہ کیا، آپ کے والد الحاج صوفی عمر دین جو علاقہ کی قدآور شخصیت تھے انہوں اپنے گاؤں گوہاوہ میں پہلی مسجد تیار کی،آپ انتہائی محنتی اور شفیق انسان تھے جنہوں نے ساری عمر فلاحی کام کئے اپنی آخرت کو سنوارتے ہوآپ نے ائیر پورٹ روڑ گوہاوہ رنگ روڈ نزدیک جگہ وقف کرتے ہوئے اللہ کا ایسا پیارا گھر بنایا جس میں ساری عمر کی قدیم نقش نگاری و کندہ کاری کا نچوڑ نکال کر رکھ دیا آج لوگ اس مسجد و مدرسہ نورِ مصطفی کو دیکھنے کیلے ملک کے مختلف حصوں سے آتے ہیں اور آپ کے کام کو سراہتے ہیں مسجد نور مصطفی کے منتظمین ان کے وارثین ہیں جو ان کے مشن کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں (بے شک جس نے دنیا میں اللہ کا گھر بنایا اللہ نے اس کا جنت میں گھر تعمیر کیا) بلآخر زندگی کا سفر سمیٹتے ہوئے حاجی منیر احمد 70برس کی عمر میں بروز جمعہ 2 جمادی الاولی 1442 ھ مورخہ 18 دسمبر 2020 (4پوہ 2077 ب) کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔تحریک لبیک سے پیار و محبت کا رشتہ ہونے کے ناطے حاجی منیر احمد کی نماز جنازہ تحریک لبیک کے نئے امیر حافظ سعد رضوی نے پڑھائی حافظ سعدرضوی نے اپنے والد علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ کے بعد یہ دوسرا جنازہ پڑھایا حاجی منیر احمد کو اپنے ہی مسجد و مدرسہ نور مصطفی کے احاطہ میں دفن کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com