پرویز مشرف سنگین غداری کیس اور اس کے اثرات

پرویز مشرف سنگین غداری کیس اور اس کے اثرات
ملکی تاریخ میں دسمبر نے ہمیشہ قوم کو وہ زخم دیئے ہیں جو کبھی مندمل نہیں ہو سکے ، سقوط ڈھاکہ ہو یا سانحہ پشاور ، جیسے ہی دسمبر آتا ہے ہر محب وطن پاکستانی کا دل خون کے آنسو رونا شروع ہو جاتا ہے، ابھی ہم سقوط ڈھاکہ کی یاد کو دل سے نہیں بھلا سکے تھے کہ کل ہماری عدلیہ نے عوام پر ایک اور بم گر ادیا ۔تاریخ شاہد ہے کہ سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے خلاف پانچ سال جاری رہنے والا یہ مقدمہ وہ پہلا موقع ہے جب پاکستان کے کسی فوجی حکمران پر آئین شکنی کے الزام میں سنگین غداری کا مقدمہ چلا ہو۔اس موقع پر ہر شخص کے ذہن میں یہ سوال موجودہے کہ مہنگائی، بدامنی اور سیاسی انارکی کے اس دور میں جہاں ہر ذی ہوش شخص کو وطن کی فکر کھائے جا رہی ہے اورجہاں ملکی کرپشن میں ملوث سابقہ ادوار کے مبینہ ملزمان کو ضمانتوں پر رہا کر دیا گیا ہے وہاں افواج پاکستان کے ایک سابق جنرل پر سنگین غداری کے تحت مقدمہ میں سزا سنائے جانے سے پاکستان کے سیاسی مستقبل پر اس فیصلے کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
2013ءکی بات ہے جب اس دور کے وزیراعظم نواز شریف نے 26 جون کو وزارت داخلہ کو خط لکھا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ وزارت داخلہ پرویز مشرف پرسنگین غداری کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم تشکیل دے۔وزیراعظم کے خط کی بنیاد پر وزارت داخلہ نے ایف آئی اے نے ٹیم تشکیل دی جس نے انکوائری کرکے وزارت داخلہ کو اپنی رپورٹ 16 نومبرکو جمع کرائی۔
انکوائری رپورٹ کے تناظر میں وزارت قانون کی مشاورت سے 13 دسمبر 2013 کو پرویز مشرف کے خلاف شکایت درج کرائی گئی، شکایت میں پرویز مشرف کے خلاف سب سے سنگین جرم متعدد مواقع پر آئین معطل کرنا تھا، سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ نومبر 2013 میں درج کیا تھا۔ یہ مقدمہ پرویز مشرف پر آرمی چیف کی حیثیت سے تین نومبر 2007ءکو ملک کا آئین معطل کر کے ایمرجنسی لگانے کے اقدام پر درج کیا گیا تھا۔خصوصی عدالت 20 نومبر 2013 کو قائم کی گئی جس نے 31 مارچ 2014 کو پرویز مشرف پر فرد جرم عائد کی اور 19 جون 2016ءکو انہیں کو مفرور قرار دیا۔2013ءکے بعد خصوصی عدالت کی چھ بار تشکیل نوکی گئی اور ججز بدلتے رہے۔ سابق صدر پرویز مشرف پر آئین توڑنے، ججز کو نظربند کرنے، آئین میں غیر قانونی ترمیم کرنے، بطور آرمی چیف آئین معطل کرنے اور غیر آئینی پی سی او جاری کرنے کے الزامات لگائے گئے۔خصوصی عدالت نے 24 دسمبر 2013 کو پرویز مشرف کو بطور ملزم طلب کیااور 31 مارچ 2014 کو سابق صدر پرفرد جرم عائد کردی گئی۔پرویز مشرف کی جانب سے صحت جرم کے انکار پر ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کیا گیا اور 18 ستمبر 2014 کو استغاثہ نے پرویز مشرف کے خلاف شہادتیں مکمل کیں اور اس کے بعد سابق صدر کو بطور ملزم بیان ریکارڈ کرانے کا کہا گیا۔ پھر ہوا یوں کہ پرویزمشرف کا بطورملزم بیان قلم بند نہ کیا جا سکا تھا، انہیں مسلسل عدم حاضری پر پہلے مفرور اور پھراشتہاری قرار دیا گیا۔یہ مقدمہ جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہرعالم میاں خیل اور جسٹس طاہرہ صفدر سمیت 7 ججوں نے سنا۔سنگین غداری کیس کی 6 سال میں 125 سے زائد سماعتیں ہوئیں ۔مارچ 2014 میں خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جب کہ ستمبر میں پراسیکیوشن کی جانب سے ثبوت فراہم کیے گئے تھے تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناع کے بعد خصوصی عدالت پرویز مشرف کے خلاف مزید سماعت نہیں کرسکی۔بعدازاں 2016 ءمیں عدالت کے حکم پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل ) سے نام نکالے جانے کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی خصوصی عدالت میں سماعت ہوئی جس کے دوران استغاثہ کی شریک ملزمان کے نام شامل کرنے کی درخواست عدالت نے مسترد کردی۔استغاثہ نے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر، سابق وزیر قانون زاہد حامدکو شریک ملزم بنانے کی درخواست دائر کی تھی۔خصوصی عدالت نے 28 نومبر کو اس کیس کا فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ رکوانے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔وزارت داخلہ کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر میں اسلام آباد کی خصوصی عدالت کو 28 نومبر کو کیس کا فیصلہ سنانے سے روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔درخواست میں وزارت داخلہ نے مو¿قف اپنایا کہ سنگین غداری کیس میں پرویزمشرف کے شریک ملزمان کو ٹرائل میں شامل ہی نہیں کیا گیا، پراسیکیوشن ٹیم کو 23 اکتوبر کودوبارہ نوٹس جاری کیا گیا مگر 24 اکتوبر کو اس نے بغیر اختیار کے مقدمہ کی پیروی کی۔تاہم، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کل سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مختصر فیصلہ سنا تے ہوئے سزائے موت کا حکم دے دیا ۔
دیکھا جائے تو کسی بھی فوجی آمر کے خلاف درج ہونے والا یہ پہلا مقدمہ نہیں ، تاریخ کے قاری کو مولوی تمیز الدین کیس یاد ہو گا جس میں
اس وقت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جسٹس منیر کی سربراہی میں نظریہ ضرورت کے تحت گورنر جنرل غلام محمد کی جانب سے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے فیصلے کی توثیق کی تھی۔یاد رہے کہ اکتوبر 1958 کے اس کیس کا فیصلہ بھی جسٹس منیر نے کیا تھا جس میں انھوں نے سکندر مرزا اور ایوب خان کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام کو دوبارہ ‘نظریہ ضرورت’ کے تحت درست قرار دیا۔ جسٹس منیر نے اپنی سوانح عمری ‘ہائے ویز اینڈ بائی ویز آف لائف’ میں بعد میں اعتراف کیا تھاکہ ان کے یہ دونوں فیصلے ملک کی بدقسمتی کے آغاز کا سبب بنے۔آئین پاکستان کی شق 6کا جائزہ لیا جائے تو اس ہمیں یہ معلوم ہو گا کہ کوئی بھی شخص جو طاقت کے استعمال سے یا دیگر غیر آئینی ذرائع سے دستور کی تنسیخ کرے، ، معطل کرے یا التوا میں رکھے وہ سنگین غداری کا مجرم ہو گا اور اس عمل کو کسی بھی عدالت کے ذریعے بشمول عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ جائز قرار نہیں دیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ مجلس شوریٰ(پارلیمنٹ)ایسے اشخاص کے لئے سزا مقرر کرے گی ۔ یاد رہے کہ یہ سزا جنرل مشرف کی جانب سے 1999ءمیں کی گئی فوجی بغاوت کے خلاف نہیں ہے بلکہ نومبر 2007 میں لگائی گئی ایمرجنسی کے خلاف ہے۔ جس سے نہ صرف افواج پاکستان کا وقار مجروح ہوا ہے بلکہ اقتدار کے سنگھاسن پر برا جمان ماضی اور حال کے تمام اہل دانش کی فاش غلطیاں سامنے آئی ہیںکہ سابق صدر پرویز مشرف کو کسی بھی آرٹیکل 6کی طرف متوجہ نہیں کیا تھا ۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ گو آئین پاکستان کی رو سے درست قرار دیا جا سکتا ہے مگر آرمی چیف کی تعیناتی جیسے اہم کیس میں اگر وقت کی رعایت دی گئی تھی تو اس معاملے میں بھی عدالت کونرمی اختیار کرنا ہو گی ۔ قانون سے کوئی بالا نہیں اور یہ وہی قانون ہے جو اہل سیاست اپنی اکثریت سے منظور کر کے قاضی حضرات کے ہاتھوں میں پکڑاتے ہیں جس کا اطلاق ہمیشہ کمزور اور غریب پر ہی ہو رہا ہے ۔ لیکن اس فیصلے سے نہ صرف لاکھوں پاکستانیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر موجود اہل فکر بھی کسی گہری سوچ میں غلطاں ہے کہ اب ہمارے ملکی حالات کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com