سید مبارک علی شمسی کی صراط مَودَّت۔۔۔۔۔ یسٰین ثاقب بلوچ

سید مبارک علی شمسی کا تعلق بھاول پور کی ادب پرور سرزمین سے ہے یہ وہ خطہء ارض ہے جہاں سے ہماری قومی زبان اْردو کی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں ترویج کی تحریک چلی صرف یہی نہیں بلکہ قیامِ پاکستان سے قبل بھی اردو ادب کی آبیاری اس خطہء ارض کا وصف خاص رہا ہے. یہاں ایسے ایسے مشاہیر ادب عالیہ کی پرورش و ارتقاء میں مصروف رہے ہیں جن پر اردو زبان بولنے والے ہمیشہ فخر و مباہات کے پھول نچھاور کرتے رہیں گے، اگر میں اس سر زمین کے بارے میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ:-

ہر دور کی تہذیب کے آثار یہاں ہیں
لگتا ہے کہ تہذیب کے معمار یہاں ہیں
عالم بھی تو شاعر بھی مفکر بھی یہاں ہیں
گویا کہ ہر اک رنگ کے فنکار یہاں ہیں

تاہم پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد نئی نسل کی کاوشیں مزید داد تحسین کی مستحق ہیں اس نئی نسل میں سے ایک فرد سید مبارک علی شمسی بھی ہے جو کہ بیک وقت ادیب، صحافی، نثر نگار، روحانی سکالر اور بے بدل شاعر ہے. اور میرا شاگرد خاص ہے. اگر سید مبارک علی شمسی کی شخصیت کو ہمہ جہت شخصیت کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی بلکہ حقیقت ہو گی، یہ بات سچ ہے کہ جب حق سبحانہ و تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی کو محبوب اور دوست رکھتا ہے تو جبریل بحکم خداوند تعالیٰ آسمانوں میں منادی کرتے ہیں اور ساکنین سماوات اس سے آگاہ ہوتے ہیں. بعد ازاں اس عالم علوی کا عکس عالم سفلی پر بھی پڑتا ہے اور جملہ جہاں اس بندہ کی قبولیت کا قائل ہو جاتا ہے، ایک جذبہء صادق رکھنے والے عاشق صادق کے دل سے نکلی ہوئی صدا فضاؤں کو مسخر کرتی ہوئی حد سدرہ سے پار کی رسائی حاصل کرتی ہے تو بلال حبشی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) جیسے عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آذان عرشیوں کو سنائی دیتی ہے. میرے سامنے سید مبارک علی شمسی کا نعتیہ مجموعہ “صراطِ مودت” ہے اس کو اگر میں سید مبارک علی شمسی کی عشقِ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) میں آذان مودت کہہ دوں تو یہ بات حق پر مبنی ہو گی، اس میں کوئی شک نہیں کہ خالقِ کن فکاں کا اصلی نام اللہ ہے باقی جتنے نام ہیں وہ خالقِ حقیقی کے صفاتی نام ہیں اور ان تمام صفاتی ناموں میں سے مرید وہ نام ہے جو تذکرہ محمد و آل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی وجہ سے پڑا ہے.
ارشادِ باری ہے کہ ” بیشک اللہ کا ارادہ ہے کہ اہلِ بیت اطہار (علیھم السلام) کو اس طرح رجس سے پاک رکھے جیسے پاک رکھنے کا حق ہے “. پھر اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ ” بیشک اللہ اور اس کے ملائکہ محمد و آل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر درود پڑھتے ہیں اے ایمان والو تم بھی محمد و آل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر درود بھیجو”.
قرآن پاک میں رب کائنات نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو مختلف القاب سے نواز کر شکل قرآن میں نعت گوئی کی ہے.گویا نعت گوئی سنت ربانی ہے.
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ وہ لوگ نہائیت ہی خوش قسمت ہیں کہ جو نعت کہتے ہیں یا نعت سننے کی سعادت مندی حاصل کرتے ہیں اگر نعت کے بارے بات کی جائے تو نعت صرف عروضی و قوافی کی پاسداری کا نام نہیں یہ دراصل پاکیزہ جذبوں اور برتر خیالات کا وہ اظہار ہوتا ہے جو پابند ادب ہے. یہ صرف مدح سرائی نہیں بلکہ ممدوح کے فضائل اور کمالات کو شعری پیرہن عطا کر دیا جائے اس کیلئے ممدوح خارج کا وجود نہیں ہوتا داخل کا مسند نشین ہوتا ہے. نعت گو خصائل و شمائل کے مطالعے پرشعر کی اساس نہیں رکھتا وہ پہلے ممدوح کو اپنے اندر محسوس کرتا ہے اور پھر داخلی جذبات کی عکاسی کرتا ہے. اس لئے کہا جاتا ہے کہ نعت میں ممدوح کی تصویر کشی نہیں ہوتی بلکہ اپنے اندر موجود ممدوح کا عکس ہوتا ہے. اس لئے نعتیہ شاعری زیادہ تر تصوف کے سایوں میں پلی ہے. سید مبارک علی شمسی چونکہ روحانی سکالر ہے اس لئے ان کا مزاج بھی تصوف کے تقاضوں میں رچا بسا ہے میں سمجھتا ہوں کہ نعت ان کا طبعی میلان ہے ایسا میلان جو منصب رسالت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی عظمت سے بھی آشنا ہے اور مدح سرائی کے قرینے بھی جانتا ہے اس لئے ان کی نعت کو ہر قاری ہر سامع اپنے دل کی آواز سمجھتا ہے. نعت میں مدح کا عنصر اساسی ہے مگر اس کی اثر آفرینی استعاروں سے عبارت ہے شاعر صرف شعر کہنے کا حق ہی ادا نہیں کر رہا ہوتا بلکہ وہ اظہار محبت کی پل صراط پر بھی گامزن ہوتا ہے. دل میں جذبات محبت کا خروش نہ ہو ادب آشنائی کا قرینہ نہ ہو اور پیشکش کا مودبانہ سلیقہ نہ ہو تو نعت مدحیہ شاعری بن جاتی ہے یہ جذبات کی سچی تصویر تب بنتی ہے جب روح کا گداز اظہار کے عجز میں نمودار ہوتا ہے. سید مبارک علی شمسی کا نعتیہ کلام اسی صداقت کا مظہر اور امین ہے ان کی ہر نعت قلبی صداقتوں کا مرقع ہے جو قاری و سامع کے ذہن کو مسلسل تازگی سے فیضیاب کرتی ہے. موصوف نعت کو نعت سمجھ کر کہتے ہیں یہ احساس ان کے ذہن پر طاری رہتا ہے کہ وہ کس کی ثناء رقم کر رہے ہیں، اس لئے ان کے یہاں ہر قدم پر احتیاط ملتی ہے اس لئے شان رسالت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے مضامین ان کے یہاں افراط و تفریق سے خالی اور تہذیب و ادب سے معمور ہیں. ان کی نعتوں میں اشتیاق اور نشاط حضوری کے مضامین کی کثرت ہے اور حاضری کے بعد دوبارہ دیدار و زیارت کی خواہش کا غلبہ ہے. اس لئے موصوف کی نعتیں عشق و عقیدت کی مہک سے معطر ہیں. خدا تعالیٰ نے سید مبارک علی شمسی کو گوناگوں خوبیوں سے نوازا ہے. کوئی بھی محفل ہو خواہ علمی ہو خواہ ادبی ہو، شاعری کی نشست ہو یا محفل مذاکرہ ہو قدرتی طور پر جیت کا سہرا شمسی صاحب کے سر رہتا ہے. موصوف نے جب بھی منقبت یا نعت کہی ہے تو وہ اس انداز سے کہی ہے کہ وہ خالصتا منقبت یا نعت ہوتی ہے نہ کہ اس میں حمد کا پیرایہ ہوتا ہے. ان کا خاصہ یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے کلام میں ذکر توحید کو مقدم رکھا ہے اور ذات باری تعالیٰ کے انعامات کو اپنی کامیابی سمجھا ہے. یہ بات ان کے ذہن و قلب پر عیاں ہے کہ وحدہ لا شریک کی مرضی کے بغیر پتے کا ہلنا بھی محال ہے. اور اسی لئے خالقِ کائنات نے وجہ تخلیق کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ” وما ینطق عن الہوای” کا مصداق ٹھہرایا ہے. سید مبارک علی شمسی کی روش عام شعراء سے مختلف ہے. موصوف کے یہ حمدیہ اشعار دیکھئے

جوہے دنیا میں آسرا میرا
لائقِ حمد ہے خدا میرا
بندگی ہو تو بس اسی کی ہو
زندگی کا ہے مدعا میرا
وہ جہاں میں ہے قادر مطلق
یہ ہے اعلان برملا میرا

شمسی صاحب کے مندرجہ بالا اشعار اس بات کے غماز ہیں کہ سید مبارک علی شمسی کا کلام شرک و بدعات سے منزہ اور مبرا ہے اس طرح شمسی صاحب کے یہ حمدیہ اشعار دیکھیں:.

کہکشاں ارض و سموات بنائے تو نے
لالہ زاروں پہ عجب رنگ دکھائے تو نے
تو ہے بے مثل نظر میں ہی نہیں آتا ہے
پر دیے نور کے دنیا میں جلائے تو نے
ابر پارے یہ فضائیں یہ ہوائیں چلتی
شش جہت اپنے کرشمے ہیں دکھائے تو نے

سیدمبارک علی شمسی کے مانگنے کا اسلوب بھی منفرد اور اعلیٰ ہے. اس نے جب بھی مانگا ہے ذات احد سے مانگا ہے. اور ہمیشہ موصوف کے دل کی دھڑکن سے کچھ یوں سدا آئی ہے کہ:.

خدایا کرم کی تو مجھ پہ نگاہ کر
پڑھوں نعت آقا کے روضے پہ جا کر
جو منظر ہیں غار حرا کے میں دیکھوں
خدایا میری اس جگہ تک رسا کر
صراطِ مودت میرے سامنے ہے
خدایا مجھے کامیابی عطا کر

سیدمبارک علی شمسی اس بات کا بھی بابانگ دہل اعلان کرتا ہے کہ آج وہ جو کچھ ہے رب کائنات کی کرم نوازی سے ہے وہ کہتا ہے کہ

ہم پہ خالق نے کرم جب سے ہی فرمایا ہے
ہم کو کچھ لفظ سجانے کا ہنر آیا ہے
ذکرِ احمد سے مہک اٹھیں میری تحریریں
میرے ہر لفظ میں خوشبو کا اثر آیا ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ قدیم شعراء کرام سے لے کر عصر حاضر کے شعرائے کرام کی ایک لاء منتہا فہرست ہے جنہوں نے سید المرسلین (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی ذات گرامی کو نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے. مگر سید مبارک علی شمسی کا انداز وہ ہے کہ سلام پڑھتے ہوئے قاری کی نظر باطنی کے سامنے شش جہات کی تصویر سامنے آ جاتی ہے اور ایمان کی تروتازگی کے ساتھ مودت حضور میں فرش سے عرش تک کا نظارہ کرتا ہے. جیسے ان کے یہ دو شعر ملاحظہ ہوں کہ:.-

سبز گنبد کے مکین تجھ پر سلام
ساری دنیا سے حسیں تجھ پر سلام
سنگریزے بھی مدینے کے لگیں
مجھ کو جنت کے نگیں تجھ پر سلام

سیدمبارک علی شمسی کے دل میں جو حسرت کی تڑپ ہے اس کی اپنی منفرد حیثیت ہے جس کو پڑھ کر ہر قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ اس کے دل کی بات ہے.گویا موصوف کی شاعری اہل مودت کے دلوں کی ترجمان شاعری ہے. اس ضمن میں موصوف کے یہ اشعار دیکھئے.

ہے دین مدینہ میرا ایمان مدینہ
ہیسانس مدینہ تو میری جان
جو گنبد خضری ہے وہ رہتا ہے نظر میں
اک بار بنا لے مجھے مہمان مدینہ
شک ہی نہیں لاتا ہوں تصور میں بھی اس کو
کر دیتا ہے منزل میری آسان مدینہ
شمسی جو سنے نام تو خوش ہوتا ہے مومن
ایمان کی پہچان ہے پہچان مدینہ

سیدمبارک علی شمسی نے نعت کے وسیلے سے نور اول کے مظاہر کو بڑی محنت اور احتیاط سے اشعار کے قالب میں ڈھالا ہے. وجہ تخلیق کائنات کے معجزات و کمالات کو تخلیق کے کینوس پر اس طرح رونما کیا ہے کہ حسن، تقدس اور رفعت کے سارے معیار بھی قائم رہیں اور مدحت کا حق بھی ادا ہو جائے، شاعر کا عقیدہ ہے کہ عشقِ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اس کی تخلیق کا محرک بھی ہے اور معیار بھی اس لئے کہ شاعر پیرایہ اظہار ثناء کی خیرات شاہ لولاک (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے مانگتا ہے. مثلاً یہ اشعار ملاحظہ ہوں کہ:-

خالق کا ہوا ہم پہ کرم دیکھیرہے ہیں
ہم دیدہ نم سوئے حرم دیکھ رہے ہیں
کوئی نہ ہوا آپ سا ہونا بھی نہیں ہے
تاریخ دو عالم کو بہم دیکھ رہے ہیں
وہ آپ کے عشاق کی جاگیر ہے شمسی
قرآن میں جو باغ ارم دیکھ رہے ہیں

سیدمبارک علی شمسی جب اپنی ذات سے ہٹ کر دیکھتا ہے تو اس کو سید المرسلین (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے احسانات کی چادر کے زیر سایہ پوری کائنات دکھائی دیتی ہے. وہ دیکھتا ہے کہ تاریخ بشریت نور خدا کے نور سے مستنیر ہے. علم و آگہی اور شعور و عرفان معلم اول کی عطا ہے ہر زمین اور زمانہ کی ہدایت کیلئے سراج منیر کی ضوفشانیاں عام ہیں آج بھی نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا ہر فرمان عالم انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے، آج بھی حرا کی روشنی سب سے دلکش روشنی اور فاران کی آواز سب سے دلگداز آواز ہے. آج بھی آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا خطبہ آخری عالمی منشور حیات ہے اور آج بھی معراج مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) بشری استعداد کیلئے ہدف اور چیلنج ہے. آج بھی ہجرت مدینہ معاشرت کے استحکام کی دلیل ہے. اور صلح حدیبیہ سیاست کی کامرانی کا منہ بولتا ثبوت ہے. سید مبارک علی شمسی حضرت خاتمی مرتبت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے اتباع کو زندگی کا وسیلہ سمجھتے ہیں اور رحمت دو عالم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو دنیا اور آخرت کی سرخروئی کا موجب گردانتے ہیں، اور ایسے میں بے ساختہ کہہ اٹھتے ہیں کہ:-

ہو بہو قرآن جن کا دہر میں کردار ہے
حضرتِ خیرالوری کونین کا سردار ہے
جوکہا خالق نے وہ ہے شکل میں قرآن کی
وہ حدیث پاک ہے جو آپ کی گفتار ہے
جو جھکا شمسی در سرکار مدنی پر اگر
ہو گیا دونوں جہاں میں اس کا بیڑا پار ہے

یہ بات ہر عاشق رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر عیاں ہے کہ کسی مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ جب تک حضور (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے محبت و مودت کے علاوہ آپ کے اہل بیت کرام سے مودت نہ کرے کیونکہ بقول ختمی مرتبت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) مودت اہلبیت رکھنا اجر رسالت ہے ہر مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ سراپا پیکر عصیاں ہونے کے باوجود اس کا شمار اہل ایمان میں ہو اور اہلِ ایمان ہونے کی شرط اول محمد و آل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے مودت ہے. یہ اہل ایمان کی خوش نصیبی ہے کہ مختلف فرقوں سے واسطہ رکھنے کے باوجود اس بات پر متفق ہیں کہ نعت کہنا اگر حصولِ ثواب ہے اور سعادت مندی ہے تو فضائل و مناقب اہل بیت (علیہم السلام) بیان کرنا بھی خوش بختی کی علامت ہے. کیونکہ تذکرہ اہل بیت (علیہم السلام) کرنا سنت نبوی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ہے. حضور (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کافرمان ذی شان ہے کہ “ذکر علی عبادہ”، “الحسن والحسین شباب اہل الجنہ” اور یہ بھی فرمایا کہ “فاطمہ بضعتہ منی” گویا وقتاً فوقتاً آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ذکر اہلبیت (علیہم السلام) اور شان اہلبیت (علیہم السلام) بیان کرنے کی ترغیب دی ہے. اسی کے پیشِ نظر سید مبارک علی شمسی کے یہ اشعار دیکھیں:-

ہم کو دولت نہ باغ ارم چاہئیے
یا نبی آپ کا بس کرم چاہیے
کوئی دنیاوی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com